طالبان حکومت تہران مذاکرات

طالبان اور افغان حکومت کے تہران میں مذاکرات

Spread the love

طالبان حکومت تہران مذاکرات

کابل ،تہران (جے ٹی این آن لائن نیوز) ایرانی حکومت کی زیر نگرانی طالبان اور افغان سیاستدانوں

کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں۔ایران کی دعوت پر طالبان اور افغان حکومت کا وفد تہران میں

موجود ہے، افغان حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان جاری بات چیت میں ایرانی وزیر خارجہ

جواد ظریف بھی موجود ہیں۔خبر رساں ادارے خامہ پریس کے مطابق افغان حکومت کی طرف سے

اس وفد میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کے مشیر سلام رحیمی، افغانستان کے سابق نائب صدر

یونس قانونی، سابق نائب وزیر خارجہ ارشاد احمدی، محمد اﷲ تابش، کریم خرم اور ظاہر وحدت شامل

ہیں۔ جبکہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد استنکزئی اپنے وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں ایران میں افغان پناہ گزینوں

کے مسائل اور افغانستان میں موجودہ امن عامہ کے صورت حال پر بات چیت کیگئی۔افغان طالبان اور

افغان سیاسی رہنماؤں نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ملاقات کی ۔اس موقع

پر طالبان اور افغان سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ جوادظریف نے کہا

کہ افغان رہنما اور افغان عوام افغانستان کے مستقبل کے لیے سنجیدہ فیصلے کریں۔انہوں نے کہا کہ

ایران فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل میں مدد کے لیے تیار ہے۔افغان طالبان نے کہا کہ مذاکرات

اور سیاسی حل کے لیے پر عزم ہونا افغان رہنماؤں اور سیاسی گروپوں کیلئے بہترین انتخاب ہو گا۔

جواد ظریف نے افغانستان کے سیاسی رہنماؤں اور عوام سے اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں

سخت فیصلے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ایرانی وزارت خارجہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق جواد

ظریف نے کہا کہ ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بدھ کے روز صبح سویرے 4 وفود

کے تہران پہنچنے کا اعلان کیا ہے جس میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف ترجمان پینٹاگو ن جان کربی نے کہا ہے کہ افغانستان سے نوے فیصد امریکی فوج کا

انخلا مکمل ہو چکا ہے ، بگرام ائیر بیس چھوڑنے کا عمل خلا میں نہیں ہوا ،افغان قیادت کو 48گھنٹے

پہلے بتا دیا تھا۔امریکی میڈٖیا کے مطابق واشنگٹن میں افغانستان سے متعلق ترجمان پینٹاگو ن جان

کربی نے کہا کہ 90فیصد فوجی اور سازو سامان افغانستان سے نکالا جا چکا ہے،انہوں نے مزید کہا

کہ ضرورت پڑنے پر بحری بیڑے استعمال کیے جاسکتے ہیں، امریکی فورسز کی مدد کے لیے

افغانستان میں ابھی بھی کنٹریکٹر موجود ہیں۔دریں اثنا افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے

افغان طالبان کی طرف سے زیر قبضہ اضلاع کی فہرست جاری کردی گئی ہے ۔طالبان کا کہنا ہے کہ

انہوں نے دو سو سے زائد اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے طالبان کی جانب سے سب سے زیادہ 24اضلاع

صوبے بدخشاں میں فتح کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔صوبہ ننگرہار اور نمروز میں سب سے کم ایک

ایک ضلع فتح کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔طالبان افغان صوبے بادغیس کے دارالحکومت قلعہ نو پر

حملہ کر کے اس میں داخل ہو گئے ہیں ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صوبہ بادغیس کے دارالحکومت

قلعہ نو میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔گورنر بادغیس کا اس حوالے سے

کہاہے کہ صوبائی دارالحکومت قلعہ نو میں طالبان داخل ہو گئے ہیں، تمام اضلاع پر طالبان کا قبضہ

ہے۔دوسری طرف ، کابل حکومت نے چھن جانے والے تمام اضلاع طالبان سے واپس لینے کا اعلان

کیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمداﷲ محب نے کہا کہ چھن

جانے والے تمام اضلاع طالبان سے واپس لیے جائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے حملوں

میں تیزی لا کر ثابت کیا ہے کہ وہ امن کے لیے راضی نہیں ہیں،ادھر افغان طالبان نے مزید 6اضلاع

پر قبضہ کرلیا جن میں ہرات اور بادغیس کے دو، دو نمروز اور بدخشان کا ایک،ایک ضلع شامل ہے۔

طالبان حکومت تہران مذاکرات

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply