شہبازشریف کو این آر او مانگتے دیکھا ، کوئی پی اے سی کا رکن بننے سے نہیں روک سکتا،شیخ رشید

Spread the love

وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ میں نے ایک ہی آدمی کو این آر او مانگتے دیکھا اور سنا ہے اور اس کا نام شہبازشریف ہے لیکن وہ جتنی مرضی کوشش کرلیں این آر او نہیں ملے گا،مجھے آئین اور قانون کے تحت کوئی شخص پی اے سی کا رکن بننے سے نہیں روک سکتا، میرا پبلک اکاونٹس کمیٹی میں جانا لازمی ہے،عمران خان کی حکومت میں امریکی صدر ٹرمپ کو بھی پاکستان آتا دیکھ رہا ہوں، ق لیگ والے کہیں نہیں جارہے ، عمران خان ہی امید کیلئے آخری آپشن ہیں۔لاہور میں ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ سعودی عرب کے فرمانروا جب پاکستان آئیں گے تو آپ کو پتا چلے گا سرمایہ کاری ہوتی کیا ہے لیکن سعودی عرب سے اتنی سرمایہ کاری دیکھ رہا ہوںکہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔ کرپشن کے خلاف عمران خان کے نعرے پر قوم اعتبار کرتی ہے ، اس وقت ملک میں جو صورت حال ہے اس کے ذمہ دار نواز شریف اور زرداری ہیں، شیخ رشید نے مزید کہا کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ سوچیں کہ کیا کیا گیا ملک کے ساتھ، اعتزاز احسن ، لطیف کھوسہ اور مولابخش چانڈیو کو بلاول کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، مجھے بلاول کی فکر ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا، اگر بلاول نے سیاست کرنی ہے تو اس کو بھٹو بننا ہوگا۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا مجھے آئین اور قانون کے تحت کوئی شخص پی اے سی کا رکن بننے سے نہیں روک سکتا، میرا پبلک اکاونٹس کمیٹی میں جانا لازمی ہے ، تحریک انصاف اپنے کس رکن کا نام واپس لیتی ہے یہ ان کا مسئلہ ہے، میں اس وقت پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ سینئر اور تجربہ کار ہوں۔شیخ رشید نے کہا کہ شہبازشریف نے خود کہا تھا کہ وہ ن لیگ کے کیسز میں سربراہی نہیں کریں گے، ن لیگ کے کیسز میں پی اے سی کی سربراہی میں کروں گا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو نیب کو مطلوب ہو وہ کہے نیب اس کے پاس پیش ہو۔ عمران خان اگلے ہفتے ٹریکنگ سسٹم کا افتتاح کرینگے۔فروری میں ٹرینوں میں سفر کروںگا اور اسٹیشنوں پر بھی سوئوں گا، صفائی اور خوش اخلاقی کا ٹرینڈ لارہے ہیں،اسلام آباد میں ایک کال سینٹر اور کمپلین سینٹر کھول رہے ہیں جس سے لوگ براہ راست اپنی شکایات کا اندراج کر اسکیں گے جس کا فوری ازالہ کیا جائیگا۔تمام بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے،بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کو جیلوں میں بھیجنا پڑا تو یہ اقدام بھی اٹھائیں گے اور پہلے چوبیس گھنٹوں کیلئے بند کریںگے او راس کے ساتھ جرمانہ بھی کیا جائے گا،ہم نے چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے معاونت لی ہے اور پاکستان کے پاس امپورٹ بلز کے ادائیگی کیلئے چھ ماہ کے ذخائر موجود ہیں جو پاکستان جیسے ملک کیلئے کافی ہیں۔

Leave a Reply