ہم سیاستدان آلہ کار بنے، حمام میں سب ننگے ہیں، شہباز شریف کا اعتراف

ہم سیاستدان آلہ کار بنے، حمام میں سب ننگے ہیں، شہباز شریف کا اعتراف

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن پاکستان نیوز) شہباز شریف اعتراف

میرے پارٹی صدارت سے استعفے کی خبریں جعلی ہیں، مسلم لیگ (ن) ہمارا گھر

اور نواز شریف میرے قائد ہیں، ہر بات میں ان سے مشاورت کرتا ہوں۔ ہمارے

ملک میں سیاستدان بھی استعمال ہوئے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہم فرشتے ہیں، ہم سے

بھی غلطیاں ہوئیں۔ تاہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ہم

سیاستدان آلہ کار بنے ہیں، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔میری رائے کسی سے

ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کوئی بھی ہو ہمیں ملک کی خاطر اپنی انا کو ختم کرنا ہو گا۔

ہم الیکشن میں حکمت عملی بناتے تو نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم ہوتے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز

شریف نے ان خیالات کا اظہار ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کیا-

=-= یہ بھی پڑھیں، شہباز شریف کا حکومت کیخلاف جارحانہ سیاست اپنانے کا فیصلہ

ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے یہ انکشاف کیا کہ غلام اسحق خان اور

اس کے بعد پرویز مشرف نے بھی مجھے وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جتنی سپورٹ عمران خان حکومت کو ملی، اس کا 100 واں حصہ

بھی کسی کو نہیں ملا، مگر پھر بھی ملکی حالات خراب ہیں۔ ہمیں ملک کیلئے ذاتی

انا کو ختم کرنا ہو گا، آئیں ماضی کی تلخیوں کو دفن کریں۔ ان کا کہنا تھا حکومت

مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) بنی اور ٹوٹ بھی گئی، ان

دنوں میں جیل میں تھا۔ اب میں بطور اپوزیشن لیڈر تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر

چلنا چاہتا ہوں۔ اگر اپوزیشن باہر اکھٹی نہیں ہوتی تو اسے کم از کم پارلیمنٹ میں

اکھٹے ہونا چاہیے۔ اانہوں نے کہا کہ ہمیں جیلوں میں ڈالنے کا فیصلہ فرد واحد

مشرف کا تھا۔ قومی احتساب بیورو کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب

دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں دو مرتبہ نیب کا مہمان بن چکا ہوں۔ وزیراعظم

عمران خان کا بس چلے تو وہ مجھے دوبارہ گرفتار کرا دیں۔ مجھ پر جو سختیاں

کی گئیں، ان سے میری سوچ نہیں بدلی۔ جب کارگل کا واقعہ ہوا تھا تو میں نے نواز

شریف کو مشورہ دیا تھا کہ امریکہ میں بل کلنٹن سے ملاقات کیلئے سپہ سالار

پرویز مشرف کو بھی ساتھ لے جایا جائے، انہوں نے میرا مشورہ مان لیا تھا لیکن

ایک دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ ساتھ نہ لے کر جائیں-

=-= پڑھیں، شہباز شریف سے 25سوال کیے، ایک کابھی جواب نہیں دیا ،ایف آئی اے

شہباز شریف نے کہا میں اٹک قلعے اور لانڈھی جیل میں قید رہا، دو بار نیب کے

عقوبت خانے کا مہمان بنا، جلاوطنی اختیار کرنی پڑی، مشرف نے خود تسلیم کیا

کہ انہوں نے مجھے وزارت عظمیٰ کی آفر کی تھی، نواز شریف کو ان کی صحت

کی خرابی کے باعث اس حکومت نے باہر بھیجا، ان کو ڈاکٹروں نے اب بھی سفر

سے منع کر رکھا ہے جب ڈاکٹر ان کو اجازت دینگے تو وہ تب ہی واپس آ سکیں

گے، جب کلثوم نواز بیمار تھی تو حکومت نے کس کس طرح کی بیہودہ خبریں

چلوائیں، نواز شریف نے پانچ ارب ڈالر کی آفر ٹھکرا کر پاکستان کو ایٹمی قوت

بنایا، ہمیں جیل میں ڈالنے کا فیصلہ پرویز مشرف کا تھا، نیب نیازی کٹھ جوڑ سے

انصاف کی توقع نہیں، ہم پر جھوٹے کیسز بنائے گئے لیکن چینی سکینڈل، گندم

سکینڈل پر سب خاموش ہیں، فوج کے جرنیلوں، افسروں اور سپاہیوں نے عظیم

قربانیاں دی ہیں، شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے

لئے دیانت کا فقدان رہا ہے، کسی فرد یا ادارے کے خلاف نفرت کا عنصر نہیں ہونا

چاہیے، ملکی ترقی کے لئے اجتماعی بصیرت کو بروئے کار لانا چاہیے۔

=-= پڑھیں، آزاد کشمیر الیکشن نتائج کیخلاف اعلان احتجاج پر شہباز شریف کا بڑا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور میں ہر معاملے میں مشاورت کرتے ہیں۔ میری یہ

رائے ہے کہ اگر پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانا ہے تو اپنی ذاتی پسند

اور ناپسند سے بالاتر ہو کر جدوجہد کرنا ہو گی۔ شہباز شریف نے کہا 12 اکتوبر

1999ء کو جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ماضی کو بھلا

کر آگے بڑھنا اور عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے ماضی سے سبق سیکھنا

ہو گا۔ میں قومی مفاہمت کی بات کرتا ہوں ذاتی اناء کو مٹا کر غریب قوم کے مفاد

کو سامنے رکھ کر سوچا جائے۔ غربت اور مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے۔ شہباز

شریف نے کہا کہ مجھ پر اندرون خانہ مفاہمت کی کوششوں کے الزامات غلط ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو ان کی صحت کی خرابی کے باعث اس

حکومت نے باہر بھیجا جب دو دو بار بلٹن چلتے تھے کہ پلیٹ لیٹس کم ہو رہے ہیں

تو وہ کیا میں چلواتا تھا۔ ان کی صحت خراب تھی جس کو حکومت نے بھانپ کر

باہر بھجوایا۔ ان کو ڈاکٹروں نے اب بھی سفر سے منع کر رکھا ہے جب ڈاکٹر ان

کو اجازت دیں گے تو وہ تب ہی واپس آ سکیں گے۔ جب کلثوم نواز بیمار تھی تو

حکومت نے کس کس طرح کی بےہودہ خبریں چلوائیں۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

شہباز شریف کا کہنا تھا میری ایک ہی خواہش ہے کہ یہ ملک اس راستے پر چل

پڑے جس کا خواب قائداعظمٌ نے دیکھا تھا، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پانچ

ارب ڈالر کی آفر ٹھکرا کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ ملک سے بیس بیس گھنٹے

کی لوڈ شیڈنگ ختم کی۔ سستے بجلی گھر بنائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ عمران

خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے لندن میں قومی اداروں کو خلاف زہر اگلا۔ نیب

نیازی کٹھ جوڑ سے انصاف کی توقع نہیں۔ ہم پر جھوٹے کیسز بنائے گئے، موجودہ

حکومت نے میرے ہر منصوبے کا فرانزک آڈٹ کرایا، لیکن ان کو کچھ بھی نہیں

ملا۔ شہباز شریف نے کہا کہ عظیم دوست چین نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا

لیکن حکومتی اقدامات سے چین کو ناراض کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے

کہا کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا معاملہ حکومت کی نااہلی کے باعث سپریم

کورٹ گیا وگرنہ یہ خالصتا وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس

حکومت نے پہلے سستے داموں چینی باہر بھجوائی پھر مہنگے داموں درآمد کی۔

مہنگی ترین ایل این جی خریدی جا رہی ہے۔ کیا ان کے ہاتھ صاف ہیں؟ ایک سوال

کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر پارلیمان میں اپوزیشن

جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ پارلیمنٹ میں سب اپوزیشن پارٹیوں کو

اکٹھا ہونا چاہیے تاکہ موجودہ حکومت کی نااہلیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کی

جا سکے۔

شہباز شریف اعتراف ، شہباز شریف اعتراف ، شہباز شریف اعتراف

Leave a Reply