حریت رہنما شہید اشرف صحرائی سخت بھارتی فوجی محاصرے میں سپرد خاک

حریت رہنما شہید اشرف صحرائی سخت بھارتی فوجی محاصرے میں سپرد خاک

Spread the love

سرینگر(جے ٹی این آن لائن کشمیر نیوز) شہید اشرف صحرائی

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت

کانفرنس کے سینئر رہنما اور تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد

اشرف صحرائی کو کپواڑہ کے علاقے لولاب میں انکے آبائی گاﺅں ٹکی پورہ میں

سخت فوجی محاصرے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ قابض حکام نے لوگوں کی نقل و

حرکت پر سخت پابندی عائد کررکھی تھی اور پورے علاقے کی ناکہ بندی کی گئی

تھی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بہت کم تعداد میں لوگوں کو جن میں بیشتر ان

کے قریبی رشتہ دار تھے کو شہید رہنماء کی نماز جنازہ میں شرکت او ر ان کی

آخری جھلک دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بھارتی فوج نے محمد اشرف

صحرائی کے جنازے میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کیلئے

پوری مقبوضہ وادی میں سخت پابندیاں نافذ کر رکھی تھیں۔

=-= کشمیر سے متعلق مزید خبریں =-= پڑھیں =-=)

میت کی آمد اور تدفین کے وقت پورے گاﺅں میں بجلی مکمل طورپربند کردی گئی

تھی جس سے پورا علاقہ مکمل تاریکی میں ڈوب گیا۔ ان کی میت کو جموں سے

انکے آبائی گاﺅں پولیس کی تحویل میں لایا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے

کشمیری عوام سے بھرپور اپیل کی تھی کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر مودی

حکومت کے مظالم کے خلاف زبردست مظاہرے پورے مقبوضہ علاقے میں جگہ

جگہ شہید رہنماء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں۔ شہید اشرف صحرائی کے جنازے

کے دوران لوگوں نے آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک

شگاف نعرے بلند کئے۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دکھایا جا سکتا ہے کہ کپواڑہ کے علاقے

لولاب میں ان کے آبائی گاﺅں ٹکی پورہ میں اشرف صحرائی کی نماز جنازہ کے

موقع پر لوگوں نے اشرف صحرائی، اسلام، آزادی اور پاکستان کے حق میں

زبردست نعرے بلند کئے۔ لوگوں نے ” نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، ہم کیا چاہتے آزادی،

آزادی کا مطلب کیا ۔لا الہ الا اللہ، صحرائی صاحب سے رشتہ کیا، لا الہ الا اللہ، ہم

پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے، پاکستان سے رشتہ کیا۔ لا الہ الا اللہ، ظالموں اور

غداروں سنو، آزادی ہمارا حق ہے اور ہم ہر قیمت پر یہ حق حاصل کر کے رہیں

گے “ جیسے فلک شگاف نعرے بلند کئے۔

شہید اشرف صحرائی

Leave a Reply