Alama Syed Zamir Akhtar Naqvi1

ایک روشن ستارہ ہوا غروب، علامہ سید ضمیر اختر نقوی وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی (جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر) علامہ ضمیر اختر نقوی

معروف مذہبی سکالرشیعہ عالم دین علامہ سید ضمیر اختر نقوی کو سیکڑوں

سوگواروں کی موجودگی میں وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ قبل

ازیں ان کی نمازجنازہ بعد نماز مغربین امام بارگاہ انچولی میں علامہ خورشید

عابد نقوی کی امامت میں ادا کی گئی، نمازجنازہ میں مرحوم کے اہلخانہ، عزیز و

اقارب، علماء کرام، ذاکرین سمیت مختلف سیاسی سماجی شخصیات، عقیدتمندوں،

مختلف مکاتب فکر کے افراد اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال میں دوران علاج خالق حقیقی سے جا ملے
——————————————————————-

علامہ سید ضمیر اختر نقوی اتوار کی صبح دل کے دورے کے باعث 76 برس

کی عمرمیں انتقال کر گئے تھے۔ طبیعت کی خرابی کے باعث انہیں گزشتہ شب

نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں علاج کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا۔ ان کے

قریبی رفقا اور معالج کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کا انتقال حرکتِ قلب بند

ہونے کے باعث ہوا۔ معروف سکالر علامہ سید ضمیر اختر نقوی کی دینی اور

ملی خدمات کا ملکی و بین الاقوامی سطح پراعتراف کیا گیا جاتا تھا-

مشہور عالمِ دین، خطیب اور 40 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے

مشہور عالمِ دین اورخطیب ہونے کیساتھ 40 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔

علامہ ضمیر اختر نقوی مذہبی درس و تدریس کے ساتھ ساتھ شاعری، مرثیہ

نگاری اور اردو ادب کی دیگر اصناف پر عبور رکھتے تھے جس پر ان کی

قابلیت و صلاحیت کا اندازہ ان کی کتب کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں مجالس عزا میں واقعہ کربلا مخصوص و مدلل اندازمیں بیان

آپ 1944ء میں بھارت کے تاریخی شہر لکھن میں سید ظہیر حسن نقوی کے

گھر پیدا ہوئے۔ دینی تعلیم کیساتھ ساتھ اردو اور عربی زبان پر عبور حاصل کیا-

علامہ ضمیر اختر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مجالس عزا میں واقعہ کربلا اپنے

مخصوص اورمدلل اندازمیں بیان کرتے تھے۔ محرم الحرام کے دوران بھی

انہوں نے عشرہ اولیٰ انچولی سوسائٹی ہی میں پڑھا تھا۔ وہ اہل خانہ کیساتھ

1967ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور پھر مستقل طور پر کراچی میں

سکونت اختیار کرلی۔

بلاول بھٹو سمیت اہم مذہبی سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہار افسوس
———————————————————————

پیپلز پارتٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو گورنر سندھ عمران اسماعیل نے علامہ

ضمیر اختر نقوی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت

اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ،

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، صوبائی وزراء سید ناصرحسین

شاہ، سعید غنی، شہلارضا، وزیراعلی سندھ کے مشیر وقارمہدی دیگر نے بھی

ان کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

معروف عالم دین علامہ طالب جوہری رضویہ سوسائٹی کراچی میں سپرد خاک
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

علامہ ضمیر اختر نقوی نے شہزادہ قاسم ابنِ حسنؑ ؐ کی سیرت پر دو جلدیں تحریر

کیں، اپنے حلقہ اثر میں وہ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ سوشل

میڈیا پر ان کا مذاق اڑایا جاتا جس کی وجہ ان کی دھان پان سی صحت تھی۔ علامہ

ضمیر اختر نقوی نے جون 2020ء میں جب کرونا کی وبا اپنے عروج پر تھی اپنے

ایک ویڈیو بیان میں دعوی کیا تھا کہ انہوں نے کرونا کا علاج دریافت کر لیا ہے

اور وہ کسی کو بتائیں گے نہیں ویڈیو بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ علاج

صرف اس صورت میں بتائیں گے جب کوئی حکومتی عہدار ان سے اس سلسلہ

میں رابطہ کرے گا۔ ان کی اس ویڈیو کو سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں حلقوں میں

بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور قریب مہینہ بھر سے زیادہ یہ ویڈیو موضوع سخن

بنی رہی۔ ان کی اس ویڈیو نے ٹک ٹاک پر بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔

دیگر شیعہ علما کی طرح علامہ ضمیر اختر نقوی کو بھی فلسفہ و منطق پر ید

طولیٰ حاصل تھا اور تاریخ پر ان کا کام مقتدر حلقوں میں بہت سراہا جاتا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply