0

شہباز شریف کی پی اے سی کی سربراہی سپریم کورٹ میں چیلنج

Spread the love

سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی رکنیت کو فی الفور معطل کر دیا جائے اور انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے برطرف کر دیا جائے نیز عدالت سپیکر قومی اسمبلی کو حکم دے کہ وہ شہباز شریف کی جگہ نیا قائد حزب اختلاف نامزد کریں ۔ عدالت سپیکر سے دریافت کرے کہ انہوں نے آئین کی کس شق اور اسمبلی کے قواعد کو نظر انداز کر کے وزیر اعظم سے ان کے دفتر میں ملاقات کی جس کے بعد میاں شہباز شریف کو بلامقابلہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی ۔ آئین سپیکر کو وزیر اعظم کے ساتھ کسی قسم کی خصوصی مشاورت کا حق نہیں دیتا اور جس کمیٹی کا سربراہ خود وزیر اعظم مقرر کے وہ خاک حساب کتاب کرے گی ۔ عدالت سپیکر سے پوچھے کہ شہباز شریف سے شاہانہ سلوک پر اخراجات کس مد میں ہو رہے ہیں ۔ صوبہ پنجاب کی سخاوت کی کوئی حد نہیں اور قیدیوں کے ساتھ عملاً شہزادوں کا برتاؤ کیا جا رہا ہے ۔ لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف کے لئے ایئرایمبولینس کی پیش کش کی اور پوچھا جائے کہ احتساب آرڈیننس میں ایئر ایمبولینس کی گنجائش کہاں ہے ۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی نے انگریزی مقولے میں شہباز شریف کے ساتھ ان کے فرزند حمزہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو کم و بیش آٹھ سال تک پنجاب کا ایڈیشنل چیف منسٹر بنا رہا اور اب باپ بیٹا قومی اور صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد بنے بیٹھے ہیں ۔

Leave a Reply