Ashraf Ghani

اشرف غنی کی طالبان کو مذاکرات کی پیشکش، ملابرادرزکی چینی حکام سے ملاقاتیں

Spread the love

طالبان کو مذاکرات پیشکش

کابل (جے ٹی این آن لائن نیوز) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے

کہاہے کہ ہم امریکا اور نیٹو کے فوجی انخلا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، افغان عوام کو مستقبل کا فیصلہ خود کرنا

چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے

تیار ہیں، افغانستان کے تنازع کا فوجی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لویہ جرگہ نے خطرناک 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا

مثالی اقدام کیا، لویہ جرگہ کا5 ہزار طالبان کی رہائی امن کے لیے ہماری کوشش کا ثبوت ہے، آج کی جنگ خانہ جنگی نہیں

بلکہ نیٹ ورکس کی جنگ ہے۔صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور نیٹو سے فوجی انخلا کا فیصلہ واپس لینے کو کبھی نہیں

کہا۔دوسری جانب فغان طالبان کے اعلی وفد نے چینی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں جن کے دوران افغان امن عمل پر تفصیلی

تبادلہ خیال کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے بتایاکہ ملا برادر کی سربراہی میں

طالبان وفد نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژئی، نائب وزیر خارجہ اور چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان سے الگ الگ

ملاقاتیں کی ہیں، طالبان کے 9 رکنی وفد نے چینی حکام سے سیاسی، معاشی اور افغانستان کی موجودہ صورت حال اور امن

عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ طالبان ترجمان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ چین کی دعوت پر کیا گیا ہے۔ادھرپاکستان کی

جانب سے تجارتی سرگرمیوں کیلئے سرحد کھولنے کے اگلے روز سے ہی طالبان نے افغانستان سے جانےوالی اور پاکستان

سے آنے والی اشیا پر پر نیا ٹیرف نافذ کرکے ٹیکسز اکٹھا کرنے شروع کردئیے۔طالبان حکام قبضہ شدہ علاقوں میں اب روز

مرہ کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔شناخت ظاہر کیے بغیر سرکاری عہدیداران نے کہا کہ طالبان اب افغانستان میں داخل ہونے

اور پاکستان جانے والے ٹرکوں اور کنٹینرز سے ٹیکسز وصول کر رہے ہیں۔افغانستان کے صوبے قندھار سے تعلق رکھنے

والے معروف کامیڈین نذر محمد کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا۔نذر محمد المعروف خاشا زوان کے خاندان کا کہنا تھا کہ اس

قتل کے ذمہ دار طالبان ہیں جبکہ طالبان نے اس سے اظہار لاتعلقی کردیاہے۔علاوہ ازیں افغان حکام نے جنوبی صوبہ قندھار

کے سپن بولدک میں داخل ہونےوالے 4صحافیوں کو پروپیگنڈا کے الزام میں گرفتار کرلیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان حکام

کے اس اقدام سے میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے ،وزارت داخلہ نے بتایا

کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے گرفتار کیے جانے والے تمام صحافیوں کو علاقے میں جانے سے روکا تھا لیکن انہوں نے

خفیہ ایجنسی کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونےوالے 4صحافیوں میں تین مقامی ریڈیو اور ایک مقامی

ٹیلی ویژن کیلئے کام کرتا ہے۔وزارت داخلہ کے نائب ترجمان حامد روشن نے کہا کہ این ڈی ایس نے صحافیوں کو علاقے

میں جانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ سیکیورٹی فورسز ان کی جانیں بچانا چاہتی تھیں۔وزارت داخلہ کے ایک اور ترجمان نے

بعد میں کہا کہ صحافیوں کو پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور سیکیورٹی ایجنسیاں اپنی تحقیقات کررہی ہیں۔

طالبان کو مذاکرات پیشکش

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply