صوبہ بلوچستان کا 2021-22 کیلئے بجٹ پیش، احاطہ بنا میدان جنگ

صوبہ بلوچستان کا 2021-22 کیلئے بجٹ پیش، احاطہ بنا میدان جنگ

Spread the love

کوئٹہ (جے ٹی این آن لائن بلوچستان نیوز) صوبہ بلوچستان 2021-22 بجٹ

بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2021-22 کیلئے 584 ارب روپے کا ٹیکس فری

بجٹ پیش کر دیا گیا، جس میں تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ

بجٹ اجلاس سے قبل بلوچستان کے عوامی نمائندوں نے بھی وفاق کے نقش قدم پر

چلتے ہوئے صوبائی اسمبلی کو میدان جنگ بنا دیا۔ بلوچستان میں بجٹ اجلاس

روکنے کیلئے اپوزیشن نے اسمبلی کے گیٹ کو تالے لگا دیئے اور حکومتی ارکان

اور وزراء کو اسمبلی میں داخلے سے روک دیا جس پر حکومتی ارکان اور وزیر

اعلیٰ نے اسمبلی میں داخلے کیلئے پولیس کی بکتر بند گاڑی کی مدد سے اسمبلی

کا گیٹ توڑ دیا جس سے اپوزیشن کے تین ارکان اسمبلی زخمی ہو گئے، بجٹ میں

ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کےخلا ف اپوزیشن جماعتیں اسمبلی کے احاطے میں کئی

روز سے احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے تھیں-

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

بعدازاں بلوچستان اسمبلی کے سپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی

اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا جہاں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے

بجٹ پیش کیا اور کہا اگلے مالی سال 22-2021 کا بجٹ رواں مالی سال کے بجٹ

کا تسلسل ہے، دونوں بجٹ میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لئے مطلوبہ وسائل

مہیا کیے گئے بلکہ صوبے کے مجموعی صحت کے نظام کیلئے خطیر رقم خرچ

کی گئی ہے، ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 179.19 ارب، غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم

346.861 ارب تجویز کیا ہے، بجٹ خسارے کا تخمینہ 84.7 ارب روپے لگایا گیا

ہے، جاری ترقیاتی سکیموں کیلئے 112 ارب روپے سے زائد مختص، 2086 نئی

ترقیاتی سکیموں کیلئے 76 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، بولان میڈیکل کالج

میں 2 ہاسٹلزکی تعمیر کیلئے 20 کروڑ، کرونا سے نمٹنے کیلئے 3.6 ارب روپے

مختص کرنے کی تجویز ہے، شاہراہوں پر ایمرجنسی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا

جائیگا، ڈاکٹرز، طبی عملے کی رہائشگاہوں کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کئے

گئے ہیں۔ تمام سرکاری ہسپتالوں میں پرچی سسٹم ختم کر دیا، بلوچستان کیلئے ہیلتھ

کارڈ سکیم لائی جا رہی ہے جس کیلئے 5.914 ارب رو پے مختص کرنے کی

تجویز ہے اور ہیلتھ کارڈسے 18 لاکھ 75 ہزار خاندانوں کوعلاج کی سہولت ملے

گی، ہیلتھ کارڈ سے تمام افراد کو 10 لاکھ روپے تک مفت علاج میسر ہو گا، بجٹ

میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، نئے مالی سال میں 5 ہزار نئی اسامیاں رکھی

گئی ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، تعلیم

کیلئے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کیلئے 38 ارب روپے اور

امن وامان کیلئے 52 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جمعہ کے روز پولیس نے احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی تو پولیس اور

اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی،جس پر پولیس نے ارکان

اسمبلی کو منتشر کرنے کیلئے آنسوگیس کی شیلنگ کی ، تاہم پولیس حکام اسمبلی

گیٹ کا تالا کھلوانے میں ناکام رہے۔اس دوران پولیس کی بکتر بند گاڑی نے ٹکر

مارکر اسمبلی کا گیٹ توڑ دیا جس کے زد میں آ کر اراکین اسمبلی بابو رحیم اور

عبدالواحد صدیقی زخمی ہوگئے، اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کیخلاف مقدمے کیلئے

درخواست دیدی، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی پولیس کی بھاری سکیورٹی

میں اسمبلی پہنچے تو اپوزیشن جماعتوں کے مشتعل کارکنان نے ان پر جوتے اور

گملے پھینکے، تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سخت سکیورٹی حصار میں

اسمبلی احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ کے

باعث بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے شیشے بھی ٹو ٹ گئے۔ اس موقع پر

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا اپوزیشن نے صوبائی ایوان کو

یرغمال بنا رکھا ہے، اپوزیشن سے ہضم نہیں ہو رہا کہ ہم ایک بڑا بجٹ پیش کرنے

جا رہے ہیں، جس پر بوکھلائے ہوئے اپوزیشن ارکان نے اسمبلی پر دھاوا بول دیا۔

انہوں نے کہا بار بار اپوزیشن سے تجاویز مانگیں، مگر انہوں نے نہیں دیں۔

صوبہ بلوچستان 2021-22 بجٹ

Leave a Reply