aik foji khani jtnonline3

. . ۔ . . بڑی ہی عجیب قسم کی فوج تھی . . ۔ . . قسط نمبر 3

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عجیب قسم کی فوج

پاکستان کے دفاع میں دیوانگی کی حدوں سے آگے کی پاگل فوج جو جانیں دے

رہی تھی جس کے تابوتوں میں پوری لاشیں تک نہیں جاتی تھیں بلکہ ٹکڑے

فضاؤں میں بکھر جاتے تھے

غرض دس دن مہمانوں والا سلوک ہوتا رہا اور ایک نیا زخم لے کے اپنے گاؤں

سے لورا لائی کی طرف روانہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : عید کے دن عجیب قسم کا حادثہ ” ہمارا کوئی نہیں ہوتا
——————————————————————–

اچانک سندھ کے ایک علاقے میں ہمیں ریسکیو کرنے کے آرڈر ملے جہاں سیلاب

تباہی مچا رہا تھا

ہم وہاں پہنچے تو لوگ ایک اونچے روڈ پہ محصور ہو چکے تھے جنکی تعداد

بہت ہی زیادہ تھی

ہم نے کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان کو نکالا

وہاں میں نے دیکھا کہ ہمارے علاوہ کوئی انکا پرسان حال نہ تھا
—————————————————————-

پھر مجھے اندازہ ہوا کہ تنخواہ تو ہم بارڈرز پہ دفاع کی لیتے تھے پر کام پولیس

اور ریسکیو اداروں کا بھی کرتے تھے

اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہم غازیوں سے انسانوں کی خدمت کا کام بھی لیا

یہ سب کچھ ہو رہا تھا پر ساتھ ساتھ میرے چھوٹے بھائی کے مجھے پاگل فوجی

کہنے والے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے

بجٹ پہ اس نے ایسے بات کی تھی جیسے سارا بجٹ ہم کھاجاتے ہوں حالانکہ

اتنے سال ہو گئے تھے فوج میں نوکری کرتے اور گھر کو سمبھالتے لیکن میں

اپنا گھر بنا سکا تھا نہ معاشی طور پہ شادی کے قابل ہوا تھا، فوج کی اس تنخواہ

میں۔

میرے بھائی یا دوستوں کو اتنا تو پتہ تھا کہ ہم جب کشمیر میں انڈیا کی آرٹلری

کے جواب میں گولے فائر کرتے تھے تو ایک گولہ کتنے کا آتا تھا پر وہ بات

ہزاروں ٹینکوں، لڑاکا ہوائی اور بحری جہازوں، ایٹم بموں اور پتہ نہیں کون

کونسی خفیہ چیزوں کے بجٹ پہ کرتے تھے۔

میں ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اچانک ہمارا قافلہ رک گیا۔
—————————————————————

لورالائی کے راستے سے پہلے کراچی سے کوئٹہ جانےوالی بس ایک آئل ٹینکر

سے ہولناک تصادم کا شکار ہو چکی تھی

ہم جائے وقوعہ پہ پہنچے تو تمام مسافر جل چکے تھے اور ارد گرد کے لوگ

جمع ہو کے بجائے آگ بجھانے کے یا مدد کرنے کے موبائلوں سے ویڈیو بنانے

میں مصروف تھے اور اس منظر سے لطف اندوز ہو کے مختلف تبصرے کر

رہے تھے

ہمیں کمانڈنٹ نے حکم دیا اور ہم نے آگ بجھا کے تمام جھلسے ہوئے مسافروں کو

ہسپتال پہنچا دیا۔

ہمیں بہت دیر ہو چکی تھی

ہم لوراالائی روانہ ہوئے تو ہمارے کمانڈنٹ نے راستے پہ ایک جگہ ایف سی کی

یونٹ کے پاس رات گزارنے کیلئے رابطہ کیا

ہم اس یونٹ کی طرف جا رہے تھے

اچانک ہمارا ان سے رابطہ ختم ہو گیا
——————————————–

ہمارے کمانڈنٹ کیلئے حالات غیر متوقع ہو چکے تھے

ایک گھنٹہ بعد ہم جب اس یونٹ میں پہنچے تو سب سو رہے تھے لیکن رات کی

تاریکی میں ان سب کے منہ میں کچھ موجود تھا جو کسی نے زبردستی ٹھونسا

ہوا تھا۔

دو سو بندوں کے باوجود ہم نے ان میں جب کوئی حرکت محسوس نہ کی اور

کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آیا تو کمانڈنٹ کی چھٹی حس بیدار ہو گئی اور ہماری

رگوں میں ایک عجیب سی پر اسراریت دوڑ گئی

تمام لوگوں کو چیک کیا گیا

روشنیاں ڈالی گئیں تو پتہ چلا کہ پوری کی پوری یونٹ ذبح ہو چکی تھی اور ان

کے عضوِ تناسل ( penis ) کو کاٹ کے دہشت گرد ان کے منہ میں ٹھونس گئے

تھے

یہ میری زندگی کی سب سے ہولناک چنگیزی قسم کے ظلم کی واردات تھی۔

اس دن میرے لاشعور میں پاکستان دشمنوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے

ہمدردیاں ختم ہو چکی تھیں اور اسکی جگہ ایک ہی چیز لے چکی تھی کہ اب تو

پاکستان کیلئے جان بھی جائے تو اعزاز ہو گا۔

جب واقعہ کی تحقیقات کرائی گئیں تو پتہ چلا کہ پہرے پہ موجود پہرے داروں

کو لڑکیوں کے ذریعے مشغول کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر بغیر کسی

آواز کے پہرے داروں کو شہید کر کے دن کی تھکاوٹ سے سوئے ہوئے

سپاہوں کو شہید کیا گیا

بہت ہی عجیب دشمن اور بہت ہی عجیب علاقہ تھا جو ہمارے لئے بالکل نیا تھا

وہاں ہم نے جاگ کے کیسے رات گزاری ان شہیدوں کے درمیان وہ ایک الگ

کہانی ہے۔

اگلے ہی دن ہم لورا لائی پہنچے
—————————————-

لورالائی پہنچتے ہی ایک اور آپریشن کا حکم مل چکا تھا

ہم سے پچاس کلو میٹر دور پہاڑوں میں کوئی حرکت تھی اور ہماری یونٹ کو

ہیلی کاپٹر سے بمباری کر کے زمینی فوج بھیجنے کا حکم تھا

ہیلی کاپٹر گئے اور بمباری کر کے ہمیں آگے بڑھنے کا موقع دیا

ہمارے جانے سے پہلے صفایا تو ہو چکا تھا پر وہ جگہ عجیب و غریب تھی

چاروں طرف پہاڑ تھے ان میں دہشت گردوں کا کیمپ تھا جیسے کہ پوری

لیبارٹری ہو

لیپ ٹاپ اور پتہ نہیں کیا کیا موجود تھا

وہاں دو آدمی زخمی حالت میں ہم نے گرفتار کئے

بعد میں جب ان سے انکوائری ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ پاکستانی ہی تھے پر دشمن

کے آلہِ کار تھے اور ان کے گھر والے ان کو لاپتہ سمجھ کے فوج کیخلا ف

تحریک کا حصہ بن چکے تھے

ان دونوں جو مشن دیا گیا تھا وہ فیس بک اور تمام سوشل میڈیا پہ بڑے بڑے

پاکستانی یونیورسٹیوں کے گروپوں میں جعلی شناخت کی آ ئی ڈیز بنا کے گھسنا

تھا اور پھر اپنے ہی لاپتہ ہونے سے لے کے ہر بات میں آرمی کو بدنام کرنے

کے مواد نشر کرنا اور یونیورسٹیوں میں مو جو د طلبہ کو آ ہستہ آہستہ اپنا ہم

خیال بنانا تھا۔

اس جگہ سے ہمیں جتنا بھی اسلحہ ملا وہ تمام کا تمام بھارتی تھا
——————————————————————–

ہمیں فی الحال پتہ نہیں تھا اس پہاڑی کیمپ میں جتنے دہشت گرد مردود ہوئے

تھے ان کے کیا کیا مشن تھے ۔

میں حیران ہو گیا اس طریقے سے بھی جنگ ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے

عوام میں باغیانہ سوچ پیدا کر دی جائے

اچانک ہی ہمارے کمانڈنٹ کو کراچی کی طرف حرکت کرنے کیلئے سٹینڈ بائی کا

حکم مل چکا تھا کیونکہ وہاں کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں ” را “ کے سلیپر

سیلز کا انکشاف ہو چکا تھا اور ایک سیاسی جماعت کی طرف سے بغاوت کا

خطرہ پیدا ہو چکا تھا جس کی قیادت بیرونِ ملک بیٹھی تھی اور ویڈیو کالوں کے

ذریعے اجتماعات سے خطاب کر رہی تھی۔

لیکن اس سے پہلے ہی ہمیں اچانک چائنیز انجینئرز پہ حملے کی خبر ملی اور

ہمیں گوادر کی طرف ایمرجنسی میں جانا پڑ گیا

—– ( جاری ) —–

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

عجیب قسم کی فوج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply