shab e meraj

شبِ معراج کے صاحب! دے ہم کو رُشد و ہدایت

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جے ٹی این آن لائن خصوصی فیچر) ” شبِ معراج کے صاحب”

مومنین و مومنات مسلمین و مسلمات آج 27 رجب المرجب کی رات ہے جو رب العالمین اور اُس کے محبوب رحمتہ العالمین کی ملاقات سے منسوب ہے- یہ وہ عظیم رات ہے جسے دین اسلام میں شبِ معراج کے نام سے جانا جاتا ہے-

————————————————————————————

اہل ایمان کو جے ٹی این کی جانب سے شبِ معراج مبارک

————————————————————————————

اس شب جہاں اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر اپنے محبوب کے مقام فضیلت کو اہل اسلام اور دیگر انسانوں پرآشکار کیا وہیں یہ بھی واضح کر دیا کہ خبردار کسی طور پر خود کو میرے محبوب جیسا مت سمجھنا ورنہ گمراہی و ہلاکت تمہارا مقدر ٹھہرا دی جائے گی-

اپنے کلام ہی میں رب تعالیٰ فرما چکا- میرے محبوب کو سوچو مت بس مانو جیسا میں نے حکم دیا ہے-

جناب حفیظ تائب نے اس مبارک رات کی کیا خوب منظوم منظر کٰشی کی ہے-

شبِ معراج کے صاحب

رفعت مِرے آقا نے وہ پائی شبِ معراج – تھی زیرِ قدم ساری خدائی شبِ معراج

جب لے گیا حق مکّہ سے تا مسجدِ اقصیٰ – محبوب کو ہر شان دکھائی شبِ معراج

طے کرکے سب افلاک گئے عرش پہ جب آپ – سب عرشیوں نے منائی شبِ معراج

ہر فاصلہ اور وقت کیا آپ نے تسخیر- تھی دیدنی بندے کی بڑائی شبِ معراج

سرکار ہوئے لوح و قلم کے بھی مشاہد – ہر شے انہیں خالق نے دکھائی شبِ معراج

قوسین سے آگے تھی کہیں آپ کی منزل – کس جا نہ ہوئی انکی رسائی شبِ معراج

آقا کا یہ احسان ہی نہیں بھولنے والا – اُمت نہ کسی وقت بھی بھلائی شبِ معراج

جب گفت و شنید آپکی حق سے ہوئی تائب – کیا کیا نہ ہوئی عُقدہ کشائی شبِ معراج

– – – – – +=+=+ – – – – –

گزشتہ دنوں انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی میں دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس 2020ء بعنوان ” تعلیمات رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، امن، بقائے باہمی اور مفاہمت “ کا انعقاد ہوا-

بین المذاہب ہم آہنگی اشد ضروری

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کیا، اورکہا دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایک بار پھر بین المذاہب ہم آہنگی اور اس کے کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا میں دیرپا امن صرف باتوں یا دعووں سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی بات کو سننے، سمجھنے اور اختلافات کے باوجود اس کو برداشت کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔

آج معاشرے میں پھیلی انصافیاں سرفہرست

دنیا اس وقت بہت سے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایٹمی، کیمیکل یا بائیولوجیکل ہتھیاربنانے کے بجائے درپیش سماجی مسائل جس میں بھوک، غربت، تعلیم اور معاشرے میں پھیلی ہوئی انصافیاں سرفہرست ہیں، کو باہمی اتحاد سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے مسائل کو کھلے دل، دماغ اور باہمی اتحاد سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

کسی چیز کو نظر انداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے

ڈاکٹر خالد عراقی کا کہنا تھا کسی چیز کو نظر انداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، ہمیں کسی کے حوالے سے فیصلہ یا تبصرہ کرنے کے بجائے، اس کی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ طلبہ کا مقصد حیات حصول علم ہی ہونا چاہیئے۔

روحانیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت

رومانیہ کے پروفیسرڈان شیتیو کا کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا عصر حاضر کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے روحانیت پر عمل بہترین ذریعہ ہے۔ روحانیت کے ذریعے معاشرے میں بہتری لائی جا سکتی ہے- دوسروں کیلئے ہمدردری محسوس کی جا سکتی پے۔ ہمدردی اور جذبات سے بڑے سے بڑے مسائل اور تنازعات حل کئے جا سکتے ہیں، چاہے وہ افراد کے مابین ہوں یا ممالک کے مابین۔ لہذا انسانیت کی فلاح کیلئے مفاہمتی جذبات کو اجاگر کرنے کیلئے روحانیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بلاشبہ اسلام امن کا دین

معروف امریکی بین الاقوامی سکالر پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نے بھی کانفرنس میں شرکت کی، انہوں نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اسلام امن کا دین ہے- اس کا اندازہ اس بات سے ہوجاتا ہے جب دومسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ سلام کرتے ہیں، یعنی ایک دوسرے پر سلامتی بھیجتے ہیں۔

سیرت اقدس اس کا عملی مظاہرہ

اسلام نے قرآن اور سنت کے ذریعے امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے جس کا عملی مظاہرہ ہمیں رسول اکرم صلیٰ اللہ و علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحابہ کرام کی حیات مبارکہ سے ملتاہے۔

دورحاضر میں اسلام کا بڑ مسئلہ فرقہ وارانہ تقسیم

دورحاضر میں اسلام کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، جن میں سرفہرست فرقہ وارانہ تقسیم ہے، جس سے سماجی، مذہبی اور سیاسی تنازعات پیداہورہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فرقے ہم آہنگی و بھائی چارے کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ہوں، تاکہ اسلام کی صحیح روح اور امن پر مبنی پیغام دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔

سورة الفاتحہ میں مسلمانوں کیلئے بڑا پیغام موجود

دو روزہ سیرت کانفرنس سے خطاب میں تھائی لینڈ کی معروف مذہبی سکالر محترمہ آمنہ تالک کا کہنا تھا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کی رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنی آیات بالخصوص سورة الفاتحہ میں متقین اور مومنین کیلئے ہدایات فرمائی ہیں، جن میں انسانی معاشرے کیلئے امن اور سلامتی پر خصوصی زوردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : معراج النبی کمالِ انسانیت پرعظیم برہان

جرمنی کی معروف سکالر محترمہ پروفیسر بشریٰ اقبال ملک نے مذاہب میں امن اور محبت کے پیغام پر مبنی مقالہ پیش کرتے ہوئے انسانی رویوں میں مذہب، محبت، جذبات، نفرت اور دیگر اخلاقی تقاضوں اور رویوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اکیسویں صدی میں بین المذاہب روابط کو کلیدی حیثیت حاصل

رومانیہ کی سکالر محترمہ مرینا رخسانہ کریٹو نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ اکیسویں صدی میں بین المذاہب روابط کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، مذاہب اور ثقافتوں میں جو تفریق موجود ہے، اسکا حل نکالنے کیلئے جامع و مربوط حل تلاش کرنے ہوں گے، جس سے دنیا میں امن کا بول بالا ہوسکے۔

انسانیت کا ایک روشن پہلو شعبہ طب

کوآرڈینیٹر سیرت کانفرنس ڈاکٹر محمد اکرم شریف نے کہا کہ انسانی تاریخ میں بیشمار جنگوں کا ذکر ہے، ماضی قریب میں دوعالمی جنگوں میں ہونیوالے انسانی جانوں اور وسائل کے بہت وسیع پیمانے پر نقصانات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔علوم اور ٹیکنالوجی میں بیمثال پیشرفت اور حیرت انگیز ایجادات سے انسان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوئی ہے، لیکن ان علوم اور ایجادات کے باوجود، دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین مذہبی عقائد اور معاملات میں پائی جانیوالی دوریوں کو کم نہیں کیا جاسکا- یہ ایک انسانی المیہ ہے۔ تاہم انسانیت کا ایک روشن پہلو بھی ہے جس کی مثال ہمیں طب کے میدان میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔

طب کی طرح دیگر شعبوں کے افراد بھی یہی رویہ اپنائیں

طبی تاریخ اور عصر حاضر پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے، کہ شعبہ صحت میں دنیا بھر کے افراد کو حاصل ہونیوالے ثمرات کے پس منظر میں جن عظیم طبی سائنسدانوں اور ماہرین کی کاوشیں شامل ہیں ان کا تعلق مختلف مذاہب سے رہا ہے۔ طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر مذہب کے نامور سائنسدانوں نے پوری انسانی آبادی کیلئے اپنی خدمات بلاتفریق پیش کی ہیں، یہی طرز عمل زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اپنائیں تو دنیا میں امن کی صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے۔

حسن اخلاق اور عزت مثالی معاشرے کی بنیاد

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے ڈاکٹر فاروق حسن نے کہا کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے مختلف قبائل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے حسن اخلاق اور عزت بخشنے سے ایک مثالی معاشرے کے سانچے میں ڈھال دیا-

بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمہ

اس امر سے فرقہ واریت، لسانیت اور ہر قسم کے تعصب کوختم کردیا گیا- سیرت سرکار دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کا درس ملتا ہے۔

معاشرے کی تشکیل میں برداشت کلیدی کردار

سینٹر آف ایکسلینس فاروویمن اسٹڈیزجامعہ کراچی کی ڈاکٹر محترمہ سیما منظور نے کہا، کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں اخلاقی اقدار کا اہم کردار ہوتا ہے، اور ان سب میں برداشت کے رویے کا کلیدی کردار ہے۔

اسلام انسان کو آزادی بخشتا ہے

عالمگیریت کے دور میں دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے افراد سماجی اور معاشی تعلقات میں جڑتے جارہے ہیں، لہذا برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پہلے کے مقابلے اب کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اسلام ہر انسان کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے دین کا انتخاب کرے اور اپنی عبادات آزادی سے کرسکے۔ اسلام نے مذہب کے معاملے میں ہمیشہ آزادی دی ہے اور اس سلسلے میں کوئی سختی نہیں ہے۔

تمام سکالرز کے زخیم خطبات سے ایک نقطہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ

کی مُحمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں – یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

دعا ہے آج کی اس مبارک رات اور شبِ معراج کے صاحب کے صدقے ربِ محمد و آل محمد ہم سب کو اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں شامل فرمائے، اپنی حفظ و امان میں رکھے، انسانیت سے پیار، سچوں کا ساتھی و ہمنوا بنائے- باطل کو منہ کالا حق کا جلد ازجلد بول بالا کرنے کیلئے اپنی آخری حجت، اپنے محبوب کے بارہویں جانشین امام زمانہ محمد مہدی علیہ السلام کا ظہور فرمائے- الٰہی آمین

شبِ معراج کے صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply