علامہ اقبالٌ، مولانا رومیٌ نے محبت و بھائی چارے کا درس دیا، علی ایرباش
Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) علامہ اقبالٌ، مولانا رومیٌ

برادر اسلامی ملک ترکی کے وزیر مذہبی امور پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے کہا

ہے کہ علامہ اقبالٌ اور مولانا جلال الدین رومیٌ نے اپنے کلام کے ذریعے محبت و

بھائی چارے کا درس دیا، دونوں مفکرین نے اناطولیہ سے لاہور تک لوگوں کے

دلوں کو جوڑا، نئی نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے روشناس کرانا وقت کی

اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام

مولانا جلال الدین رومیٌ اور علامہ اقبالٌ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

کرتے ہوئے کیا۔

مولانا جلال الدین رومیٌ عاشق قرآن تھے ، ترک وزیر مذہبی امور

اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، صوبائی وزیر اوقاف

صاحبزادہ سعید الحسن شاہ، جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر

اصغر زیدی، چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی سمیت اہل دانش

کی کثیر تعداد موجود تھی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر مذہبی امور

پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے مزید کہا علامہ اقبالٌ اور مولانا جلال الدین رومیٌ

نے اسلام کی حکمت و تہذیب کو دنیا میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا- اس تہذیب

میں دوستی ہے لڑائی نہیں، اتحاد ہے تقسیم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا جلال الدین

رومیٌ عاشق قرآن تھے آپ کہتے تھے جب تک میرے جسم میں روح ہے قرآن کا

وفادار ہوں-

علامہ اقبالٌ مولانا رومیٌ کو مرشد مانتے تھے، پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش

علامہ اقبالٌ، مولانا رومیٌ
انہوں نے کہا مولانا کے مطابق اگرلوگ اللہ کی طرف نہیں آئیں گے تو سونے اور

چاندی کی طرف رجوع کریں گے۔ مولانا جلال الدین رومیٌ لوگوں کو اسلام کی

اصل روح کی ہدایت کرتے تھے، مولانا کے مطابق چیونٹیوں سے لیکر بادلوں تک

ہر چیز اللہ کی نشانیاں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے کہا کہ علامہ اقبالٌ

مولانا جلال الدین رومیٌ کو اپنا مرشد مانتے تھے، انہوں نے مولانا جلال الدین

رومیٌ کو بہتر طورپر سمجھا اسی لیے علامہ اقبالٌ کو رومی عصر سمجھا جاتا

ہے، دونوں ہستیوں کے درمیان 6 صدیوں کا سفر ہے لیکن حالات دونوں کے ایک

جیسے تھے، مولانا کے دور میں اناطولیہ کیخلاف تمام عیسائی اکٹھے تھے جبکہ

علامہ اقبالٌ نے انگریزوں کا سخت ترین دور دیکھا-

=-= پاکستان بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

علامہ اقبالٌ، مولانا رومیٌ

علامہ اقبالٌ نے خواب غفلت میں پڑے مسلمانوں کو بیدار کیا، مولاناٌ مسلمانوں کو

مرد حق جبکہ علامہ اقبال ٌمرد مومن کہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دو مفکرین کی

دنیا میں محبت سب سے بڑھ کر ہے، اب ہمارا فرض ہے کہ دونوں مفکرین کی

محبت کو دلوں کی گہرائیوں میں رکھیں اور انہیں پڑھ کر عمل کریں۔

جب تک مولانا رومیٌ کو پڑھایا جاتا رہا ہم صحیح نہج پر رہے، نورالحق قادری

علامہ اقبالٌ، مولانا رومیٌ

قبل ازیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق

قادری نے کہا کہ علامہ اقبالٌ اور جلال الدین رومیٌ کا زمانہ الگ الگ ہے، لیکن

لگتا ہے کہ دونوں ایک زمانے میں پلے اور حقیقی بھائی ہیں، دونوں نے دنیا کو

میانہ روی کی تعلیم دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ ہمارے دینی مدارس

میں جلال الدین رومیٌ اور شیخ سعدیٌ کو پڑھایا جاتا تھا جب تک مولانا رومیٌ کو

پڑھایا جاتا رہا تب تک ہم صحیح نہج پر تھے، بعد میں دونوں کو پڑھنا چھوڑ کر ہم

انتہا کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالٌ پر ہم نے کفر کے فتوے

دیے، لیکن علامہ اقبالٌ نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ میرے فقروں کے علاوہ

جمعہ مکمل نہیں ہو گا۔ سیمینار سے صاحبزادہ سلطان احمد علی، پروفیسر ڈاکٹر

اصغر علی زیدی، پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

علامہ اقبالٌ، مولانا رومیٌ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: