imran-khan-donald-trump

عمران، ٹرمپ رابطہ، کرونا وباء، عالمی معیشت پراثرات، حل پر تبادلہ خیال

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن،اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) عمران ٹرمپ رابطہ

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں کرونا وائرس سے متعلق عالمی سطح پر پیدا ہوئی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا اعتراف، امریکہ کیخلاف عالمی عدالت جانا چاہیئے!
——————————————————————————

وائٹ ہاﺅس کے مطابق عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے رابطے کے دوران کرونا وائرس سے متعلق عالمی سطح پر پیدا ہونیوالی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔دفتر خارجہ نے وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطے پر کہا ہے کہ عمران خان نے کرونا کے باعث امریکہ میں ہلاکتوں پرافسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہوں نے کرونا کے عالمی معیشت پر اثرات اور اس کے حل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان کے مطابق عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک امریکہ تعلقات میں مزید بہتری پر بھی بات چیت کی۔

قوم نے ہر مشکل کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، وزیراعظم

وزیرِاعظم عمران خان سے سینیٹر فیصل جاوید نے ملاقات کی جس میں کرونا ریلیف فنڈ سے متعلق آج ہونیوالی ٹیلی تھون نشریات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم عمران خان نے ٹیلی تھون نشریات کے انعقاد کو سراہا، اور کہا کہ پاکستانی قوم نے ہر مشکل کا مقابلہ استقامت اور ثابت قدمی سے کیا ہے، مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستانی عوام نے اپنے بھائیوں کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے اب تک سامنے آنیوالا جذبہ نہایت حوصلہ افزاء ہے۔

راولپنڈی میں ہلال احمر پاکستان کے کرونا ہسپتال کا دورہ

راولپنڈی میں ہلال احمر پاکستان کے قائم کردہ کرونا ہسپتال کا بھی وزیراعظم عمران خان نے دورہ کیا۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر ظفر مرزا اور ممبر قومی اسمبلی عامر محمود کیانی بھی موجود تھے۔ چیئرمین ہلال احمر پاکستان ابرار الحق نے وزیراعظم کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہلال احمر کی جانب سے لیے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں وزیرِ اعظم نے ہسپتال میں کرونا مریضوں کیلئے قائم کیے گئے وارڈز کا بھی دورہ کیا اور سہولیات کا جائزہ لیا۔

معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق کی وزیراعظم سے ملاقات

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ جس میں انہوں نے وزارت اطلاعات کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم، خصوصاََ ماہ رمضان میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے، عوام کو ترغیب دینے سے متعلق مرتب کی جانیوالی حکمت عملی پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ معاون خصوصی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ماہ رمضان میں پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے تراویح براہ راست نشر کی جائیں گی، تاکہ لوگ گھروں میں رہ کر بھی عبادت سر انجام دے سکیں۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ علماء کرام کیساتھ طے پانیوالے20 نکاتی ایجنڈا کی تشہیر کا مناسب انتظام یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ نمازی مساجد میں از خود حفاظتی تدابیر اختیار کر سکیں۔

میڈیا ورکرز کا دوران کوریج تحفظ یقینی بنانے پر بات چیت

ملاقات میں کرونا وائرس کے تناظر میں میڈیا ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔ معاون خصوصی نے کرونا ہسپتالوں اور آیسولیشن مراکز کی کوریج کرنیوالے، میڈیا ورکرز کو حفاظتی کٹس اور حفاظتی لباس وغیرہ کی فراہمی سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے موثر عوامی آگاہی مہم کو یقینی بنایا جائے۔

جاوید آفریدی کا وزیراعظم سے ملٹی کارپوریشنز کھولنے کا مطالبہ

چیئرمین پشاور زلمی جاوید آفریدی نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں کرونا وائرس کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جاوید آفریدی نے کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں کاروباری برادری کو، درپیش مسائل اور صنعتی عمل کو رواں رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں، اور مطالبہ کیا کہ تمام احتیاطی تدابیر کیساتھ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کھولنے کی اجازت دی جائے۔

قارئین : خبر شیئر کریں ، اپڈیٹ رہنے کیلئے جتن آن لائن کو فالو کریں

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا، کہ حکومت کی جانب سے جن صنعتی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے، ان کے حوالے سے جامع ایس او پیز مرتب کیے گئے ہیں۔ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا حکومت اور صنعتکاروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں، وہاں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ممکنہ حد تک صنعتی عمل، کاروباری سرگرمیوں کی روانی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ مزدور اور سفید پوش عوام کی معاشی مشکلات میں کمی آئے۔ اس حوالے سے حکمت عملی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ حالات و واقعات کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

عمران ٹرمپ رابطہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply