شہید نانا اور والدہ کا مشن،موجودہ سیاسی منظرنامہ اوربلاول بھٹو کی ذمہ داریاں

Spread the love

(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ)
وطن عزیز پاکستان کی سیاست کی کرشمہ شخصیت، سابق وزیراعظم اور پاکستان

پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی آج چالیسیویں برسی ہے، موجودہ سیاسی

منظر نامے میں پیپلزپارٹی آج گڑھی خدا بخش جو بھٹوز کا جائے مدفن ہے کے

میدان میں حسب روایت ایک بڑا سیاسی پاورشو کرنے جا رہی ہے،جس کے لئے

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ بھی کیا کہ

اس سال بھٹو کی برسی سیاسی طاقت ظاہر کرے۔اس سلسلے میں چاروں صوبوں،

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خصوصاً سنٹرل اور جنوبی پنجاب کی پارٹی

تنظمیوں کو بھرپور شرکت کی ہدایات کی گئیں، بقول پیپلز پارٹی سیاسی قوت پر

مبنی یہ جلسہ عام آج سہ پہر ہو گا، جس سے ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول

بھٹو زرداری کے علاوہ آصف علی زرداری اور دیگر پارٹی رہنما بھی خطاب

کریں گے۔ گزشتہ شب نوڈیرو میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور فیڈرل

ایگزیکٹو کونسل کا مشترکہ اجلاس ہواجس میں کئی ایک فیصلوں کی منظوری دی

گئی جس کے بارے میں جلسہ میں کارکنوں کو آگاہ کیا جائے گا۔

ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستانی

سیاست کی تاریخ پرانمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور آبائی قبرستان میں ان بھٹوز کا

مقبرہ مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ بھٹو کو گزرے چالیس اور محترمہ کو دُنیا فانی سے

رخصت ہوئے بارہ سال ہو چکے،ان کا سحر ختم نہیں ہوا، محترمہ بنظیربھٹو، ان

کی والدہ اور والد ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی میں بہت اُتار چڑھائو آئے۔دونوں

نے عالمی سطح پر شہرت پائی اور دونوں ہی غیر فطری موت کا شکار ہوئے،

جبکہ محترمہ کے دونوں بھائی اور بھٹو کے صاحبزادگان میر مرتضیٰ بھٹو اور

میر شاہ نواز بھٹو بھی جواں عمری میں غیر فطری موت ہی سے ہمکنار ہوئے

تھے۔ بیگم نصرت بھٹو نے طویل بیماری اور بڑے دُکھ جھیلے، جبکہ دونوں ماں

بیٹی نے آمریت میں بھی مصائب ہی کا سامناکیا تاہم ثابت قدم رہیں، محترمہ بے

نظیر بھٹو نے اپنی زندگی کے حالات پر مشتمل کتاب ’’دختر مشرق‘‘ تحریر کی،

جس کے دو سے زیادہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، آج کے دن کی مناسبت سے ہم

ان کی کتاب سے کچھ اقتباسات تحریر کرتے ہیں۔

بے نظیر بھٹو اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے تو یہ بتاتی ہیں ان کے آباء

میں اِس امر پر تو اختلاف سا ہے کہ ان کا خاندانی تعلق راجپوت قبیلے سے ہے یا

ان کا قبیلہ عرب سے آنے والے فاتحین کے ساتھ آ کر آباد ہوا تھا، اس سلسلے میں

پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو کہا کرتے تھے بھٹو آرائیں ہیں اور ان کے اجداد

پنجاب سے آئے تھے کہ بھٹہ سے سندھ میں بھٹو ہوا۔ بہرحال یہ کوئی تنازعہ نہیں،

بھٹو بطور قبیلہ سندھ میں آباد ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو دختر مشرق میں لکتھی ہیں۔’’ہماری خاندانی تاریخ میں

المرتضیٰ(لاڑکانہ) کا حوالہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، میرے والد، ان کی تین

ہمشیرگان یہیں پیدا ہوئی تھیں،ہندوستان اور پاکستان میں لاکھوں افراد بھٹو قبیلے

میں شامل ہیں، سندھ کا یہ سب سے بڑا قبیلہ ہے، جس میں چھوٹے کسان بھی ہیں،

اور بڑے زمیندار بھی، سندھ میں ہماری زمینیں ایکڑوں میں نہیں،مربع میلوں میں

ناپی جاتی تھیں۔ بچپن میں ہم1843ء میں سندھ کے برطانوی فاتح چارلس نیپیئر کی

حیرت کی کہانی بڑے مزے لے کر سُنا کرتے تھے، محترمہ اپنے پڑدادا مرتضیٰ

بھٹو کے دور کا قصہ یوں بیان کرتی ہیں کہ اس وقت کے برطانوی فاتح چارلس

نیپیئرسندھ میں زمینوں کے دورے کے دوران اپنے ڈرائیور سے پوچھتا کہ یہ

زمینیں کس کی ہیں تو برجستہ جواب ملتا ’’بھٹو کی زمینیں‘‘ اس نے ڈرائیور کو

حکم دیا بھٹو کی زمینیں ختم ہو جائیں تو مجھے جگا دینا‘‘۔ کئی گھنتوں بعد اس کی

آنکھ کھلی تو اس نے پوچھا ’’ان زمینوں کا مالک کون ہے‘‘ تو ڈرائیور سے جواب

سُن کر حیرت زدہ رہ گیا‘‘ بھٹو ہی مالک ہے‘‘

شہید بی بی اپنے والد سے آخری ملاقات اورتختہ دار پر لٹکائے جانے کے بعد کے

حالات کچھ یوں بیان کرتی ہیں کہ ہم ماں بیٹی 4اپریل1979ء سے قبل سہالہ پولیس

ٹریننگ سنٹر کے ایک کمرے میں نظر بند تھیں، یہیں سے ہمیں لے جا کر آخری

بابا ذوالفقارعلی بھٹو سے3اپریل کو ملاقات کرائی گئی،اگلی صبح انہیں پھانسی دی

گئی اور میت جہاز کے ذریعے لاڑکانہ پہنچا کر گڑھی خدا بخش میں تدفین کردی

گئی، ہم دونوں ماں بیٹی ایک روز قبل مل تو چکی تھیں،لیکن چہرہ دیکھنا اور میت

پر رونا نصیب نہ ہوا ، سہالہ ہی میں ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹا جب جیل سپرنٹنڈنٹ

صبح بھٹو کی اشیاء دینے کے لئے سہالہ آیا۔ ہم دونوں کا خیال تھا ہمیں میت کے

ساتھ لے جایا جائےگا لیکن ایسا نہ ہوا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر بھی دونوں ماں بیٹی نظر بند تھیں

اور چھ ماہ سے المرتضیٰ (لاڑکانہ) میں انہیں رکھا گیا تھا، پہلی برسی سے متعلق

بے نظیر بھٹو نے لکھا ’’جیسے ہی 4اپریل 1980ء کو میرے والد کے قتل کی پہلی

برسی نزدیک آئی ، لوگ جوق در جوق المرتضیٰ کے پاس سے گزرتے ہوئے

گڑھی خدا بخش میں میرے والد کی قبر کی طرف رواں دواں ہوئے ،ہم نے بھی ان

کی قبرپر حاضری کیلئے یہ جانتے ہوئے کہ اجا زت نہیں ملے گی حکومت سے

درخواست کی ،حکومت میرے والد کی یاد اور پی پی پی کی حمایت میں عوامی

مظاہروں سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ ہمارے آبائی گائوں کو جانے والی تمام

سڑکیں سو میل کے دائرہ میں بند کر دی گئی تھیں، اس میں شک نہیں حکومت

لوگوں پر جتنی بھی بندوقیں تانی پھرے میرے والد کی روح کا بھوت ضیاء پر بری

طرح مسلط ہو چکا تھا، میرے والد کی زندگی میں ان کی بطور مدبر سیاستدان اور

سماجی مساوات کے خواب دیکھنے والے شخص کی حیثیت سے بہت تعریف کی

جاتی تھی، ان کے قتل کے بعد ان کے چاہنے والوں کی نظر میں وہ شہید کا بلند

درجہ حاصل کر چکے تھے اور بعض کے نزدیک ولی اللہ کا، ایک مسلمان ملک

میں ان دونوں سے بڑھ کر کوئی رتبہ ہی نہیں ہوتا۔ بے نظیر بھٹو مزید لکھتی ہیں،

المرتضیٰ سے دس میل دور میرے والد کے مدفن سے کرامات کی نشانیوں کی

رپورٹیں آنا شروع ہو گئیں، ایک لنگڑا چلنا شروع کر دیتا ہے،ایک بانجھ عورت

بیٹے کو جنم دیتی ہے،میرے والد کی شہادت کے ایک سال میں ہزاروں لوگ

ہمارے آبائی قبرستان میں زیارت کے لئے آئے تاکہ گلاب کی ایک پتی یا قبر کی

مٹی کو زبان پر رکھ کر دُعا مانگیں، مقامی انتظامیہ نے ان نشانات کو توڑ پھوڑ دیا

جو صحرا میں الگ تھلگ قبرستان کی سمت بتانے کے لئے لگائے گئے تھے،لیکن

لوگ پھر بھی آتے رہے ۔

سندھ خصوصاً اندرون سندھ کے عوام بھٹو کو انہی صفات سے یاد کرتے اور بے

نظیر بھٹو کو ’’شہید رانی‘‘ کہتے ہیں۔ یہ بھٹو کا سحر ہے جس نے گڑھی خدا

بخش کے ویران قبرستان کو بھٹوز کے مقبرہ کے باعث یہ شہرت دی،اِس لئے بھٹو

اور ان کی صاحبزادی کے سیاسی اثرات سے نظر نہیں چرائی جا سکتی، جیالے

بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں آج یہ سب تلاش کرتے ہیں؟

صوبہ سندھ کے عوام کی شہید رانی کے فرزند پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ نانا

اور والدہ سے اہل سندھ ہی نہیں اہل پاکستان کی والہانہ محبت کا قرض انہیں

خوشحال و آسودہ حال کر کے اتاریں ، ایسا تب ممکن ہوگا جب وہ خواص نہیں

عوام کی سیاست کریں گے ، ذاتی نہیں عوامی اور ملکی مفادات کو مقدم رکھیں

گے اور نانا، نانی اور والدہ کی طرح ثابت قدم رہیں، اس مقصد کیلئے عین ممکن

ہے انہیں کئی ایک قربانیاں دینا پڑیں ، مشکلات کا سامنا ہو، لیکن امر ہونے کیلئے

یہ ضروری ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ آج سہہ پہر کو نانا کی برسی کی تقریب

میں ایسا منشور دینگے کہ جو حقیقی معنوں میں ملک اور عوام کے مفادات کا

ترجمان ہوگا اور عزم صمیم کے ساتھ اس پر عملدرآمد کرنے کا عہد کرتے ہوئے

جدوجہد شروع کرینگے تاکہ نانا اور والدہ کے مشن کی تکمیل کے ساتھ ساتھ والد

آصف علی زرداری پر لگے کرپشن کے الزامات کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر

سکیں.

Leave a Reply