122

مواخذہ سے بری ہونے پر صدر ٹرمپ مزید متکبر و بد لحاظ ہو گئے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن(جتن آن لائن تجزیاتی رپورٹ) صدرٹرمپ متکبر بدلحاظ

سینیٹ میں اپنے خلاف مواخذے کے مقدمے سے بری ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کے رویے میں تکبر و بدلحاظی کا عنصر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ غیر جانبدار مبصر، دانشور اور پبلک کا ایک اچھا خاصہ حصہ سمجھتا تھا امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان نے جن دو الزامات کا استغاثہ مواخذے کا مقدمہ چلانے کیلئے سینیٹ بھیجا تھا وہ درست اور حقائق پر مبنی تھا۔ مزید پڑھیں

مواخذہ معمولی اکثریت سے ختم ہو گیا

مواخذہ کے مقدمے کو منظور کرانے کیلئے قانونی طور پر دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی لیکن ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں تھی اور معمولی اکثریت کی حامل ریپبلکن پارٹی نے سرکاری موقف اور پارٹی لائن کے مطابق ووٹ ڈال کر صدر ٹرمپ کو بری کرا دیا۔ صرف ایک سینیٹر میٹ رومنے نے دو میں سے ایک بل میں صدر کیخلاف ووٹ ڈالا۔

جوبیڈن اور انکے بیٹے کو کرپشن میں پھنسانے کیلئے یوکرائن پر دباؤ

پہلے بل میں الزام تھا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرائن میں اپنے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے ان پر دباﺅ ڈالا تھا کہ وہ امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخاب میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی ٹکٹ کے ایک اہم امیدوار اور سابق نائب صدر جوبیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کیخلاف یوکرائن میں چلنے والے ایک مقدمے کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں کرپشن کے الزامات میں پھنسانے میں مدد دیں۔ جوبیڈن اور ان کے بیٹے نے یوکرائن میں گیس کمپنیوں میں کچھ سرمایہ کاری کر رکھی ہے، صدر ٹرمپ کا مقصد یہ تھا ان کے انتخابات میں اہم حریف کو نقصان پہنچا تو اس کا بالواسطہ انہیں فائدہ پہنچے گا- اس کے بدلے میں صدر ٹرمپ نے یوکرائن کی فوجی امداد بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

صدر کی ٹیلی فونک گفتگو سننے کی روایت ختم کرنے کا عندیہ

صدر ٹر مپ میں دوسرا الزام یہ تھا کہ جب ٹیلی فون کال کو خفیہ طور پر سننے والے دو انٹیلی جنس افسروں نے انسپکٹر جنرل کے پاس شکایت رجسٹر کروائی تو اس کے بعد جب کانگریس تفتیش شرو ع کی تو صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاﺅس کی طرف سے اس تفتیش میں ر کاوٹ ڈالی گئی۔ سینیٹ سے بری ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کا رویہ خراب ہوتا جا رہا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ متکبر ہو رہے ہیں، جس کی دو تازہ مثالیں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے چند روزقبل ایک ریڈیو انٹرویو میں خیال ظاہر کیا کہ وہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کی طرف سے صدر کی ٹیلی فون گفتگو کو سننے کی روایت ختم کر سکتے ہیں۔ اس پریکٹس کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی یوکرائن کیساتھ ٹیلی فون گفتگو سنی گئی اور معاملہ مواخذے تک جا پہنچا-

اٹارنی جنرل کو ہدایات دینا قانونی حق، بل بار کے اعتراض پرٹرمپ کا جواب

امریکہ کے صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا ان کے مواخذے سے ان سیاہ دنوں کی یاد تازہ ہو گئی جب سابق صدر نکسن نے واٹر گیٹ سکینڈل کی بناء پر مواخذے کے مقدمے سے قبل ہی استعفیٰ دیدیا تھا- ان پر الزام لگا تھا کہ انہو ں نے اپنے مخالفین کی خفیہ ریکارڈنگ کرائی تھی۔ صدر ٹرمپ کے اکڑ پن کا ایک تازہ مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب اٹارنی جنرل بل بار نے اعترا ض اٹھایا کہ صدر ٹرمپ کریمنل مقدمات میں ٹویٹ کے ذریعے تبصرے کرکے ان کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں، ٹرمپ کہاں ایسے ریمارکس برداشت کر سکتے تھے فوری جواب دیا کہ ” وہ اٹارنی جنرل کے باس ہیں اور انہیں ان کی ہدایات جاری کرنے کا قانونی حق حاصل ہے“ – صدرٹرمپ متکبر بدلحاظ

راجرسٹون کو وفاقی عدالت میں مقدمے کا سامنا

یاد رہے راجر سٹون ریپبلکن پارٹی کی ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے صدارتی انتخا بی مہم کا حصہ تھے وہ اگست 2015ء میں اس سے الگ ہو گئے تھے لیکن صدر کیخلاف خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کے زیر انتظام گرینڈ جیوری نے ان پر متعدد جرائم کی فرد گذشتہ برس جنوری میں عائد کی تھی جن میں جھوٹی گواہی دینا اور تفتیشی کام میں رکاوٹ ڈالنا شامل تھے، جنوری میں ہی انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا تھا اب واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی عدالت میں ان کیخلا ف مقدمہ چل رہا ہے، اٹارنی جنرل بل بارکی ہدایت پر پراسیکیوٹرز نے عدالت سے سزا کم سنانے کی درخواست کی تھی اس اقدام کی صدر ٹرمپ نے تعریف کی تھی کیونکہ انکے قریبی اقدام کی صدر ٹرمپ نے تعریف کی تھی کیونکہ ان کے قریبی ساتھی راجر سٹون نے دراصل گذشتہ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر ٹرمپ کو بچانے کی کوشش کی تھی-

صدر ٹرمپ راجرسٹون کیلئے سزاء میں نرمی کی اپیل پر خوش

صدر ٹرمپ نے یہ تعریف ایک ٹویٹ پیغام کے ذریعے کی تھی، اٹارنی جنرل نے ہر معاملے میں ٹویٹ کرنے کے صدر کے انداز کو عمومی طور پر ناپسند کیا اور خاص طور پر کریمنل معاملات کے بارے میں بتایا کہ ان پر تبصروں سے ان کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں ،صدر ٹرمپ اس پربڑھک اٹھے اور فوراً اس اٹارنی جنرل کو رگڑا لگا دیا جو ان کی خوا ہش پر راجر سٹون کیلئے عدالت سے نرمی مانگ رہے تھے۔

صدرٹرمپ متکبر بدلحاظ

Leave a Reply