عدالت عظمیٰ میں ای کورٹ سسٹم کا آغاز، سائلین کے25لاکھ روپے بچ گئے ، چیف جسٹس

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ میں ای کورٹ سسٹم کے تحت باضابطہ

مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوگیا ، اس طرح پاکستان کی عدالت عظمی ای کورٹ

سسٹم رکھنے والی دنیا کی پہلی سپریم کورٹ بن گئی ہے۔چیف جسٹس پاکستان

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ویڈیو لنک پر کراچی میں موجود وکلا کو مبارک باد

دی، انہوں نے کہا کہ آج عدالتی تاریخ میں نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں، ہم آج

سستے اور فوری انصاف کی آئینی ذمہ داری کی جانب اہم قدم اٹھارہے ہیں، وکلا

کے تعاون سے ہم نئی چیز کرنے جا رہے ہیں، دنیا کی کسی سپریم کورٹ میں ای

کورٹ سسٹم موجود نہیں،ای کورٹ سسٹم سے سائلین کے وقت اور پیسے کی بچت

ہوگی، آئی ٹی کمیٹی کے انچارج جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منصورعلی شاہ

مبارک باد کے مستحق ہیں،چیئرمین اور ڈی جی نادرا نے دن رات محنت کرکے

اس سسٹم کو ممکن بنایا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی

سربراہی میں تین رکنی بینچ ملکی تاریخ میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے

مقدمات کی سماعت کر رہا ہے اور اعلیٰ عدالت کو 4 مقدمات کی سماعت بذریعہ

ویڈیو لنک کرنا ہے۔ابتدائی طور پر ای مقدمات کی سہولت اسلام آباد ہائیکورٹ اور

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے لیے دستیاب ہے۔چیف جسٹس آصف سعید

کھوسہ نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر

عالم کو خراج تحسین پیش کیا اور چیئرمین نادرا اور ڈی جی کی کاوشوں کو بھی

سراہا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم

ہے، ‘ای’ کورٹ سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا،جسٹس آصف

کھوسہ نے کہا ای کورٹ سسٹم سے آج کے دن سائلین کے20 سے25 لاکھ بچ

گئے، وکلا بزنس کلاس میں سفرکرتے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں،

سائلین کے خرچ پر وکلا اسلام آباد میں کھانے بھی کھاتے ہیں دنیا بھر میں پاکستان

کی سپریم کورٹ میں ہی ‘ای’ کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔چیف جسٹس

پاکستان کا کہنا تھا کہ ‘ای’ کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، اس

سسٹم کو پورے پاکستان تک پھیلائیں گے اور اگلے مرحلے میں کوئٹہ رجسٹری

میں ای کورٹ سسٹم شروع کریں گے۔

Leave a Reply