علی گڑھ یونیورسٹی، کشمیری طلباء کا کھانے کی دعوت کا بائیکاٹ

Spread the love

علی گڑھ (جے ٹی این آن لان مانیٹرنگ ڈیسک) علی گڑھ یونیورسٹی

معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر

یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کیلئے دعوت کا اہتما م کیا لیکن کشمیری

طلباء نے شرکت سے انکار کر تے ہوئے دعوت کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ ہم

ایسی دعوت طعام کسی طور بھی قبول نہیں کر سکتے جو کشمیریوں کے زخموں

پر نمک پاشی کے مترادف ہو۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ

کی طرف سے گزشتہ روز کشمیری طلباء کیلئے نوٹس بورڈ پر دوپہر کے کھانے

کا دعوت نامہ لگایا گیا تھا لیکن تمام کشمیری طلباء نے دعوت کا بائیکاٹ کرتے

ہوئے ایک سر کلر جاری کیا جس میں انہوں نے بائیکاٹ کی وجوہات بیان کیں۔

مزید پڑھیں: کشمیر کی خصوصی حیثیت غیر آئینی طریقے سے ختم کی گئی، پریانکا گاندھی

کشمیری طلباء نے لنچ کا بائیکاٹ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ یہ دعوت

کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے لہذا وہ اسکا بائیکاٹ کرتے

ہیں۔ قبل ازیں علی گڑھ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے

ایک سرکلر میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی طالب علم دفعہ 370 سے متعلق کسی بھی

قسم کی بیان بازی اور احتجاج سے دور رہے، بصورت دیگر سخت کارروائی عمل

میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو برقرار،حریت رہنما گرفتار

یاد رہے مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم

کرنے کے بعد سے گزشتہ 11 روز سے مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے

اور وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں

پر مبنی پابندیوں کے باعت انہیں خوراک وادویات کی قلت کا سامنا ہے اورانسانی

المیہ رونما ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں

علی گڑھ یونیورسٹی

Leave a Reply