ہم سیاستدان آلہ کار بنے، حمام میں سب ننگے ہیں، شہباز شریف کا اعتراف

شہباز شریف ضمانت درخواست کےخلاف نیب کی استدعا مسترد

Spread the love

لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور مسٹر جسٹس مرزا وقاص رﺅف پر مشتمل2 رکنی بنچ نے آشیانہ سکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیس میں میاں شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت ملتوی کرنے سے متعلق نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کے وکلاءکو دلائل جاری رکھنے کی اجازت دے دی ۔ میاں شہباز شریف کے وکلاءکے ابتدائی دلائل مکمل ہونے کے بعد فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت 6 فروری پر ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا آئندہ اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی۔ عدالت نے نیب کو آئندہ تاریخ سماعت تک ہر حال میں جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دو رکنی بنچ کے روبرو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل بنچ نے وکیل سے استفسار کیا کہ تحریری جواب کہاں ہے جس پر وکیل نے استدعا کی کہ ہمیں جواب داخل کروانے کےلئے مہلت دی جائے۔ عدالت نے نیب وکیل کے بیان پر اظہار برہمی کیا اور استفسار کیا کہ آپ کیسے کام کررہے ہیں ہر بار مہلت کی استدعا کررہے ہیں۔ آپ جواب جمع کرواتے رہنا۔ دیکھیں کتنی فائلیں جمع ہو گئی ہیں۔ عدالت نے نیب وکیل کو خاموش رہنے کا حکم دیتے ہوئے شہباز شریف کے وکیل کے دلائل دینے کی ہدایت کی ۔ شہباز شریف کے وکلاءاعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے کہا کہ شہباز شریف کو 64دن ریمانڈ پر رکھا اب پھر نیب تاریخ مانگ رہا ہے اتنے دنوں کا ریمانڈ تو دہشت گردوں کا بھی نہیں ہوتا جتنے روز کا ریمانڈ شہباز شریف کا لیا گیا ۔ جسٹس شہزاد احمد نے نیب وکیل سے کہا کہ آپ نے ریفرنس دائر کردیا ہے اب آپ کے کمنٹس کی ضرورت نہیں۔
عدالت نے شہباز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں آپ کا پیرا گون سے کیا تعلق ہے؟ شہباز شریف پر نیب نے تو متعدد الزامات لگائے ہیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کا پیرا گون سے کوئی تعلق نہیںیہ ہاﺅسنگ سوسائٹی ندیم ضیاءکی ملکیت ہے۔ عدالت کے روبرو شہباز شریف کے وکلاءکے ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے جس کے بعد فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت 6 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کو ہر صورت میں آئندہ تاریخ سماعت تک جواب داخل کرنے کاحکم دے دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران حمزہ شہباز ، مجتبیٰ شجاع الرحمن اور رانا تنویر سمیت متعدد مسلم لیگی رہنما عدالت میں موجود تھے۔علاوہ ازیں لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف،خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی گرفتاری کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور نیب کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے لائیرز فاونڈیشن فار جسٹس نامی تنظیم کی درخواست پر سماعت کی جس میں شہباز شریف اور خواجہ برادران کی گرفتاری کو چیلنج کیا گیا ۔درخواست گزار تنظیم کے وکیل اے کے ڈوگر نے دعوی کیا کہ آئین کے آرٹیکل 10کے تحت شہباز شریف اور خواجہ برادران کو فری اینڈ فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔
فری اینڈ فئیر ٹرائل بنیادی حق ہے جبکہ چیئرمین نیب کا دوران انکوائری کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کا اقدام آئین سے متصادم ہے۔ سپریم کورٹ نیب آرڈیننس کی دفعہ 24میں ترمیم کرنے کا فیصلہ دے چکی ہے۔ اس صورت حال میں شہباز شریف اور خواجہ برادران کو گرفتار رکھنا آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے. درخواست میں استدعا کی گئی کہ شہباز اور خواجہ برادران کی گرفتاری کو کالعدم قرار دے کر فوری طور پر انہیں فوری طور پر ریا کرنے کا حکم دیا جائے۔لاہور ہائیکورٹ نے موقف سننے کے بعد درخواست پر وفاقی حکومت اور نیب کو نوٹس جاری کر دیئے۔

Leave a Reply