0

عالمی قوانین تحریک آزادی کشمیر کو آئینی جواز دیتے ہیں ،جنرل زبیر حیات

Spread the love

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ جنگ اور قانون کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ عالمی منظرنامے میںبین الاقوامی قوانین کے ذریعے قومی مفادات کا تحفظ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہوتی جا رہی ہے کشمیر اور سرکریک سمیت کئی امور پر بین الاقوامی قوانین واضح ہیں۔ان کا نتیجہ سامنے آنا چاہئے۔جنرل زبیرمحمود نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو ریسرچ سوسائٹی برائے بین الاقوامی قوانین کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا موضوع تھا: ’ بین الاقوامی قوانین کا بطور آلات حرب استعمال؛ ممبئی حملوں کے تناظر میں بھارتی حکمت عملی کا ایک مطالعہ۔سیمینار سے(آرایس آئی ایل) کے صدر اور معروف قانون دان احمر بلال صوفی ، سابق سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ،بھارت کے لئے پاکستان کے سابق سفیر افراسیاب مہدی ہاشمی قریشی اور آرمز کنٹرول ڈویژن کے سابق سربراہ خالد بنوری نے بھی خطاب کیا۔جنرل زبیرمحمود نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ قانون سازی کے معاملات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر دیکھنا ہوگا۔ لافئیر دراصل سافٹ پاور کا یک جزو ہے۔انہی قوانین کے نتیجے میںاقوام متحدہ وجود میں آیا۔ 9/11 کے بعد پوری دنیا کی پالیسیوں میں تبدیلیاں آئیں۔ بین الاقوامی قوانین ہی اقوام کو مشترکہ طور پر ایک جگہ اکھٹے کرتے ہیںمگر ان قوانین کو زاتی اور تزویراتی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا۔ کشمیر، سیاچن اور سرکریک پر مشاہدات اور قوانین موجود ہیں۔ دوسری اقوام پر زبردستی اور دباؤ بڑھانے کے لئے بھی قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ انسانی حقوق کا بھی بین الاقوامی قوانین کے ساتھ تعلق ہے۔ کشمیرمیںحق خود ارادیت کو کبھی بھی دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ بین الاقوامی قانون اس کی ضمانت دیتا ہے۔ہم کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پر امن حل چاہتے ہیں۔سمجھوتہ ایکسپریس اور دیگر حادثات کا قانونی نتیجہ نکلنا چاہئے۔پاکستان اندرونی اور بیرونی امن کا خواہاں ہے۔

Leave a Reply