0

طویل سیاسی بے یقینی کے بعد لبنان میں حکومت تشکیل پا گئی

Spread the love

لبنان میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بے یقینی کی صورت حال اور عام انتخابات کے 8ماہ بعد بلا آخر حکومت تشکیل دےدی گئی۔

وزیراعظم سعد حریری 30 اراکین پر مشتمل حکومت کے سربراہ ہوں گے اور انہوں نے فوری طور پر ملک کی معیشت اور سیاسی اصلاحات پیش کرنے کا وعدہ کیاہے،

خیال رہے لبنان میں الیکشن سے قبل ملک کی معیشت مشکلات کا شکار تھی تاہم انتخابات کے انعقاد کے باوجود حکومت قائم نہ کیے جانے پر ملک کی معیشت مزید متاثر ہوئی۔اس سے قبل ورلڈ بینک نے خبردار کیا تھا اگر لبنان میں حکومت کا قیام عمل میں نہیں آیا تو11 ارب ڈالر کے مشروط قرض اور گرانٹس پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے مئی 2018 میں لبنان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور ان کے اتحادیوں نے واضح کامیابی حاصل کی تھی جبکہ مغرب کے حمایت یافتہ وزیر اعظم سعد حریری کی پارٹی فیوچر موومنٹ کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا لیکن ملک میں سیاسی بحران سامنے آیا تھا اور حکومت تشکیل نہیں دی گئی تھی۔

لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی کل آبادی تقریبا 45 لاکھ ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں کئی عرصے سے اختیارات کی تقسیم کا نظام چل رہا ہے جس کے تحت پارلیمنٹ کی نشستوں کو عیسائی اور مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

Leave a Reply