شہباز شریف ضمانت منظور

منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کی ضمانت منظور

Spread the love

شہباز شریف ضمانت منظور

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی ،مس جسٹس عالیہ

نیلم اور مسٹر جسٹس شہبازرضوی پرمشتمل تین رکنی ریفری بنچ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر

میاں شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس کی ضمانت منظوری کرلی ،عدالت نے اس سے قبل

درخواست ضمانت پر سماعت کرنے والے دورکنی بنچ کے رکن مسٹرجسٹس سرفراز ڈوگر کے

فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کو 50،50لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے

عوض رہا کرنے کا حکم دیاہے ،واضح رہے کہ میاں شہباز شریف کی ضمانت منظوری کا مجموعی

طور پر فیصلہ 4ایک کے تناسب سے سنایا گیا ہے ،4ججوں نے ضمانت منظور اور ایک جج نے

مخالفت کی تھی۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فل بنچ کے روبرو قومی اسمبلی میں قائد حزب

اختلاف میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف

110میں سے صرف 10گواہوں کے بیان ریکارڈ کئے گئے ہیں، اب تک ایک دھیلے کا الزام بھی ثابت

نہیں ہوا ،میاں شہباز شریف 7ماہ سے قید اور70سال کے بوڑھے شخص ہیں جو کہ کینسر سمیت

مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں ، ان سے تفتیش مکمل اور ریفرینس بھی دائر ہو چکا ہے،کچھ روز قبل

احتساب عدالت کے جج کا تبادلہ ہو گیاہے جس کے باعث ریفرنس پر جلد ٹرائل مکمل ہونا ممکن

نہیں،عدالت سے استدعاہے کہ میاں شہباز شریف کی ضمانت منظور کی جائے،نیب کے وکیل فیصل

رضا بخاری نے عدالت میں مشتاق چینی کا بیان پڑھا اور بتایا کہ مشتاق چینی کے اکاؤنٹ سے سلمان

شہباز کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے کی ترسیلات ہوئیں،میاں شہباز شریف کے سلمان شہباز بیٹے

ہیں،وعدہ معاف گواہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سلمان شہباز کے بیٹے اور نواز شریف کے بھتیجے

تھے اس لئے انکار نہیں ہوسکا،نیب کے وکیل نے مزید کہا کہ ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ مین

منتقل ہونے والی رقم کی کوئی منی ٹریل نہیں ،فاضل بنچ کے سربراہ مسٹرجسٹس علی باقر نجفی نے

استفسار کیا کہ بے نامی دار ثابت کرنے کے لئے کیا اجزا چاہیے ہوتے ہیں اور نیب نے کیا تحقیقات

کیں؟ نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ 1996ء میں سلمان شہباز نے ٹی ٹیز وصول کیں جسٹس علی باقر

نجفی نے کہاکہ یہاں کیس شہباز شریف کا ہے ،سلمان شہباز کا نہیں ،جو ٹی ٹیز آتی تھیں ان کے ذرائع

کیا تھے ؟آخر وہ رقم کہاں سے آئی تھی جو ٹی ٹیز کے ذریعے بھجوائی گئی ؟آپ یہ بتائیں کہ کیا نیب

نے تفتیش کی کہ یہ رقم کیا کک بیکس کی ہے یا کرپشن کی ؟آپ کو تو یہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ تفتیش

کرتے کہ ان ے غیر قانونی ذرائع کیا تھے ؟اگر ا ن کے گھر میں آپ کے مطابق کروڑوں روپے آتے

تھے تو وہ دیتا کون تھا ؟ آپ کے مطابق یہ پیسہ غیر قانونی ہے تو کسی وجہ سے ہی کمایا ہو گا؟ جس

پرنیب پراسکیوٹر نے عدالت کوبتایاکہ نصرت شہباز نے ماڈل ٹاؤن میں پلاٹ خریدا جو ان کے بیٹوں

نے ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی رقم سے بنایا، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے گھر کو 10

برس تک وزیراعلی کیمپ آفس قرار دیا گیا، ملزم شہباز شریف اپنی بیوی کے گھر میں 10 برس ک

رہتا رہا، میاں شہبا زشریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ شہباز شریف توابھی بھی وہیں ماڈل ٹاؤن

میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہ رہے ہیں، فاضل بنچ کے سربراہ علی باقر نجفی نے کہا کہ میرے خیال سے

شہباز شریف تو اب جیل میں رہ رہے ہیں،فاضل جج کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت قہقہہ بلند

ہوا،عدالت سے استدعاہے کہ میاں شہباز شریف کی درخواست ضمانت خارج کی جائے ،ریفری بنچ

کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے دلائل مکمل ہونے بعد میاں شہباز شریف کی ضمانت منظور

کرتے ہوئے کہا کہ تینوں جج صاحبان میاں شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلہ سے متفق ہیں ،ہم نے

اس سے ضمانت کی درخواست پر سماعت کرنے والے دورکنی بنچ کے سربراہ جسٹس سرفراز ڈوگر

کے میاں شہباز شریف کی ضمانت منظوری کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے ،یادرہے کہ چیف جسٹس

لاہور ہائیکورٹ مسٹرجسٹس قاسم خان نے میاں شہباز شریف درخواست ضمانت پر ڈویژن بنچ کے دو

ججوں کا اختلاف سامنے آنے کے بعد تین رکنی فل بنچ تشکیل دیا تھا، ڈویژن بنچ کے سربراہ مسٹر

جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے میاں شہباز شریف کی ضمانت مظور جبکہ فاضل بنچ کے رکن مسٹر

جسٹس اسجد جاوید گھرال نے مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔دوسری طرف لاہورہائی کورٹ میں

میاں شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اﷲ نے کہا

کہ لارجر بنچ نے ہماری بے گناہی کی گواہی دی ہے، سلیکٹڈ حکمران نے قوم کے تین سال کیوں

ضائع کئے، ملک میں صرف انتقام اور بربادی کی گئی۔ ان موجودہ حکمرانوں نے ملک کو تباہ کر دیا

ہے، تین سالوں میں ملک کی معیشت بدنام ہوئی اور صرف انتقام کی سیاست کی گئی، آج انتقام کی

سیاست زمین بوس ہوئی ہے، کٹھ پتلی حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں، میاں نواز شریف اور

میاں شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان آگے بڑھے گا،رانا ثناء اﷲ نے صاف شفاف انتخابات کا

مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کا واحد حل فری فیئر الیکشن ہے،اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی

رہنمامریم اورنگزیب نے کہا کہ نیب شہباز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت نہیں

کرسکا،میں آج پوری قوم کو مبارکباد دیتی ہوں،آج عمران خان کا جھوٹے کرپشن کا بیانیہ آج ناکام ہوا

ہیدریں اثنامسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ دس سال کہیں بھی ناانصافی کا سن کر

پہنچ جانے والے کو آخر انصاف مل گیا۔ ن لیگی رہنما مریم نوازنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ شہباز

شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو خدمت میں کرو ، جھوٹے مقدمات کے ذریعے خدمت کے نشان نہیں مٹائے

جاسکتے۔ جتنی مرتبہ بھی شہباز شریف صاحب کو گرفتار کیا، ان کا جرم صرف نواز شریف سے وفا

نکلا۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے پارٹی صدر شہبازشریف کی ضمانت پر

اظہار تشکرکرتے ہوئے کہا ہے کہ اﷲ تعالی کے حضور سربسجود ہیں کہ اس نے ہماری قیادت اور

جماعت کے ہر فرد کو قانون، قوم اور ضمیر کی عدالت میں سرخرو فرمایا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے

کہا کہ نوازشریف، شہبازشریف اور مسلم لیگ (ن)کارکردگی،وعدوں کی تکمیل، احتساب اور امانت

داری کے ہر امتحان میں کامیاب ہوئے ۔تمام سپورٹرز، کارکنان، عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا

ہوں جنہوں نے ہمیشہ دعاؤں، محبتوں اور اپنی حمایت سے نوازا ،اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے

نوازشریف اور شہبازشریف کی قیادت میں ملک وقوم کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔

شہباز شریف ضمانت منظور

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply