علماء کرام کا مساجد آج سے عام نمازیوں کیلیے کھولنے کا اعلان

Spread the love

کراچی ،فیصل آباد اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) پاکستان کے جید علمائے کرام نے اعلان کیا ہے کہ اب لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہوگا۔ باجماعت نماز، باجماعت تروایح اور باجماعت نماز جمعہ کا اہتمام کیا جائے گا۔مفتی منیب الرحمان کا کراچی میں مفتی تقی عثمانی، علامہ راشد سومرو، محمد حسین محنتی اور مولانا انس نورانی سمیت دیگر مختلف مکتبہ فکر کے علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کریں لیکن اپنے زمینی حقائق بھی دیکھیں،

اس لیے اب لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ تمام مساجد میں نماز باجماعت، نماز جمعہ اور رمضان المبارک میں نماز تراویح اور اعتکاف سمیت تمام عبادات کا سلسلہ جاری رہے گا تاہم جو بزرگ اور بیمار ہیں مسجد نہ آئیں، گھر پر عبادت کریں۔ امام کا کام یہ نہیں کہ لوگوں کو نماز ادا کرنے سے روکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تین ماہ کے لئے مساجد اور دینی اداروں کے بل معاف کئے جائیں۔ ریاست پورے ملک کے مسلمانوں کی مدد اور کفالت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی میل جول کا مسئلہ تو سب جگہ ہے لیکن میڈیا نے مسجد کو نشانہ بنایا، یہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ آج سے تمام مساجد میں باجماعت نماز ادا کی جائیگی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ پوری قوم متحد ہوکر اپنی خدمات انجام دے۔ احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رہیں اور باجماعت نماز جاری رہے۔ معمر اور جو لوگ بیمار یا وائرس سے متاثر ہیں وہ مساجد میں نہ آئیں۔ مساجد سے قالین ہٹا کر جراثیم کش ادویات سپرے کیا جائے۔

مساجد کے دروازوں پر سینی ٹائزر لگانے کا اہتمام کیا جائے۔ باجماعت نماز کے دوران صفوں میں فاصلہ ہو۔ وضو گھر سے کرکے آئی اور اور سنتیں بھی گھر پر پڑھیں۔دریں اثنا سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پراہلسنّت کے جید مفتیان کرام اور شیوخ الحدیث نے اپنے اٹھارہ صفحات پر مشتمل تفصیلی اجتماعی شرعی اعلامیہ میں قرار دیا ہے کہ رمضان المبارک میں جبراََ نمازیوں کی تعداد مختص کی گئی تو بھر پور مزاحمت کی جائیگی۔

مسلمانوں کو مسجد جانے سے جبراََ روکنا اور مسجد میں نمازیوں کی تعداد مختص کرنا غیر شرعی عمل ہے۔نماز تراویح کی ادائیگی قیام اللیل او ر تلاوت قرآن، نماز تراویح سے وبا سے نجات حاصل ہوگی۔باجماعت نماز پنجگانہ کی ادائیگی واجب ہے، شرعی یا طبعی رخصت کے علاوہ ہر صورت باجماعت نماز ادا کی جائیگی۔صحت مند نمازی کو مسجدسے نکالنا غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر شرعی عمل ہے، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔نماز جمعہ فرض عین اور شعائر اسلام سے ہے، مسلمان اس کی فرضیت کا انکار نہیں کرسکتا۔

اس کا ثبوت بھی قطعی ہے اور اس کے لزوم پر دلالت بھی قطعی ہے۔کرونا وائرس ایک متعددی اور مہلک بیماری ہے اور اس سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ اقراد ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اورچونکہ حفاظت جان مقاصد شریعت میں سے ہے لہٰذا متعددی ، مہلک مرض والے اور موذی کو ایذا کی وجہ سے مسجد جانے سے روکنا جائز ہے۔ متعدی مہلک مرض والے کو اندیشہ مرض اور پیاز کھانے والے کو بدبو کی وجہ سے روکنا اذن عام میں منحل نہیں ہے لہذا انسانی جان کے تحفظ کے لیے موجودہ حالات میں حکومت کا جمعہ کی ادائیگی کے لیے چار ، پانچ سے زیادہ افراد کو روکنا اذن عام میں خلل کا باعت نہیں بنے گا۔

اذن عام کی بحث میں مذکور فقہی ، جزئیات اور مسلم فقہی قواعد سے جوبات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ دشمن، موذی، مہلک مرض میں مبتلا شخص کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا جائے گا اور نمازیوں کو ہرگز نہیں روکا جائے گا اور اگر روکا گیا تو اذن عام نہ پائے جانے کی وجہ سے جمعہ کا انعقاد نہ ہوگا۔پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ ہے اور حکومتی اعلانات کے باعت چند ہزار لوگ اس کرونا وائرس میں مبتلا ہیں جن میں اکثریت کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔

علماء اہلسنّت کے پہلے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق واضح طور پر کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں مریض، زیادہ بوڑھے ، بیمار اور بچے مساجد میں نہ آئیں۔جس شخص پر کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتی اس پر مسجد کے دروازے بند نہیں کیے جاسکتے۔محض ظنی اور وہمی چیزوں پرانتہائی کمزور بنیاد رکھ کر شعائر اللہ، فرائض وواجبات کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے۔

فتویٰ میں مزید کہا گیا کو کچھ دین بے زار عناصر مساجد کی مکمل تالہ بندی اور وہاں لوگوں کی نماز کے درپے ہیں جبکہ گزشتہ تین ہفتوں سے جو چیزیں مشاہدے میں آرہی ہیںوہ حکومتی پابندیوں کو یکسر نظر اندازکرتی دکھائی ہیں جیسا کہ بازاروں، منڈیوں،راشن کی تقسیم، احساس ایمرجنسی کیش پروگرام، سپر سٹورز، سبزی ، پھل، دودھ کی دوکانوں اور بینکوں میں لوگوں کا ہجوم ہے۔

وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کی میٹنگز و پریس کانفرنسوں میں بیسیوں لوگ موجود ہیں۔اگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد پر سے عائد پابندی اٹھا لی جائے تو قوم اس مشکل گھڑی سے نکل سکتی ہے۔محکمہ اوقاف نے رمضان المبارک سے بیس دن پہلے جو اعلامیہ جاری کیا وہ دیندار طبقے کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

Leave a Reply