عید کے بعد نیب جھاڑو پھیر دے گا،شیخ رشید

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور (جے ٹی این آن لائن نیوز ) عید بعد نیب جھاڑو

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ عید کے بعد نیب جھاڑو پھیر دے گا،

اپوزیشن اور حکومتی دونوں طرف سے گرفتاریاں ہوں گی، پوری دنیا میں ٹرینیں

چل رہی ہیں، پاکستان میں الٹ ہو رہا ہے، لوگوں نے عید تک 24 کروڑ کی ٹکٹیں

خرید لی ہیں۔شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا شہباز شریف اپنا سوفٹ

ویئر بدلے تو ہی بچ سکتا ہے، لاک ڈاؤن شہباز شریف کیلئے لاک اپ کا پروگرام

ہے، عمران خان کی کوئی اپوزیشن نہیں۔وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا نیب کے

قانون میں ترمیم کرنے سے پیغام جائے گا کہ ہم خوف زدہ ہیں، نیب قانون میں

ترمیم پر سپورٹ نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا جہاز اور بسوں کو اجازت دی گئی،

ریلوے چلانے کی اجازت نہیں ملی، دنیا بھر میں ریلوے سسٹم بحال ہے، سوموار

تک ٹرینیں چلانے کی اجازت دے دی جائے وگرنہ رش کنٹرول نہیں ہوگا۔شیخ

رشید احمد نے کہا ہے کہ ٹرین آپریشن کے حوالے سے ریلوے کے تمام ایس اوپی

تیار ہیں ہم کل ٹرین چلانے کیلئے تیار ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے

وزیراعظم پاکستان عمران خان، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور اسد عمر سے

بات کی ہے آپ جہاز اور بسیں چلا رہے ہیں لیکن ٹرین جو غریب کی خصوصی

کرونا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد3لاکھ3ہزار سے زائد

سواری ہے اس کونہیں چلا رہے ۔ عید کے دنوں میں ہم نے ٹرین آپریشن کو 15اپ

اور 15ڈاؤن کی ٹرینوں تک مخصوص کر دیا ہے اور نہ کوئی کرائے میں اضافہ

کیا ہے حالانکہ انڈیامیں 50،60فیصد بکنگ پر دو گُنا کرایہ وصول کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون سے پہلے لوگوں نے آن لائن بکنگ کیلئے تقریباً

24کروڑ روپے ہمارے اکاؤنٹ میں بھیج دیے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بڑا مسئلہ ہے کہ

اگر سومواریا منگل تک ٹرینیں نہیں چلتی تو ہم عید کے 15دن کے بعد یہ 24کروڑ

بغیر کسی کٹوتی کے ان مسافروں کو واپس کریں گے اور اگر منگل تک

وزیراعظم پاکستان ہمیں اجازت دے دیںتو ہم 24گھنٹے کے نوٹس پر ٹرین آپریشن

شروع کر دیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے

ساتھ ریلوے مزدورں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر چھٹی کے 2ماہ

میں1054 کوچز کو ٹھیک کیا ۔

عید بعد نیب جھاڑو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply