عالمی یوم آب ، پاکستان کی صورتحال اورمستقبل کی حکمت عملی

Spread the love

لاہور (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) دنیا بھر میں گزشتہ روز22مارچ

کوپانی کا عالمی دِن منایا گیا ۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال پانی کا عالمی دِن

منانے کا بنیادی مقصد پانی کی بچت اور اُس کے باکفایت استعمال سے متعلق

لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے ۔ وطن عزیز پاکستان میں آبی وسائل کو ترقی دینے

کے حوالے سے واپڈا وفاقی سطح پر سب سے بڑا ادارہ ہے ، جو ملک میں پانی

کی تشویشناک صورتِ حال میں بہتری لانے اورممکنہ آبی بحران سے بچنے کے

لئے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے ۔ ملک کے آبی وسائل سے بھر

پور استفادہ کرنے کے لئے واپڈا نے ایک جامع حکمت ِعملی ترتیب دی ہے جس

کے تحت مختلف منصوبے قلیل ، وسط اور طویل مدتی پلان کے تحت مرحلہ وار

مکمل کئے جائیں گے۔

قلیل مدتی پلان میں واپڈا 2025ء تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 2 ملین

ایکڑ فٹ اضافہ کرے گا ۔ وسط مدتی پلان کے ذریعے 2030ء تک مزید 8 ملین

ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا، جبکہ طویل مدتی پلان کی تکمیل پر 2050 ء تک ملک میں

پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں مزید 28 ملین ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا ۔آبی ذخائر

کی تعمیر کے حوالے سے بھی موجودہ سال نہایت اہم ہے کیونکہ اس سال دو بڑے

کثیر المقاصد منصوبوں پر تعمیراتی کام شروع ہونے جارہا ہے۔ مہمند ڈیم پر

تعمیراتی کام چند ہفتوں میں شروع ہوگا، جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا

آغاز بھی اِسی سال ہوجائے گا ۔

قلیل مدتی پلان کے تحت 2025 ء تک جو منصوبے مکمل کئے جائیں گے ان میں

مہمند ڈیم ، نائے گاج ڈیم ، نو لانگ ڈیم اور کرم تنگی ڈیم کا پہلا مرحلہ شامل ہیں ۔

وسط مدتی پلان کے تحت کرم تنگی ڈیم کا دوسرا مرحلہ، چنیوٹ ڈیم ، باڑا ڈیم اور

ہنگول ڈیم سمیت دیگر منصوبے 2030 ء تک مکمل کئے جائیں گے ۔ طویل مدتی

پلان کے تحت2050ء تک مکمل ہونے والے منصوبوں میں شیوک ڈیم ،سکردو ڈیم

اکھوڑی ڈیم اور روہتاس ڈیم قابل ذکر ہیں ۔ قلیل ، وسط اور طویل مدتی حکمت

عملی کے تحت ان منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لئے تمام متعلقہ

اداروں کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی اور مطلوبہ فنڈز کی فراہمی نہایت

اہمیت کے حامل ہیں ۔

وطن عزیز پاکستان میں پانی کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے ،جس کی

مختلف وجوہات ہیں ۔ اس صورت حال پر پانی کے شعبے میں مؤثر انتظام اور آبی

ذخائر کی تعمیر سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں 1951ء میں پانی کی فی

کس دستیابی 5 ہزار260مکعب میٹر تھی ، جو کم ہو کر اب 908 مکعب میٹر کی

سطح تک گر چکی ہے، جس کی اہم وجہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے ساتھ

ساتھ آبی ذخائرکی گنجائش میں قدرتی طور پر مٹی بھرجانے سے واقع ہونے والی

کمی ہے ۔ پانی کی فی کس دستیابی کی وجہ سے پاکستان کا شمار پانی کی کمی

کے شکار ممالک میں ہوتا ہے اوراس صورتحال میں بہتری لانے کے لئے اگر

بروقت اقدامات نہ اُٹھائے گئے تو پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہوسکتا

ہے ۔پاکستان اپنے دریائوں کے سالانہ بہائو کاصرف 10 فیصد پانی ذخیرہ کرنے

کی صلاحت رکھتاہے ، جبکہ دُنیا بھر میں یہ صلاحیت 40فیصد ہے ۔ گزشتہ

چالیس پچاس سال کے دوران ہمارے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں

کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ اس کے برعکس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی

واقع ہوئی ہے۔ 1976ء میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 16.26ملین ایکڑ فٹ

تھی ، جو کم ہو کر 13.68 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے جو صرف 30 دِن کی پانی

کی ضروریات پوری کر سکتی ہے ۔

Leave a Reply