Non-Alcohol-Drinks

شراب نہ پینے والی بھی شرابی، وجہ جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) شراب شرابی

امریکہ اور برطانیہ میں شراب اور بیئر جیسا ذائقہ رکھنے والی نان الکحل مشروبات کو خاصی پذایرائی مل رہی ہے- لیکن لاکھوں

افراد میں چند لوگ ہی جانتے ہو ں گے کہ شراب بیچنے والی کمپنیاں 0.5 فیصد الکحل سے نیچے والیم (نشہ) کی مقدار لکھنے کی

مجاز نہیں ہیں- اس مقدار سے کم مشروب کو سٹوروں میں بیچنے کی اجازت ہے- عام دکانوں پر نان الکحل مشرو بات کو دھڑا دھڑ

بیچنا شروع کر دیا گیا- مزید پڑھیں

نان الکحل مشروبات دراصل شراب میں سے الکحل نکال کر ہی تیار ہوتے ہیں

برطانیہ کے ایک انگریزی اخبار نے سرکاری ڈاکٹروں کی تازہ ترین تحقیق پر رپورٹ شائع کی ہے- رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ

افراد جنہیں ان کے ڈاکٹر ز نے شراب پینے سے منع کیا ہے وہ نان الکحل لیبل لگا دیکھ کرایسے مشروبات کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ

نان الکحل مشروبات دراصل شراب میں سے الکحل نکال کر ہی تیار ہوتے ہیں- تبھی ان کا ذائقہ شراب جیسا تلخ لگتا ہے لیکن سرور

حاصل نہیں ہوتا- بس تسلی رہتی ہے شراب پی ہے- اب اس کا الٹا اثر ہوا، شراب نہ پینے والے افراد نے جب اس کا ذائقہ چکھا تو ویسا

ہی تھا جیسا شراب کا ہوتا ہے- نان الکحل سمجھ کر وہ زیادہ مقدار میں مشروب کو پینا شروع ہو گئے-

عوام نان الکحل مشروبات سے پرہیز کریں، ڈاکٹروں کا انتباہ

کمپنیوں کی جانب سے یہ کہیں دعویٰ نہیں کیا جاتا کہ شراب ریفائنری کے دوران 3 یا 4 فیصد الکحل رہ جاتی ہے- یوں نان الکحل

مشروبات پینے والے افراد آہستہ آہستہ شراب کے دیوانے ہونے لگے- برطانوی اور امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے جب اس کا

مشاہدہ کیا تو وہ حیران رہ گئے کہ نان الکحل افراد کے بلڈ میں الکحل کیسے آ گئی- تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تمام افراد شراب نہیں

پیتے تھے لیکن نان الکحل مشروب کے زیادہ استعمال سے وہ دھیرے دھیرے شراب کے رسیا بننا شروع ہو گئے- رواں ہفتے

برطانوی ڈاکٹروں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ نان الکحل مشروبات سے پرہیز کریں- وہ انہیں شرابی بنا دے گی جبکہ شراب

چھوڑنے والوں کو بھی اس کا مشورہ دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر گزاراہ کریں ورنہ شراب پینے کی لت کبھی نہیں جائے گی۔

شراب شرابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply