new zara meri bhi suno2

پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کیلئے ٹیکس چھوٹ کرپٹ عناصر کیلئے فائدہ مند

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن ذرہ میری بھی سنو) صنعتوں کیلئے ٹیکس چھوٹ

پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے بجٹ اقدامات نے

بعض صنعتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات بڑھا دئیے ہیں اور صنعتکار نئی

سرمایہ کاری کے بجائے اپنا موجودہ سرمایہ بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہو

گئے ہیں۔ جن صنعتوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے ان میں سٹیل اور گھی کی

صنعتیں سرفہرست ہیں۔ ٹیکس مراعات کی وجہ سے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سٹیل

کی فی کلو پیداوار ملک کے دیگر علاقوں کی پیداوار سے 25 سے 27 روپے تک

کم ہو گی، جبکہ گھی کی فی کلو پیداوار 44 سے 46 روپے تک کم ہو گی جس

سے دیگر علاقوں کی صنعتیں بند ہونا شروع ہو جائیں گی۔

=-= ذرا میری بھی سنو کے عنوان تحت پڑھیں مزید ( =-= سٹوریز =-= )

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل کے مطابق انڈسٹری ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیداواری

لاگت میں اتنا بڑا فرق خیبر پختونخوا کے ٹیکس گزار علاقوں سے لے کر جہلم

تک کی صنعتوں کو بری طرح متاثر کرے گا جبکہ اسکے اثرات لاہور تک پہنچیں

گے۔ انکے مطابق ایک علاقہ کو دوسری علاقہ کی قیمت پر ترقی دینے کی پالیسی

غلط ہے اور اگر پسماندہ علاقوں کو ترقی دینی ہے تو اس کے لئے ٹیکس چھوٹ

کے بجائے دیگر طریقے استعمال کئے جائیں۔ بندوبستی علاقوں کے صنعتکاروں

کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس سے انکے کاروبار متاثر نہیں ہونگے جس پر وہ قائل

نہیں ہو رہے کیونکہ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ٹیکس مراعات کا ناجائز

فائدہ نہ اٹھایا گیا ہو۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

انہوں نے کہا سرمایہ کاروں کا خیال ہے قبائلی علاقوں میں بننے والے مال کو

ماضی کی طرح خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں اورسندھ میں فروخت کر دیا

جائے گا اور یہ کہ گدون امازئی انڈسٹریل سٹیٹ کا ناکام تجربہ دہرانے سے کوئی

فائدہ نہیں ہو گا۔ بعض عناصر اپنے کارخانے شہروں میں لگائیں گے مگر ان میں

تیار ہونے والے مال کو قبائلی علاقوں کا دکھا کر ناجائز منافع کمائیں گے جس سے

حکومت اور عوام کے بجائے کرپٹ عناصر ہی فائدہ اٹھائیں گے۔

صنعتوں کیلئے ٹیکس چھوٹ

Leave a Reply