شہباز شریف کا پبلک اکا ؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفے کا اعلان،نئے انتخابات کا مطالبہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شہباز شریف نے پبلک اکا ونٹس کمیٹی کی چیئرمین

شپ چھوڑنے کا اعلان کردیا،رانا تنویر کا نام چیئرمین پی اے سی کیلئے پارٹی نے

دیدیا ہے ،اسی وجہ سے پی اے سی میں نہیں جا رہاا نتخابی دھاندلی کمیشن سے

بھی استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا۔ہفتے کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے

گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف نے

کہاکہ مولانا فضل الرحمن کو پوری طرح سپورٹ کریں گے، انکے ساتھ اچھے

تعلقات ہیں ،شہباز شریف نے کہاکہ عمران خان جھوٹا ترین وزیراعظم ہے اگر

سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی بقا کیلئے ایکا ہو پھر جمہوریت مضبوط ہوگی

ماضی میںسب نے غلطیاں کی ہیں اپوزیشن کا فیصلہ تھا لاڈلے کو ایکسپوز ہونے

دیں،سب نے دیکھ لیا معیشت کی تباہی ہوئی معیشت کو لگی بیماری کا علاج صرف

نئے انتخابات ہیں، ان ہائوس تبدیلی نہیں پارٹی کی ایک سوچ ہے وقت کے مطابق

اسے ڈھالا جاتا ہے مسلم لیگ ن عوام کو مایوس نہیں کرے گی بجٹ کی چوٹ ایک

ماہ بعد عوام پر پڑے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہا فیصلے اتفاق

رائے سے ہوتے ہیںاختلاف بھی ہوتو ڈسپلن کی پابندی کی ضرورت ہوتی ہے نواز

شریف جب ترقی خوشحالی اور خطے میں امن کی بات کرتے تھے تو غدار کہا

جاتا ہے لیکن اب نواز شریف کے فلسفے کو ہی آگے بڑھایا جا رہا ہے پولیو کے

جتنے واقعات سامنے آرہے ہیںحیرانگی ہے موجودہ دورہر لحاظ سے بدترین ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ وزیراعظم نیازی نے اتنا بڑا بلنڈر کیا کہ ’’سلیکٹڈ ‘‘ان کی

چڑ بن گئی اور یہ چڑ قیامت تک ان کیساتھ جائے گی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے

ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں ایوان مچھلی منڈی بنارہا اور پہلے

4 دن ضائع کیے گئے، حکومتی ارکان جلتی پر تیل ڈالتے رہے۔انہوں نے کہا کہ

معاشرے میں عدم برداشت جنم لے رہی ہے، ماضی میں بھی اختلافات رہے لیکن

یہ ماحول کبھی نہیں تھا۔قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ہمارا کوئی

مطالبہ نہیں مانا گیا، اپوزیشن نے حقائق کے ساتھ بجٹ کے بخیے ادھیڑ کر رکھ

دئیے، تاریخ میں ایسا ظالمانہ دشمن بجٹ کبھی سامنے نہیں آیا، ہمارے دور میں

مفت معیاری دوائیاں فراہم کی جارہی تھیں اور آج غریب آدمی علاج کے بغیر مر

رہا ہے، عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ان کی آواز بنیں گے۔شہبازشریف نے مزید کہا

کہ میں نے نیازی کوسائیڈ لائن پی ایم کہہ دیا تھا، وزیراعظم اور ٹیم ناکام ہو چکی

ہے، ان کی ٹیم واپس بھیجی جا چکی، اب سلیکٹڈ لوگ آگئے ہیں، معاشی ٹیم وہی

چلا رہے ہیں، عمران خان اور ان کی ٹیم کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ان کا

کہنا تھا کہ اجتماعی استعفوں سے متعلق تجویز پہلے ایک اے پی سی میں مسترد

کردی گئی تھی، رہبر کمیٹی چیئرمین سینیٹ کا نام تجویز کریگی، اتفاق رائے نہ

ہونے پر سب قیاس آرائیاں ہیں، ابھی تو مرحلہ بھی شروع نہیں ہوا۔اپوزیشن لیڈر

نے کہا کہ ہمارا لیڈر ایک ہے جس کا نام نواز شریف ہے اور ان سے جو ظلم ہورہا

ہے وہ پرویزمشرف کی آمریت میں بھی نہیں ہوا ، فسطائیت کی بدترین مثال ہے،

عمران نیازی کے کہنے پر نوازشریف سے اہل خانہ کی ملاقاتیں بھی نہیں ہونے

دی جارہی ہیں، والدہ اور بہن کو بھی نہیں ملنے دیا گیا۔شہبازشریف کاکہنا تھا کہ

کسی ایک نکتے پر رائے دینا جمہوریت کا حسن ہے، یہ جمہوریت ہے یہ فاشزم

نہیں ہے، اتفاق رائے سے جو فیصلہ ہو اسے سب تسلیم کرتے ہیں، آپ پیپلز پارٹی

سے ہمیں لڑانے کی کوشش بھی کریں گے تو ہم نہیں لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ

ہمسایوں سے عزت اور برابری کی بنیادوں پر تعلقات قائم ہونے چاہئیں، یہ نہیں کہ

مودی کی منتیں کریں اور وہ بات بھی نہ سنے۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ

پنجاب کی کارکردگی پر میں کچھ نہیں کہوں گا، عوام مشاہدہ کریں، وزیراعظم

کیخلاف عدم اعتماد تحریک کا سوال ابھی قبل از وقت ہے، تحریک عدم اعتماد لانا

اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے، عمران خان 71 سالہ تاریخ کا جھوٹا ترین

اور سلیکٹڈ وزیراعظم ہے, میں نے ایوان میں کہا کہ این آر او کا بتائیں کس نے

رابطہ کیا، ماضی میں ہم نے غلطیاں کی ہیں ،آج نتیجہ بھگت رہے ہیں، اگر ایکا

کرلیں کہ جمہوریت پر قدغن نہیں لگنے دینا تو انشاء اللہ وقت بدل جائے گا۔اپوزیشن

لیڈر نے کہا کہ ہم میچور اپوزیشن کریں گے، فیصلہ کیا تھا کل لاڈلے کو بے نقاب

ہو نے دیں گے، آج ملک کاجو حال ہوا وہ بے نقاب ہو چکا، یوتھ اور فاؤنڈرز کو

بھی پتہ چل گیا ہے، معیشت کو جو بیماری لگ گئی ہے اس کا علاج نئے انتخابات

ہیں، مڈ ٹرم الیکشن جمہوریت میں ہوتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply