صاحبان اقتدار جوابدہ، حساب مانگنا جرم تو یہ کرتے رہیں گے ، چیئرمین نیب

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی احتساب بیور و کے چیئر مین جسٹس( ر)جاوید اقبال کا کہنا ہے کرپشن کرنےوالوں کو حساب دینا ہی ہوگا، ستر سی سی موٹر سائیکل رکھنے والے سے پوچھ لیا دبئی میں ٹاور کہاں سے آئے تو کیا گستاخی ہوگئی ؟ حساب مانگنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا،بیورو کریسی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار نہ بنے، نیب کو سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے، گھنٹوں پارلیمنٹ میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نیب کو برابھلا کہہ کر لو گو ں کی ہمدردیاں سمیٹنے کا وقت گزر گیا،اگر کرپشن پر سزائے موت مقرر ہوگئی تو ملک کی آبادی بہت کم ہوجائےگی،موجودہ حکومت سے نہ اختلا ف ،نہ اتحاد و محبت،نیب کی وفاداری ریاست کےساتھ ہے، اتوار کو یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر ایوان صدر میں تقریب سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا گز شتہ ایک سال میں ماضی کے اور موجودہ ارباب اختیار کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگیا ہوں جو کرےگا وہ بھرے گا، گزشتہ 30 سال سے برسراقتدار لوگ شاید فراموش کرگئے یہ عہد مغلیہ اور شہنشاہوں کا دور نہیں، اب ظل الٰہی کا دور ختم ہوچکا ، عام آدمی کو بھی پوچھنے کا حق ہے آپ نے ایسا کیوں کیا اور نیب کو تو یہ قانونی حق حاصل ہے؟۔ عزت و نفس کو ٹھیس نہ پہنچنافرض ہے تو حساب ما نگنے پر جواب دینا بھی فرض ، پاکستان 90 ارب ڈالر کا مقروض ہے، اگر اخراجات سے متعلق پوچھ لیا تو کیا برا کیا۔ نیب کیخلاف جارحانہ مذموم پروپیگنڈا کیا گیا تاکہ مایوسی پھیلے، ان عناصر کو بتاتا ہوں عوام کو سب معلوم کون اندھیرے پھیلا رہا ہے ،عوام اتنے معصوم اور سادہ نہیں کہ اچھے برے میں تمیز نہ کرسکیں، نیب اپنا کام جاری رکھے گا آپ پروپیگنڈا کریں یا نہ کریں، نظام حکومت میں بیوروکریسی ریڑھ کی ہڈی لیکن اگر اس میں تکلیف ہوجائے تو تھراپی تو کرنی پڑتی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اور سابق وزرائے اعظم سمیت نیب میں جن ملز مان کےخلاف مقدمہ چل رہے ہیں، انہیں تمام سہولیات دی جاتی ہیں، چیئرمین نیب کا کہنا تھامجھے پتہ نہیں کاروباری برادری نیب سے کیوں خائف ہے، نیب مقدمات میں سزاو¿ں کا تناسب 7 نہیں 70 فیصد ہے، رسول کریم کا فرمان پاک ہے حکام سوئی تک کی کرپشن کے ببروز قیامت جواب دہ ہونگے ، لیکن یہاں تو جہازوں اور ریلوے کے انجنوں کا پتا نہیں جس کا جو جی چاہے وہ کررہا ہے۔ پاکستان میں ہر شخص احتساب چاہتا ہے مگر وہی شخص یہ بھی چاہتا ہے اس کی طرف نہ دیکھا جائے۔ نیب کا کسی سیاسی فرد سے کسی قسم کا تعلق ، ہدایت لیتا نہ ہی انتقامی کارروائیاں کرتا ہے بلکہ مکمل دیانتداری کےساتھ اختیارات استعمال کررہا ہے اور محدود وسائل میں رہتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے۔ یقین دلاتا ہوں نیب کا ہر اقدام عوام اور ریاست پاکستان کےلئے ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، کسی بھی حکومت کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے نیب ہماری طرف کیوں دیکھ رہا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply