عالمی اتحاد کا داعش کی باقیات ختم کرنے کا عزم اور جنرل آسٹن ملر کا انتباہ

عالمی اتحاد کا داعش کی باقیات ختم کرنے کا عزم اور جنرل آسٹن ملر کا انتباہ

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) عالمی اتحاد کا داعش

اگرچہ داعش کو شام اور عراق میں اپنے مرکز میں شکست ہو چکی ہے لیکن اس

کے باقیات مشرق وسطی کے علاوہ افریقہ اور افغانستان میں اب بھی موجود ہیں

جن کا مکمل خاتمہ بہت ضروری ہے۔ اس عزم کا اظہار اٹلی کے دارالحکومت روم

میں ” داعش کی شکست کیلئے عالمی اتحاد “ کے 83 ممالک کے وزرائے خارجہ

کی کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیے میں کیا گیا جس کا متن امریکی محکمہ

خارجہ نے واشنگٹن میں جاری کیا ہے۔

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

بیان میں کہا گیا ہے کہ 2014ء میں قائم ہونے والے اس اتحاد نے بین الاقوامی

سکیورٹی کیلئے پیدا ہونے والے اس خطرے کو خاص حد تک ختم کردیا ہے۔ اس

سے داعش کی فوجی صلاحیت، علاقوں پر قبضہ، قیادت، مالی وسائل اور آن لائن

اثرونفود کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس اتحاد کی 6 فروری 2019ء کے

بعد پہلی مرتبہ ورچوئیل کی بجائے ” ان پرسن “ کانفرنس ہوئی ہے۔ اس موقع پر

شام کے بحران پر غور کرنے کیلئے اتحادی کانفرنس کے ساتھ ہی انیس ممالک

اور دو عالمی اداروں کا الگ اجلاس بھی ہوا۔ اس اجلاس میں امریکہ نے شرکاء

کو بتایا کہ داعش کے جابرانہ کردار کے باعث سب سے زیادہ شامی باشندے متاثر

ہوئے ہیں۔ جن میں ان پناہ گزینوں کی بھاری تعداد شامل ہے۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اجلاس میں شریک امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے بتایا کہ جنگ سے متاثر

شام کے باشندوں اور دیگر مالک میں پناہ لینے والے افراد کیلئے امریکہ 43 کروڑ

60 لاکھ ڈالر کی اضافی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اس میں کرونا وباء سے بچاﺅ کیلئے

تقریباً دس کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ بحران کے آغاز سے اب تک امریکہ شام کے

متاثرین کو ساڑھے تیرہ ارب ڈالر کی انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کر چکا ہے۔

=-،-= داعش کیخلاف عراقی فورسز کی جدوجہد اورکردار کی تعریف

” داعش کی شکست کے عالمی اتحاد “ کی روم میں ہونے والی کانفرنس کے

مشترکہ میزبان اٹلی کے وزیر خارجہ لیوگی ڈی مائیو اور امریکی وزیر خارجہ

اینٹونی بلنکن تھے۔ کانفرنس کے شرکاء نے عراق کی حکومت اور افواج کی

داعش کے خاتمے کیلئے سرگرم کردار کرنے کو سراہا اور شام کے عوام کو یقین

دلایا کہ وہ اس ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کا بھر پور ساتھ دینگے۔

=-،-= افغان فورسز کی مدد گار ملیشیا سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائیگا

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے سربراہ جنرل آسٹن مِلر نے تشویش

ظاہر کی ہے کہ مکمل انخلاء سے افغانستان خانہ جنگی کی نذر ہو جائے گا۔ غیر

ملکی میڈیا کو انٹرویو میں جنرل آسٹن مِلر نے کہا طالبان تیزی سے افغانستان کے

بالخصوص شمالی علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں، اس پیش قدمی سے پر تشدد

کارروائیوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ افغانستان میں امن صرف سیاسی مفاہمت

سے آ سکتا ہے، افغان فورسز کی مدد کے لئے تعینات ملیشیا سے ملک خانہ جنگی

میں چلا جائیگا۔ افغانستان میں سب سے بڑا امریکی فضائی اڈا ” بگرام ائیربیس ”

اتوار تک خالی کردیا جائیگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوجی جو سامان

ساتھ نہیں لے جا رہے اسے طالبان سے بچانے کیلئے تباہ کر رہے ہیں، فضائی اڈہ

ممکنہ طور پر اتوار تک خالی کر کے افغان فورسز کے حوالے کر دیا جائیگا۔

عالمی اتحاد کا داعش

Leave a Reply