عاصمہ رانی کے قاتل کو معاف کرنے کے اعلان پر نیا تنازع، مروت قوم ناراض

عاصمہ رانی کے قاتل کو معاف کرنے کے اعلان پر نیا تنازع، مروت قوم ناراض

Spread the love

پشاور، کوہاٹ (بیورو چیف، عمران رشید ) عاصمہ رانی قاتل معاف

کوہاٹ کے مشہور زمانہ عاصمہ رانی قتل کیس میں قاتل کو معاف کر کے مقتولہ

کے والد کے صلح کرنے کے اعلان کے بعد نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور کیس

نے نیا رخ اختیار کرتے ہوئے لکی مروت میں صلح کے طریقہ کار پر سوشل میڈیا

پر پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ مقتولہ عاصمہ رانی کے والد غلام دستگیر نے گزشتہ

روزاعلان کیا کہ اللہ کی رضا کی خاطر انہوں نے اپنی ڈاکٹر بیٹی عاصمہ رانی

کے مبینہ قاتل مجاہد آفریدی کو معاف کرکے ان کے خاندان کے ساتھ صلح کرنے

کی حامی بھرلی ہے جس کے لئے آئندہ اتوار تبلیغی مرکز کوہاٹ میں بڑا جرگہ

منعقد ہو گا جس میں تمام مروت قوم کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے- غلام

دستگیر کا کہنا تھا ان پر کوئی دباؤ ہے نہ ہی انہوں نے کوئی رقم لی ہے۔ قاتل کے

خاندان والوں نے گھر آ کرصلح کرنے کے لئے منت سماجت کی اور مقتولہ کی قبر

پر دنبے بھی ذبح کئے۔ غلام دستگیر نے مزید کہا انہوں نے کئی سال تک کیس لڑ

کر مبینہ قاتل کو پھانسی کی سزا تک پہنچایا۔

= یہ بھی پڑھیں، ڈیرہ اسماعیل خان کی حاملہ لڑکی اور نوسرباز

دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری مختلف بیانات کے مطابق مقتولہ کے والد کے

اس مبینہ انفرادی فیصلہ پر مروت قوم نے شدید ناراضگی اور اختلافات کا اظہار

کیا ہے اورکہا ہے کہ مقتولہ کے والد نے مروت قوم کی عزت داوپر لگا کر لکی

مروت کی بجائے کوہاٹ میں جرگہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ سوشل میڈیا

پر جاری بیانانات کے مطابق مروت قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ مروت قوم کا کوئی

بھی بندہ جرگہ میں شامل نہیں ہو گا اور اگر کوئی جرگہ میں شرکت کرنے گیا تو

اس کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ بعض بیانات میں یہ الزامات بھی لگائے گئے

ہیں کہ مقتولہ کے والد غلام دستگیر نے 5 کروڑ روپے کی خطیر رقم اور ایک کار

کے عوض اپنی مقتولہ بیٹی کے سر کا سودا کر کے مبینہ قاتل کو معاف کردیا ہے

جو مروت قوم کو کسی طرح بھی قبول نہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل مبینہ

قاتل مجاہد کے خاندان والوں نے کوہاٹ میں تبلیغی جماعت کے امیر پیر اعظم شاہ

سے صلح کرنے کے لئے رجوع کر لیا جن کی ہدایت پر ملک سعد الدین آف لاچی

کی قیادت میں تبلیغی جماعت کے اراکین اور دیگررہنماؤں کا جرگہ لے کر مقتولہ

کے آبائی گاؤں گئے اور وہاں عاصمہ رانی کے خاندان والوں سے ملاقات کر کے

صلح کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

یاد رہے کہ جنوری 2018ء میں ایوب میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی دختر

غلام دستگیر سکنہ لکی مروت حال کوہاٹ کو مبینہ طورپر شادی کی پیشکش

ٹھکرانے کے بعد مجاہد آفریدی نے کوہاٹ کی جدید رہائشی بستی کوتل ٹاؤن

المعروف کے ڈی اے میں گھر کی دہلیز پر فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا اور خود

بیرون ملک فرار ہو گیا تھا، جسے بعد ازاں مارچ 2018ء میں انٹرپول کے ذریعے

گرفتار کرکے واپس لایا گیا تھا۔ عدالت نے چند ماہ قبل عاصمہ رانی قتل میں مبینہ

ملزم مجاہد آفریدی کو پھانسی کی سزا دینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد مبینہ قاتل

کے خاندان والوں نے مقتولہ کے خاندان والوں سے صلح کر کے مجاہد آفریدی کو

معاف کرنے کے لئے تگ و دو شروع کردی تھی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب

ہو گئے ہیں۔

عاصمہ رانی قاتل معاف ، عاصمہ رانی قاتل معاف ، عاصمہ رانی قاتل معاف

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply