World-Bank

عالمی بینک کا جنوبی ایشیائی ممالک کو انتباہ، عمران خان کا دبنگ مطالبہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن،اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز، مانیٹرنگ سیل) عالمی بنک عمران خان

عالمی بینک نے نوول کرونا وائرس کی وباء سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں، پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کی معیشت پر، خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رشک رپورٹ جاری کر دی- رپورٹ میں کہا گیا ہے، کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952ء کے بعد، پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ ہے۔

-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-
یہ بھی پڑھیں: عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان کو 58 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان
-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-.-

کرونا وائرس کے باعث، پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے، عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رسک رپورٹ میں، پاکستان کے لیے معاشی خطرات ظاہر کئے ہیں، کہ پاکستان کی معیشت مزید دو سال تک دباؤ کا شکار رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، کہ رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار، کی شرح نمو منفی 1.3 فیصد تک کم ہوسکتی ہے- پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار اس سے قبل 1952ء میں، تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.80 فیصد رہی تھی۔

موجودہ حالات پاکستان کی معیشت کیلئے بڑا خطرہ ، عالمی بینک

رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا پھیلاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات بڑھائے گا، آئندہ مالی سال مجموعی قومی پیداوار میں صرف ایک فیصد تک اضافہ ہوگا، جبکہ ترقی کی شرح اعشاریہ 9 فیصد ہونے کا امکان ہے، کرونا وائرس کے باعث پاکستان کا بجٹ خسارہ، 8.7 تا 9.5 تک پہنچا سکتا ہے، اور معیشت میں قرضوں کا حجم ہی نہیں، بلکہ بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے- پاکستان کو دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، کے قرضے واپس کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ (عالمی بنک عمران خان)
سرمایہ کاری کا حجم کم ہونے سمیت ڈالر کی قدر بڑھے گی، جس کی وجہ سے ایکسچینج ریٹ دباؤ میں آجائیگا۔ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح کم آمدنی والے طبقے، ملک کو اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش بنانا ہونا چاہیے-

جنوبی ایشیائی ممالک کی شرح ترقی 40 سال کی بدترین پستی پر

ورلڈ بینک کا کہنا ہے، کہ بھارت سمیت جنوبی ایشیاء کے آٹھوں ملکوں میں شرح ترقی 40 سال کی بدترین پستی پرجانے کا امکان ہے۔ بھارت کی شرح ترقی ایک اعشاریہ پانچ تا دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ کرونا وائرس کی وباء سے پہلے ہی بھارت کی شرح ترقی 4 اعشاریہ 8 سے 5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، افغانستان اور مالدیپ میں معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کی شرح ترقی میں بڑی کمی ہوگی۔

طویل لاک ڈان سے پورے خطے کی معیشت سکڑ سکتی ہے، ورلڈ بینک

طویل لاک ڈان کی صورت میں پورے خطے کی معیشت سکڑ سکتی ہے، اسلئے خطے کے ملک بیروزگاروں، کاروبار کیلئے مزید مالیاتی اقدامات کا اعلان کریں، کیونکہ خطے پر اسکے منفی اثرات بڑھ رہے ہیں، سیاحتی سرگرمیاں معطل، زرا ئع ترسیلات متاثر، جبکہ گارمنٹس کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے، صارفین اور سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچا ہے۔

اقوام متحدہ، ترقی یافتہ ممالک لونز ریلیف، ادائیگیاں موخر کریں، وزیراعظم

PM Pakistan imran khan

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس، اور ترقی یافتہ ممالک سے اپیل کی ہے، کہ کرونا وائرس پوری دنیا کیلئے چیلنج ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے پاس وسائل کم، بھوک اور بیماری سے لڑنے کیلئے پیسہ نہیں ہے، اسلئے انہیں قرضوں میں ریلیف دیا جائے، تاکہ وہ کرونا کیخلاف موثر طریقے سے لڑ سکیں، انہوں نے کہا اس سلسلے میں عالمی ادارے اور رہنماء، صورتحال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیں۔ ترقی پذیر ممالک میں کرونا وائرس کے علاوہ، یہ فکر بھی لاحق ہے، کہ عوام وباء کے علاوہ بھوک سے نہ مریں۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک لاک ڈاؤن کیساتھ معاشی اثرات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کرونا وباء کیساتھ ساتھ بھوک وافلاس سے بھی نبردآزما

عمران خان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک اپنے لوگوں کو وباء کیساتھ ساتھ بھوک سے بھی بچا رہے ہیں۔ مگر وسائل کم ہیں۔ کرونا وائرس سے متعلق ترقی یافتہ ملکوں کا مختلف ردعمل ہے۔ امریکہ نے اپنے عوام کیلئے 2.2 ٹریلین ڈالر کا پیکج دیا، جاپان اپنے عوام کیلئے ایک ٹریلین ڈالر، جبکہ جرمنی ایک ٹریلین یورو کا پیکج خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے، لیکن ہم صرف 8 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ جو مسئلہ پاکستان کیساتھ ہے، دنیا کے اکثر ترقی پذیر ملکوں کو درپیش ہے۔ سیکرٹری جنرل یو این اور معاشی ادارے ترقی پذیر ملکوں کو قرض پر ریلیف دیں۔ کرونا سے نمٹنے کے باعث قرضے ری شیڈول کیے جائیں، کیونکہ ترقی پذیرممالک کی استطاعت نہیں کہ قرض کی ادائیگی اور کرونا کا مقابلہ ایک ساتھ کریں۔

مشیر خزانہ کی تاجروں کیلئے حکومتی اقتصادی پیکج پر بریفنگ

دریں اثناء وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ میں ہونیوالی ملاقات میں مشیر خزانہ نے انہیں تاجروں کیلئے حکومت کے اقتصادی پیکج سے متعلق بتایا۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال، اور ملکی معیشت کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر خزانہ نے موجودہ صورتحال میں معاشی اعداد و شمار اور مختلف پیکجز پر بھی بریفنگ دی۔ کاروباری کمیونٹی، ایس ایم ایز اور عوام کو دی جانیوالی مراعات، ریلیف پیکجز سے متعلق عملدرآمد سے متعلق بھی بتایا گیا، جبکہ احساس کیشن ٹرانسفر پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا تاجروں کیلئے حکومتی اقتصادی پیکج میں موجودہ قرضوں کی موخر ادائیگی اور آسان شرائط پر نئے قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔

وزیراعظم کو کرونا کی تشخیص کیلئے ٹیسٹ رپورٹ پیش

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور محکمہ صحت کی جانب سے ملک میں کرونا کی تشخیص کیلئے بہت کم تعداد میں ٹیسٹ ہونے پر رپورٹ بھی وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بیالوجیکل ماہرین کی عدم دستیابی ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا، کہ این ڈی ایم اے اور این آئی ایچ ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھانے کیلئے متحرک ہیں- ٹیسٹنگ کٹس چاروں صوبوں کے محکمہ صحت کو فراہم کردی گئی ہیں، ساتھ ہی پرائیویٹ اور سرکاری لیبارٹریز میں عملے کو خصوصی ٹریننگ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

مکمل تفصیل کیساتھ خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں :جے ٹی این آن لائن کیساتھ

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں کرونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت 16 ہزار یومیہ تک پہنچ چکی ہے، اور آئندہ چند دنوں میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت 25 ہزار یومیہ ہوگی، مگر عملہ نہ ہونے کی وجہ سے صرف 2 ہزار تا 2200 ٹیسٹ یومیہ ہو رہے ہیں

عالمی بنک عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply