Ex Chief Ministers Omar Abdullah & Mehbooba Mufti Arrested By Indian Army at Kashmir

مقبوضہ کشمیر، سابق بھارت نواز وزرائے اعلی‌ٰ عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی گرفتار

Spread the love

سرینگر،جدہ، اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) عمر عبداللہ محبوبہ مفتی

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم

کرنے کے بعد اس اقدام کو غیر قانونی قرار دینے پر سابق بھارت نواز ریاست

مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی جنہیں

ایک روز قبل ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا تھا منگل کے روز گرفتار کر

لیا جبکہ یونیورسٹی کے امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں، دیگر نظر بند کئے

جانےوالے بھارت نواز رہنمائوں میں سجاد لون بھی شامل ہیں جبکہ حریت قیادت

پہلے ہی گرفتار اور گھروں میں نظر بند ہے۔ نظر بندی سے قبل مقبوضہ کشمیر

کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ریاست میں انٹرنیٹ و موبائل فون سروسز

بھی بند کی جارہی ہے۔ معلوم نہیں کیا ہونیوالا ہے؟ نظر بندی کے بعد اپنے ایک

ٹوئٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا یہ کتنا ظالمانہ رویہ ہے کہ ہم جیسے منتخب

نمائندوں کوجنہوں نے ہمیشہ امن کیلئے جدوجہد کی نظر بند کردیا گیا ہے۔

عمر عبداللہ محبوبہ مفتی

پڑھیں: آرٹیکل 370 کے خاتمے کے نتائج تباہ کن ہوںگے، محبوبہ مفتی

دنیا دیکھ رہی ہے کس طرح مقبوضہ کشمیر کے باشندوں اور ان کی آواز کوکچلا

جارہاہے، یہ وہ کشمیر ہے جس نے ایک سیکولر اور جمہوری انڈیا کا انتخاب کیا

تھا۔ اب کشمیر کو انتہائی ناقابل بیان رویے کا سامنے ہے۔ انڈیا کے لوگوں سے

بیدار ہونے کی اپیل کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کشمیر کے لوگو جاگ جائو۔ جموں و

کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حوالے سے سبھی مینسٹریم سیاسی

جماعتیں متحد ہیں۔ جموں وکشمیر کو جن حالات کا سامنا اس وقت درپیش ہے، ان

کے تناظر میں ہمیں ہر اس بات اور بیان سے دور رہنا ہوگا جس سے ہمارے اتحاد

کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے صورتحال پر پریشانی کا اظہار کرتے

ہوئے لکھا یہ رات بہت لمبی ہونے جا رہی ہے، پتا نہیں کل کیا ہونے والا ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنا خطرناک، منموہن سنگھ

دوسری جانب سرینگر میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

ہے جس میں انڈیا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے اگر مقبوضہ کشمیر کی

خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو سب مل کر مقابلہ کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش جارحیت تصور ہوگی۔

آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 میں کوئی تبدیلی قبول نہیں ہوگی۔ سابق وزیراعلیٰ

عمر عبد اللہ نے اپنے ٹوئٹ میں کشمیریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم نہیں

جانتے ہمارے ساتھ کیا ہونیوالا ہے لیکن میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں اللہ

قادر مطلق کی طرف سے جو بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے وہ ہمیشہ بہتر ہوتی

ہے۔ ہمیں شائد اللہ کی حکمتوں کو دیکھ نہ پائیں لیکن ہم کو ان میں شک نہیں کرنا

چاہئے۔ عمر عبداللہ محبوبہ مفتی

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا آرٹیکل 370 ختم کرنا جنگی جرم ، مشعال ملک

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین سید علی گیلانی نے حیدر پورہ میں

ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا اگر خدانخواستہ بھارت نے ہمارے

بنیادی حقوق اور تحریک آزادی کو بزور کچلنے کی کوئی بھی مذموم کوشش کی

تو ہمیں بحیثیت قوم ایک فیصلہ کن، صبر آزما جدوجہد اور کسی بھی صورتحال

سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اہل کشمیر کہیں بھی ہو وہ ظالموں کی اس مہم

جوئی کیخلاف اپنے مقدور کے مطابق مزاحمت کریں تاکہ دشمن کیلیے ہم ترنوالہ

نہ بن سکیں، اجلاس میں جموں کشمیر کی موجودہ ابتر اور گھمبیر صورتحال کو

زیرِ بحث لایا گیا۔ سید علی گیلانی کا کہنا تھا سچ ایسی مصنوعی بیساکھیوں کا

محتاج نہیں ہوتا۔ بھارت کے حکمرانوں کو تاریخ کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے اور

کسی تعصب، ضد، ہٹ دھرمی اور گھمنڈ کے بغیر اصل حقائق کو ذہن میں رکھ کر

بات کرنی چاہیے، کیونکہ جس ریاست کو وہ اپنے ملک کا اٹوٹ انگ کہتے تھکتے

نہیں اس کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کے لیے انہیں اپنے لاکھوں فوجیوں کو

24 گھنٹے الرٹ رکھنا پڑتا ہے۔

یہ بھی جانیئے: مقبوضہ کشمیر میں مزید 28 ہزار بھارتی فوجی تعینات

دوسری طرف ریاستی حکومت کی ایڈوائزری کے بعد وادی میں مقیم سیاحوں،

یاتریوں اور ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی مزدوروں نے وادی سے کوچ

کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وادی کے پیٹرول پمپوں کے باہر بدستوررش

ہے جبکہ اے ٹی ایم مشینوں کے باہر بھی قطاریں لگی رہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن

کے ایک نمائندے نے بتایا پہلگام اور گلمرگ کے علاوہ سونہ مرگ، یوسمرگ اور

سرینگر ہوٹلوں میں مقیم سیاحوں کو حکام کی جانب سے زبردستی نکالا گیا۔

جانیئے: مقبوضہ کشمیر، بھارتی فورسز کی بدترین دہشتگردی، 8 نوجوان شہید

قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے

ضلع کپواڑہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی جس کے

نتیجے میں مزید 7 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے تھے، دوسری جانب ضلع شوپیاں

میں سرچ آپریشن کے دوران گھر کے ملبے سے مزید 2 افراد کی لاشیں برآمد

ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز بھی قابض بھارتی فوج نے 2 الگ الگ واقعات میں سرچ

آپریشن کی آڑ میں 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا جو مقامی یونیورسٹی

کے طالب علم تھے۔ رات گئے بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی

ریڈ الرٹ جاری کردیا، سرینگر میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیونافذ، ہسپتالوں میں

ڈاکٹروں اور عملے کیلئے کرفیو پاسز جاری کرتے ہوئے پوری وادی میں انٹر نیٹ

اور موبائل فون سروس معطل کردی گئی ہے،

اسلامی تعاون تیظیم (او آٓئی سی) کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہارتشویش

ادھر اسلامی تعاون تیظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر

تشویش کا اظہار کیا ہے اور جاری بیان میں کہا ہے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج

کی اضافی نفری باعث تشویش ہے۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے

لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسکو

حل کیا جائے۔او آئی سی نے بھارتی فوج کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں

کے باعث ہونے والے جانی نقصان پر اورآزاد کشمیر کی سویلین آبادی پر کلسٹربم

کے استعمال پر شدید تشویش کیا ہے، سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ

علی اعجاز نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل کے چیف

سیکرٹری اور قائم مقام سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ موسٰی الطائر سے ملاقات

کی۔ ملاقات کا مقصد او آئی سی کوکشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے

ساتھ بھارتی جارحیت اور کلسٹر گولہ بارود کے استعمال سے بے گناہ شہری آبادی

کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے آگاہ کرنا تھا، راجہ علی اعجاز نے ڈاکٹر عبد اللہ

کو بتایا بھارتی فوج نے توپ خانے کے ذریعے کلسٹر گولہ بارود کا استعمال

کرکے وادی نیلم میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔

مزید جانیئے: بھارتی منصوبہ سامنے آنے پر پوری وادی لاک ڈائون،امریکی میڈیا

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی او آئی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ

مقبوضہ کشمیر میں گھمبیر ہوتی صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ وزیر خارجہ شاہ

محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد سے ٹیلی

فونک رابطہ کر کے کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی

صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے قبل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

کی زیر صدارت سابقہ سیکرٹریز کا ہنگامی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں کشمیر

میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا

اور بھارت کی نہتے کشمیریوں پر بڑھتی ہوئی جارحیت و انسانی حقوق کی سنگین

خلاف ورزیوں کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعدازاں وزیر اعظم

آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ

محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور خطے

میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عمر عبداللہ محبوبہ مفتی

Leave a Reply