طالبان نے کابل کا گھیراؤ کر لیا، مضافاتی علاقوں میں لڑائی

طالبان نے کابل کا گھیراؤ کر لیا، مضافاتی علاقوں میں لڑائی

Spread the love

کابل،برسلز،واشنگٹن،نیویارک(جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) طالبان کابل گھیراؤ

طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا گھیراؤ کر لیا، شہر کے مضافات

میں لڑائی کی اطلاعات ہیں جبکہ رات بھر حملے سے بچنے کیلئے دارالحکومت

میں بلیک آؤٹ رہا، دوسری طرف امریکی صدر نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ

امریکی فوج کے انخلاء میں رکاوٹ نہ ڈالیں آئندہ 36 گھنٹوں میں کابل سے سفارتی

عملے کا انخلاء مکمل کر لیا جائے گا- دوسری طرف افغان سکیورٹی فورسز کے

اہلکار کی اپنی جانیں نچانے کیلئے بکتر بند گاڑیوں میں ایران میں داخل ہونے کی

اطلاعات ہیں-

=-،-= طالبان کے زیر کنٹرول صوبوں کی تعداد 22 ہو گئی

قبل ازیں ہفتہ کے روز طالبان نے افغانستان میں مزید تین صوبائی دارالحکومتوں کا

کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد ان کے زیر کنٹرول صوبائی دارالحکومتوں کی

تعداد 22 ہو گئی، گزشتہ روز زیر کنٹرول لائے جانیوالے صوبائی دارالحکومتوں

میں پاک افغان سرحدی صوبہ پکتیکا کا دارالحکومت شرنہ، صو بہ پکتیا کا گردیز

اور صوبہ بلخ کا مزار شریف شامل ہیں۔ مزار شریف افغانستان کا چوتھا بڑا شہر

ہے جس کے دفاع کا عزم افغان فورسز اور دو سابق جنگجوؤں نے کر رکھا تھا

تاہم اب پہلی مرتبہ طالبان اس شہر پر بھی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو

گئے ہیں۔ مزار شریف پر قبضے کے بعد طالبان پورے شمالی افغانستان پر قابض

ہو چکے ہیں۔

=-،-= افغان فوج کے مارشل عبدالرشید دوستم، سابق کمانڈر عطاء محمد نور فرار

ہزاروں جنگجوؤں کی کمان کرنے والے دو سابق جنگجو کمانڈر اور افغان فوج

کے مارشل عبدالرشید دوستم اور عطاء محمد نور صوبے سے فرار ہو کر نامعلوم

مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔ اُدھر طالبان صوبہ لوگر پر قبضے کے بعد صوبہ کابل

کے ضلع چار آسیاب پہنچ گئے، یہ ضلع دارالحکومت کابل سے صر ف 11 کلو

میٹر (7 میل) جنوب میں ہے۔ مزید 3 دارالحکومتوں پر کنٹرول کے بعد طالبان کے

قبضے میں جانے والے صوبائی دارالحکومتوں کی تعداد 22 ہو گئی جبکہ صوبوں

کی مجموعی تعداد 34 ہے۔ جبکہ طالبان جلال آباد کا انتطام و انصرام بھی چند

گھنٹوں بعد طالبان کے حوالے کئے جانے کی اطلاعات ہیں اور صوبہ فریاب کے

دارالحکومت میمنہ میں بھی طالبان نے داخل ہو کر شہر کا کنٹرول سنبھالنا شروع

کر دیا ہے-

=-،-= افغان حکومت کا ملک میں عبوری حکومت کے قیام پر غور

امریکہ نے کابل میں ایمرجنسی تعیناتی کیلئے ایک بریگیڈ فوج کویت بھیجنے کا

فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی پے در پے کامیابیوں نے

افغان حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جس کے بعد ملک میں عبوری حکومت

کے قیام پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صدر

اشرف غنی نے سیاسی رہنماؤں و سابق جنگی سرداروں سے ہنگامی ملاقات کی،

ملاقات کے دوران افغان رہنماؤں نے طالبان کیساتھ مذاکرات کے لئے بااختیار ٹیم

تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق افغان مفاہمتی کونسل کے

سربراہ عبد اللہ عبد اللہ اور سینئر افغان رہنماؤں کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی،

جس میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کا معا ملہ زیر بحث آیا۔

=-،-= اشرف غنی مستعفی ہونیوالے ہیں، بھارتی میڈیا، خبریں غلط، صدارتی محل

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کے اکثریتی علاقوں پر طالبان کے قبضے کے

بعد صدر اشرف غنی استعفیٰ دیکر اہلخانہ سمیت بیرون ملک منتقل ہونے کی تیاری

کر رہے ہیں، افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد

مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد وہ کسی تیسرے ملک اہل خانہ

سمیت منتقل ہو جائیں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر اشرف غنی کا حال ہی

میں آنیوالا ویڈیو پیغام گزشتہ شب ریکارڈ کیا گیا تھا اسلئے اس پیغام میں استعفیٰ کا

اعلان نہیں، دوسری جانب افغان میڈیا نے کہا ہے اشرف غنی نے منظر عام پر

آنیوالے ریڈیو پیغام میں حالات قابو میں ہیں کا دعویٰ کرتے ہوئے عہد کیا ہے وہ

افغانستان میں مزید جنگ اور خونریزی نہیں ہونے دیں گے، ملک عدم استحکام

سے دوچار ہے اور میری کوشش ہو گی ملک کو مزید عدم استحکام، تشدد اور

لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جائے۔ اس بات کی اجازت نہیں دینگے کہ افغان

شہریوں پر جنگ مسلط کی جائے جس سے ان کی جانیں ضائع ہوں۔ 20 سال سے

جو کچھ حاصل ہوا اسے گنوا دیا جائے۔ نیوز18 کا دعویٰ ہے کہ یہ انکشاف صدر

اشرف غنی کے ایک اہم اور قریبی ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیا

کہ اشرف غنی جلد مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کریں گے، اس حوالے سے

افغان صدر نے گزشتہ رات ایک اہم ملاقات کی جس میں امر یکی سفیر نے بھی

شرکت کی، اس دوران اشرف غنی نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تاہم افغانستان

کے نائب صدر امراللہ صالح واحد شخص ہیں جنہوں نے استعفے کی مخالفت کی۔

=-،-= قطر کا طالبان سے ملک میں جنگ بندی کا مطالبہ

عرب میڈیا کے مطابق قطر نے طالبان سے افغانستان میں جنگ بندی کا مطالبہ کر

دیا ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ نے مذاکرات کیلئے طالبان کے سربراہ ملا عبد

الغنی برادر سے اہم ملاقات کی، جس میں قطری وزیر خارجہ نے تشدد ختم کر کے

جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ننگرہار صوبے میں بعض مذہبی رہنماﺅں نے افغان فوج

کی حمایت کا اعلان کیا ہے، خوست صوبے کے شہر باک میں طالبان حملے کے

بعد افغان فوج نے جوابی کارروائی شروع کردی، شمالی پنجشیر صوبے کے مقامی

حکام نے کہا ہے طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ طالبان

کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے مسلح گروہ نے کنڑ صوبے کے

شہروں شلطن اور اسمار پر بھی قبضہ کر لیا ہے، تاہم افغان حکومت نے تاحال ان

قبضوں کی تصدیق نہیں کی۔ ادھر فن لینڈ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کابل کے

سفارتخانے سے اپنا 130 رکنی عملے کو نکال رہا ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے

وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا کہ جرمنی کابل میں موجود اپنے سفارتخانے کے

سٹاف کو بہت محدود کر رہا ہے اور سفا رتخانے کی سکیورٹی کو بڑھا رہا ہے۔

=-،-= نیٹو کا افغان مشن جاری رکھنے، عوام کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان

نیٹو سیکرٹری جنرل نے افغانستان میں نیٹو مشن جاری رکھنے کا اعلان کرتے

ہوئے کہا ہے افغانستان میں جاری صورتحال تشویشناک ہے۔ افغانستان پر طالبان

کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ افغانستان میں جاری صورتحال کا جا ئزہ

لے رہے ہیں۔ نیٹو مشن افغانستان میں افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ نیٹو افغان

حکومت اور سکیورٹی فورسز کی حمایت جاری رکھے گا۔ سیکریٹری جنرل نے

مزید کہا طالبان کو سمجھنا چاہیے انکا اقتدار پر قبضہ عالمی قوتوں کو ناقابل قبول

ہو گا۔ طالبان افغانستان میں پرتشدد کا رروائیوں سے گریز کریں۔ طاقت سے

حکومت پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ دوسری طرف امریکی

محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے افغان طالبان دارالحکومت کابل کو الگ تھلگ

کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، افغانستان میں زمینی صورتحال انتہائی تشویشناک

ہے۔ پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی نے پریس بریفنگ میں بتایا ہم یقینی

طور پر طالبان کی تیزرفتاری سے جاری پیشرفت سے پریشان ہیں، دارالحکومت

کابل میں اسوقت فوری خطرے کا کوئی ماحول نہیں، تاہم انہوں نے اس بات کا

اعادہ کیا کہ افغان افواج جس کی امریکہ حمایت جاری رکھے گا، لڑائی کا پانسہ

پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ افغانوں کیلئے وقت ہے کہ وہ اپنی قیادت اور

فوج کے اندر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ یہاں کوئی بھی پید ا شدہ صورتحال اٹل نہیں۔

=-،-= طالبان پیش قدمی روکیں، صورتحال بے قابو ہو رہی ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے طالبان کی پیش قدمی کو

فوری ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان قابو سے باہر نکل

رہا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا طالبان اپنے زیر قبضہ علاقوں

میں سخت پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔ شہریوں پر براہ راست حملہ کرنا عالمی انسانی

حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم کے مترادف ہے۔ انہوں

نے طالبان عسکریت پسندوں سے حکومتی فورسز کیخلاف کارروائیاں بند کرنے،

افغانستان اور اس کے عوام کے مفاد میں نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر واپس

آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جاری لڑائی سے اب تک کم

از کم 2 لاکھ 41 ہزار لوگ اپنے گھرو ں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں، ہسپتالوں

میں گنجائش باقی نہیں رہی۔ خوراک اور طبی سامان کم ہو رہا ہے۔ سڑکیں، پل،

سکول، کلینک اور دیگر اہم انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے۔ لڑائی سے ہونے والے

بھاری نقصان اور اس کے عام شہریوں پر پڑنے والا اثرات پر توجہ دیں۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

طالبان کابل گھیراؤ ، طالبان کابل گھیراؤ ، طالبان کابل گھیراؤ ، طالبان کابل گھیراؤ

طالبان کابل گھیراؤ ، طالبان کابل گھیراؤ ، طالبان کابل گھیراؤ ، طالبان کابل گھیراؤ

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply