طالبان رہبر شوریٰ کی بڑی بیٹھک، حکومت سازی فائنل، اعلان جلد متوقع

طالبان رہبر شوریٰ کی بڑی بیٹھک، حکومت سازی فائنل، اعلان جلد متوقع

Spread the love

قندھار، کابل، واشنگٹن (جے ٹی این نیوز) طالبان رہبر شوریٰ

طالبان کی سپریم کونسل (شوریٰ رہبر) کا تین روزہ اجلاس ختم ہو گیا جس میں

حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے کر لیے گئے ہیں اور اعلان کسی بھی وقت

متوقع ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم

کونسل کا 3 روزہ اجلاس طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی زیر صدارت

قندھار میں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی

صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذبیح اللہ مجاہد

نے مزید تبایا اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی حفاظت کیساتھ ساتھ شہریوں کو

بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان سے اچھے برتاؤ کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں

نئی اسلامی حکومت اور کابینہ کی تشکیل سے متعلق اہم فیصلے بھی کیے گئے

ہیں۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

ترجمان طالبان نے بتایا کہ سپریم لیڈر نے سب کو مکمل ہدایات دیدی ہیں اور ذمہ

داریوں سے بھی آگاہ کردیا ہے۔ طالبان کی جانب سے تاحال حکومت سازی سے

متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا لیکن رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ملا برادر سپریم

کونسل کے اجلاس کے بعد قندھار سے کابل روانہ ہو گئے ہیں اور جلد ہی کابینہ

کا اعلان متوقع ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان

آنے کی وجہ قدرتی وسائل کو لوٹنا بھی لیکن امارات اسلامی دنیا سے اچھے

تعلقات چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی مسائل ہیں اور انہیں قومی

تاجروں کیساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ نئی حکومت غیر

ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔ انہوں نے ایک

مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف

استعمال نہیں ہو گی- دنیا کے لیے ہمارا پیغام امن ہے اور دنیا کو ایک مرتبہ پھر

ہمارے بارے میں سوچنا چاہیے۔

=-،-= احمد مسعود کا جامع حکومت بننے پر طالبان مفاہمت کرنے کا اعلان

1980ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے جنگجو کمانڈر احمد

شاہ مسعود کے بیٹے اور پنجشیر میں افغان مزاحمتی تحریک کے رہنما احمد

مسعود نے کہا ہے کہ اگر طالبان طاقت کی تقسیم کے معاہدے پر راضی ہو جائیں

تو وہ ان کیخلاف مزاحمت ختم کرکے مفاہمت کا راستہ اپنائیں گے۔ فارن پالیسی

میگزین کو انٹرویو میں احمد مسعود نے واضح کیا کہ امن کا مطلب یہ نہیں ہے

کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور افغانستان میں ناانصافی اور عدم مساوات کو جاری رہنے

دیں، اگر طالبان طاقت کی مساوی تقسیم کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے تیار ہیں

تو وہ ایک ایسے تصفیےکی طرف بڑھ سکتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

ادھر افغانستان کے صوبے پنج شیر میں طالبان اورشمالی اتحاد کے درمیان

گزشتہ شب بھی جھڑپیں ج اری رہیں۔ طالبان نے وادی پنجشیر کا محاصرہ کر

رکھا ہے اور گزشتہ دو روز سے جھڑپیں جاری ہیں-

=-،-= ہم نے تاریخ رقم کر دی، طالبان رہنما کا دعویٰ

امریکی فوج کے انخلا مکمل ہونے پر سینیئر طالبان رہنما نے کہا کہ ہم نے تاریخ

رقم کر دی- پیر کی رات امریکہ نے افغانستان سے اپنا فوجی انخلاء ڈیڈ لائن سے

قبل ہی مکمل کر لیا اور وہاں موجود آخری امریکی فوجی بھی رات 12 بجے سے

پہلے ہی کابل ائیرپورٹ سے روانہ ہو گئے۔ پینٹا گون نے بھی امریکہ کا افغانستان

سے انخلاء مکمل ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ

انٹونی بلنکن نے کہا ہے افغانستان سے امریکی سفارتی مشن معطل کرکے قطر

منتقل کر دیا ہے، تسلیم کیے جانے اور تعاون حاصل کرنے کے لیے طالبان کو

اقدامات کرنا ہوں گے، انٹونی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی افغان حکومت

سے تعاون امریکی مفاد کی روشنی میں کیا جائے گا، انسانی بنیادوں پر امداد

جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امداد طالبان کے بجائے عالمی اداروں سے

افغان عوام تک پہنچائیں گے، ہم قطر اور ترکی کی کوششوں کو سراہتے ہیں،

خطے اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔ امریکی وزیر خارجہ

نے کہا کہ افغانستان کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد

افراد کو افغانستان سے بحفاظت منتقل کیا، افغانستان میں سو،2 سو کے قریب

امریکی رہ گئے ہیں، تاہم صحیح تعداد کا تعین کر رہے ہیں۔

=-،-= افغان جنگ میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری

انٹونی بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ معلوم کر رہے ہیں کہ امریکی افغانستان سے

نکلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ

سفری دستاویزات رکھنے والوں کو ملک سے جانے کی اجازت ہو گی۔ امریکہ

کی طویل ترین جنگ میں 50 ہزار افغان شہری، 2500 امریکی فوجی، 66 ہزار

افغان فوجی اور پولیس اہلکار، 457 برطانوی فوجی اور 50 ہزار طالبان و دیگر

امریکہ مخالف جنگجو ہلاک ہوئے۔ افغان جنگ کی نگرانی 4 امریکی صدور نے

کی جبکہ اس پر ایک اندازے کے مطابق 2 کھرب ڈالر کے اخراجات آئے۔ جنگی

اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض کی مد میں لی گئی بیشتر رقم پر امریکہ

کی کئی نسلوں کو سود کی مد میں 6 کھرب ڈالرز ادا کرنے ہوں گے۔

=-،-= طالبان کے قطر، ترکی سے کابل ایئر پورٹ انتظام سنبھالنے کیلئے مذاکرات

افغان طالبان کی کابل ایئر پورٹ کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے قطر اور

ترکی سے بات چیت جاری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی

وزیر خارجہ ژاں اِیو لدریاں نے یہ بات منگل کو پیرس میں بتائی۔ انہوں نے کہا

کہ کابل ہوائی اڈے کو جلد محفوظ بنایا جائے تاکہ ایسے افغان باشندے جو ملک

چھوڑنا چاہتے ہیں، کمرشل پروازیں استعمال کر سکیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ

کے مطابق کابل کے ہوائی اڈے کو محفوظ بنانے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی

سلامتی کونسل کی قرارداد پر لازمی عمل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ لدریاں نے

مزید کہا فرانس کو طالبان پر دباؤ ڈالنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے تاہم پیرس

حکومت طالبان سے مذاکرات نہیں کر رہی۔

طالبان رہبر شوریٰ ، طالبان رہبر شوریٰ ، طالبان رہبر شوریٰ ، طالبان رہبر

شوریٰ ، طالبان رہبر شوریٰ ، طالبان رہبر شوریٰ ، طالبان رہبر شوریٰ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply