مزاح نگاروشاعر ضمیر جعفری کی 22 ویں، لوک فنکار فقیرا بھگت کو خراج عقیدت

مزاح نگاروشاعر ضمیر جعفری کی 22 ویں برسی، لوک فنکار فقیرا بھگت کو خراج عقیدت

Spread the love

لاہور، چولستان ( جے ٹی این آن لائن ادبی اور شوبز نیوز) ضمیر جعفری فقیرا بھگت

اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر سید ضمیر جعفری کی 22 ویں برسی آج 16

مئی بروز اتوار کو منائی جارہی ہے- وہ یکم جنوری 1916ء کو جہلم کے گاﺅں

عبدالخالق میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام سید ضمیر حسین جعفری تھا، وہ شعبہ

صحافت سے بھی وابستہ رہے، 1948ء میں اخبار نکالا، ان کے شعری مجموعوں

میں ” مافی الضمیر، آگ، مسدس بدحالی، ولایتی زعفران، نشاط تماشا، اکتارہ، لہو

ترنگ، جزیروں کے گیت اور من کے تار کے نام سرفہرست ہیں، وہ 16 مئی

1999ء کو وفات پا گئے تھے۔ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ملک بھر

میں ان کے مداح اور ادبی تنظیمیں محافل مشاعرہ اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد کر

رہی ہیں، ان محافل میں مرحوم کی شاعری اور سوانح حیات پر روشنی ڈالنے

کیساتھ ساتھ ان کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کیلئے قران اور فاتحہ خوانی

بھی کی جا رہی ہے- حق مغفرت فرمائے، الہٰی آمین

=–= لوک فنکار فقیرا بھگت کی برسی، چولستانی فنکاروں کا خراج عقیدت

مزاح نگاروشاعر ضمیر جعفری کی 22 ویں، لوک فنکار فقیرا بھگت کو خراج عقیدت

صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید کے عارفانہ کلام کو چولستانی و سرائیکی

انداز میں گانے والے چولستانی فنکار فقیرا بھگت کو ہم سے بچھڑے 20 برس ہو

گئے لیکن آج بھی وہ سرائیکی خطے میں لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔ چولستانی

صدارتی ایوارڈ یافتہ لوک فنکار فقیرا بھگت کی 20 ویں برسی چولستان میں منائی

گئی جس میں ملک بھر سے ادیب‘ دانشور، شعراء اور فنکاروں کے علاوہ علاقے

کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ چولستانی فنکاروں نے فقیرا بھگت کے

گائے ہوئے عارفانہ کلام کو اپنی آواز میں گا کر فقیرا بھگت کو خراج عقیدت پیش

کیا۔ فنکاروں کا کہنا ہے کہ چولستانی فنکار فقیرا بھگت مسلم ہوں یا ہندو ہر مذہب

سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں یکساں مقبول ہیں۔

ضمیر جعفری فقیرا بھگت

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=–= ادب اورشوبز دنیا کی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply