افغان طالبان عبوری حکومت، چین، یورپی یونین اور جاپان کے بڑے اعلانات

افغان طالبان عبوری حکومت، چین، یورپی یونین اور جاپان کے بڑے اعلانات

Spread the love

کابل، اسلام آباد، بیجنگ، برسلز، ٹوکیو (جے ٹی این نیوز) طالبان چین یورپی یونین

افغان طالبان کی نئی عبوری حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں، جبکہ نامزد

کردہ عبوری وزیراعظم مُلا محمد حسن اخوند، نائب وزرائے اعظم مُلا عبدالغنی

برادر اور مُلا عبدالسلام حنفی، وزیر دفاع مُلا محمد یعقوب مجاہد، وزیر داخلہ

سراج الدین حقانی، وزہر خارجہ مُلا امیر خان متقی، وزیر اطلاعات وثقافت مُلا

خیرللہ خیرخواہ اورنائب ذبیح للہ مجاہد سمیت دیگر کابینہ ارکان 11 ستمبر کو

اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے-

=-،-= چین نئی افغان حکومت کیساتھ کام کیلئے تیار، 3 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

چین کے وزیر خارجہ وینگ یائی نے افغانستان کے لیے 3 کروڑ ڈالر سے زائد

کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں ترقی کے لیے چین امداد

کرے گا۔ ایک روز قبل افغان طالبان کی طرف سے عبوری حکومت کے اعلان

کے بعد چین نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی افغان عبوری حکومت کیساتھ

بات چیت کیلئے تیار ہیں، دوسری طرف چین نے طالبان کی حکومت کو 3 کروڑ

ڈالر سے زائد امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چینی وزارت

خارجہ کے ترجمان وانگ وینبنگ نے بیجنگ میں نیوز بریفنگ کے دوران کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا چین نئی افغان حکومت کو تسلیم کریگا یا نہیں، جس

پر جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ نئی افغان حکومت کیساتھ بات چیت کیلئے

تیار ہیں، چین افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام

کرتا ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ

افغانستان کے نئے حکام تمام حلقوں اور نسلوں کے لوگوں کی سنیں گے تاکہ

اپنے لوگوں کی خواہشات اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کو پورا کر سکیں۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

دوسری طرف چین کے وزیر خارجہ وینگ یائی نے افغانستان کے لیے 3 کروڑ

ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں ترقی کے

لیے چین امداد کرے گا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق چین کے وزیر خارجہ نے

اس بات کا اظہار افغانستان میں سفارتکاروں سے ویڈیو کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی اور ملک کے مقابلے میں امریکہ اور اس کے

اتحادیوں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ افغانستان کی معاشی اور انسانی بنیادوں

پر امداد کریں۔ ہم افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرتے ہوئے

ملکی ترقی کے لیے ان کی مدد کریں گے۔ وینگ یائی نے کہا کہ وہ افغانستان کو

دالوں، سردیوں کی اجناس، ویکسین اور ادویہ کی مد میں 3 کروڑ ڈالر سے زائد

20 کروڑ یوآن کی امداد کریں گے جبکہ وہ افغان عوام کو 30 لاکھ کووڈ-19

ویکسین کی خوراکیں عطیہ کرنے کا بھی فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے

افغانستان کی نئی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام انتہا پسند اور دہشت

گرد قوتوں تعلقات ختم کر کے ان کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات کریں۔

=-،-= افغانستان میں عبوری حکومت کا اعلان پر یورپی یونین کا ردعمل

افغانستان میں طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان پر یورپی یونین

نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان یورپی یونین کے مطابق افغانستان میں

طالبان کی عبوری حکومت جامع اور تمام لسانی و مذہبی گروہوں کی نمائندہ نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ طالبان کے عبوری حکومت میں شامل ناموں پر ابتدائی طورپر

تجزیہ کیا گیا اور نئی افغان حکومت کی تشکیل نسلی اور مذہبی لحاظ سے جامع

اور نمائندہ حکومت نظر نہیں آتی۔ ترجمان نے بتایا کہ امید تھی افغانستان میں

طالبان کی حکومت ان کے گزشتہ ہفتوں میں کیے گئے وعدوں کے مطابق ہو گی۔

=-،-= بات چیت جاری رکھیں گے، طالبان عبوری حکومت پر جاپان کا ردِ عمل

افغان طالبان کی جانب سے افغانستان میں نئی عبوری حکومت کے اعلان پر

جاپان نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے دارالحکومت ٹوکیو سے جاری

کئے گئے جاپانی حکومت کے ترجمان کے بیان میں اس حوالے سے کہا گیا ہے

کہ طالبان سے بات چیت جاری رکھیں گے۔ ترجمان جاپانی حکومت کا مزید کہنا

تھا کہ افغان طالبان کے اقدامات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جاپانی حکومت کے

ترجمان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکہ اور دیگر متعلقہ ممالک کیساتھ

بھی جاپان تعاون جاری رکھے گا۔

=-،-= امریکہ کا افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار

امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن کا

کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنا بہت آگے کی بات ہے۔ امریکہ ایسی

طالبان کی حکومت کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ جو بائیڈن نے کہا ہے کہ

پاکستان، ایران، چین اور روس متنازع معاملات پر افغان طالبان سے بات اور

معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ بات واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے

ہوئے امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے مزید کہا کہ پاکستان، ایران، چین اور روس

اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان کیا کر رہے ہیں۔ اس سے

پہلے ترجمان محکمہ خارجہ نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر

تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں، ان کے

اقدامات سے پرکھیں گے۔ ترجمان امریکہ محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ ہم

اس ضمن میں انتہائی قریب سے طالبان پر نظر رکھے ہوئے ہیں-

طالبان چین یورپی یونین ، طالبان چین یورپی یونین ، طالبان چین یورپی یونین

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply