0

عثمان بزدار پرویز الہٰی کو منانے میں ناکام، وزیراعظم ہائوس کا بھی رابطہ

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز رپورٹر) پنجاب حکومت، پاکستان مسلم لیگ (ق)

کے تحفظات دور کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار

عثمان احمد خان بزدار سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیر معدنیات

پنجاب عمار یاسر کے استعفیٰ کے معاملہ پر منانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جس

پر معاملہ وزیراعظم عمران خان کے پاس لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پرویز

الہیٰ نے شکوہ کیا ہے کہ اتحاد کے حوالے سے طے شدہ معاملات پر تاحال

عملدرآمد نہیں ہوا۔ گزشتہ رات وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پرنسپل سکیرٹری اور

وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجا کے ہمراہ پرویز الہیٰ سے ملاقات کی تھی

تاہم پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پنجاب حکومت کے درمیان ناراضگی برقرار ہے۔

پرویز الہیٰ نے کہا کہ جب مرکز اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ

پی ٹی آئی نے اتحاد کیا تھا تو دو، دو وزارتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اب

تک ایک، ایک وزارت دی گئی ہے اور ان کے وزراء بھی بے اختیا ر ہیں۔ پرویز

الہٰی نے سردارعثمان بزدار کو بتایا کہ آپ کے والد کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت کا اتحادیوں سے جان چھڑانے کا فیصلہ

تھے اس کے باوجود آپ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کے معاملات کو

صیح طریقہ سے آگے نہیں لے کر جا سکے۔ عثمان بزدار نے یقین دلایا کہ اب

پوسٹنگ، ٹرانسفر اور دوسرے امور میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، اس پر پرویز

الہیٰ نے کہا پوسٹنگ ٹرانسفر کوئی مسئلہ نہیں، معاہدوں پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔

دوسری طرف وزیراعظم ہائوس نے چودھری برادران سے رابطہ کیا ہے، 24

گھنٹوں میں وزیراعظم عمران خان کی چودھری برادران سے ملاقات متوقع ہے۔

وزیراعظم ہائوس کے مطابق چودھری برادران کے تمام تحفظات دور کئے جائیں

گے، اتحادیوں سے اختلاف ہیں نہ کوئی دوری ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق)

کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم

لیگ کے حکمران جماعت سے تحفظات میں اضافہ ہوگیا، ایشوز پر بھی کوئی

مشاورت نہیں کی گئی، اختلافات بڑھنے لگے ہیں، اعلی قیادت کو2 ماہ میں کئی

بار آگاہ کرنے کے باوجود حالات میں بہتری کی بجائے خرابی میں اضافہ ہوا، پی

ٹی آئی سے اتحاد وسیع تر ملکی مفاد میں کیا گیا تھا، پہلے بھی اتحاد میں رہے

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی کی پی ٹی آئی خواتین اراکین کی مراد پوری

لیکن اتحادیوں سے اتنا برا سلوک دیکھنے میں نہیں آیا۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو

کرتے ہوئے کامل علی آغانے کہا مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی کو اپنے انتخابی

حلقوں کے کام میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ہماری جماعت اور قیادت نے

حکمران اتحاد میں شامل ہونے کے باعث نہایت نیک نیتی سے مکمل تعاون کیا اور

بعض ایسے امور جو ان کی سوچ میں بھی نہیں تھے ان سے نہ صرف قبل از وقت

آگاہ کیا بلکہ ان سے احسن طور پر نکلنے میں مکمل ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود

ہمارے ساتھ نہایت افسوسناک رویہ روا رکھا گیا۔ کامل علی آغا نے کہا کہ وسیع تر

ملکی مفاد میں اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ تمام اتحادیوں کو ملک اور عوام کی بہتری

کے کاموں میں برابرکا شریک کیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ اتحادی جماعت کی پروا نہ

کی جائے، اتحادی جماعت کے ارکان کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی

جائے اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے ان میں دن بدن اضافہ ہوتا

جائے۔

Leave a Reply