modi imran and trump jtnonline

کشمیر معاملہ، پاک بھارت وزرائے اعظم سے بات چیت مثبت رہی، صدر ٹرمپ

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی

وزیراعظم نریندر مودی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطوں کے بعد دونوں

ممالک کی قیادت سے بات چیت کے عمل کو مثبت قرار دیدیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر

کے معاملے پر پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم سے بات چیت مثبت رہی۔ صدر

ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں عمران خان اور مودی اپنے بہترین دوست قرار دیتے

ہوئے کہا میں نے دونوں دوستوں سے بات چیت میں باہمی تجارت، اسٹر یٹیجک

شراکت داری اور سب سے بڑھ کر کشمیر میں کشیدگی میں کمی کیلئے اقدامات

پر تبادلہ خیال کیا۔ خطے میں صورتحال کشیدہ ہے مگر یہ بات چیت مثبت رہی۔

امریکی صدر نے اپنے اسی ٹوئٹ میں یہ بھی کہا افغان حکومت اور طالبان سے

اچھی بات چیت ہوئی، دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے، مگر یہ طے ہے کہ ہم افغانستان

کو دہشتگردی کی لیبارٹری نہیں بننے دیں گے۔

افغانستان کو دہشتگردی کی لیبارٹری نہیں بننے دیں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ کا قبل ازیں واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں بھی کہنا تھا طالبان

اور افغان حکومت سے اچھی بات چیت ہورہی ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،

افغانستان میں ایک وجہ سے ہیں، فیصلہ کریں گے، ہمیں افغانستان میں طویل

مدت تک رہنا چاہیے یا نہیں۔ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد تیرہ ہزارسے کم کر

سکتے ہیں لیکن افغانستان میں موثرانٹیلی جنس چھوڑ کر جائیں گے اور افغانستان

کو دہشتگردی کی لیبارٹری بننے سے روکیں گے۔ اگر چہ نائن الیون کے دہشت

گردوں کا تعلق افغانستان سے نہیں تھا لیکن نائن الیون حملے کے تمام دہشت

گردوں کی تربیت افغانستان میں ہوئی تھی۔

Leave a Reply