73

شام کے صدربشارالاسد نے ترک ہم منصب طیب اردوآن کو چور قرار دیدیا

Spread the love

دمشق(جتن آن لائن ویب مانیٹرنگ) صدر بشارالاسد

شام کے صدر بشارالاسد نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوآن کو چور قرار دے دیا اور ان پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے پہلے فیکٹریاں لوٹیں، گندم اور تیل چوری کیا اور اب شام کی اراضی کو چھین رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا امریکی نائب صدر کیساتھ ملاقات سے انکار

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق انھوں نے ترک صدر کیخلاف یہ سخت بیان شمال مغربی صوبہ ادلب میں محاذِ جنگ کے دورے کے موقع پر دیا۔

مزید پڑھیں: سری لنکا حملہ شام میں سقوط باغوز کا بدلہ، ابوبکرابغدادی

صدربشارالاسد کا اپنے خلاف دوہزار گیارہ کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد ادلب کا یہ پہلا دورہ تھا۔ شامی صدر کے دفتر نے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر اطلاع دی کہ صدر بشارالاسد نے صوبہ ادلب میں واقع قصبے ہبیت میں محاذِ جنگ پر شامی فوج کے ارکان سے ملاقات کی ۔

ادلب کی جنگ دہشتگردی خاتمے کی بنیاد بنے گی، شامی صدر

صدر بشارالاسد نے کہا کہ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں اور اب پھر یہ کہتے ہیں کہ ادلب کی جنگ شام کے تمام علاقوں میں افراتفری اور دہشت گردی کے خاتمے کی بنیاد بنے گی۔

شامی صوبہ باغیوں اور القاعدہ کے زیر کنٹرول

واضح رہے تیس لاکھ آبادی پر مشتمل صوبہ ادلب کے بیشتر علاقوں پر اس وقت صدربشارالاسد مخالف باغی گروپوں اور کالعدم القاعدہ سے وابستہ سخت گیر جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔

اسد حکومت، باغیوں میں امن معاہدے پر عمل جاری

صدر بشارالاسد حکومت ان تمام کو بلا تمیز دہشتگرد قرار دیتی ہے۔ اس صوبے میں روس کی ثالثی کے نتیجے میں شامی حکومت اور باغی گروپوں میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور اس پر اکتیس اگست سے عملدرآمد کیا جا
رہا ہے۔

جنگ بندی معاہدے کی بدولت قدرے سکون

معاہدے کے نتیجے میں وہاں تشدد کے واقعات میں کمی تو ضرور آئی ہے، البتہ شامی حکومت کی وفادار فورسز اور باغی جنگجوئوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

صدر بشارالاسد

Leave a Reply