شہبازتتلہ کو بیوی سے ناجائز تعلقات پر قتل کیا،مفخر عدیل کاپولیس کو پہلا بیان

لاہور (کرائم رپورٹر سے)شہباز تتلہ کے اغوا کے بعد مبینہ قتل کا معاملہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا

پولیس نے 33روز سے مفرور مرکزی ملزم ایس ایس پی مفخر عدیل کوگلگت بلتستان سے حراست

میں لے لیا۔ مفخر عدیل کو حراست میں لینے کیلئے خصوصی ٹیم لاہور سے گلگت بلتستان گئی تھی ۔

پولیس ذرائع کے مطابق مفرورایس ایس پی مفخرعدیل کوسیکیورٹی اداروں کی مدد سے گرفتارکیاگیا

ہے۔ مفخرعدیل ایران فرارہوگیا تھا جہاں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کے خوف سے واپس آگیااور باڈر

پر دوران اسکریننگ اس کی شناخت ہوگئی جس پر سیکیورٹی اداروں نے اسے حراست میں لیکر

لاہور پولیس کو آگاہ کردیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک ماہ مفرور رہنے کے بعد پکڑے گئے پنجاب

پولیس کے ایس ایس پی مفخر عدیل نے دوران تفتیش پولیس کو تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیںاور کہا

ہے کہ اس کی اہلیہ شہبازتتلہ کیساتھ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ ایس ایس پی مفخر عدیل

نے مبینہ طور پراعترافی بیان میں شہباز تتلہ کے قتل کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ انوسٹی گیشن سیل

میں مفخر عدیل کو پہلے سے گرفتار ملزم اسد بھٹی کے سامنے بیٹھا کر تفتیش کی گئی جہاں اس نے

اپنے دوست اسد بھٹی کے ساتھ مل کر مبینہ طور پرشہباز تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔مفخر

عدیل نے کہا کہ میرا دوست اگر میری بیوی سے تعلقات رکھے گا تو واجب القتل ہے۔ شہباز تتلہ کو

کئی بار منع کیا کہ میری بیوی سے تعلقات نہ رکھو تاہم اس نے میری بات نہ مانی جس پر اس کے

مبینہ طورپرقتل کا منصوبہ تیار کیا۔مفخر عدیل نے کہا کہ وہ شہباز تتلہ کیساتھ مبینہ ناجائز تعلقات

استوار کرنے والی اہلیہ کوکچھ عرصہ قبل طلاق دے چکا ہے۔ مفخر عدیل پر اپنے دوست شہباز تتلہ

کو قتل کرنے اور قتل کے تمام شواہد مٹا دینے کا الزام ہے جبکہ پولیس تاحال اس کے مقتول دوست

شہباز تتلہ کی لاش تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: