Shab-e-Barat - jtnonline

شب برات، ولادتِ خاتم الاولیاء امامِ زمانہ، تقسیم امورِ عالم و مغفرت کی رات

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) شبِ برات امام زمانہ

آج پندرہ شعبان المعظم کی مبارک رات ہے جسے رب تعالیٰ اور اس کے مجبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ” شب برات ” یعنی تقسیم امور کائنات، کفارے، چھٹکارے، معافی، رحمت وعنایات کی رات قراردیا ہے-

مزید پڑھیں : لیلۃ القدر—– دلیلِ امامت و ولایت

دنیا بھر میں اہل اسلام اس شب کو انتہائی مذہبی عقیدت و احترام سے منارہے ہیں- عالمگیرکرونا وائرس کی وباء کے باعث لاک ڈاﺅن کی وجہ سے شب برات کے لئے تمام بڑی بڑی مساجد میں حسب روایت منعقد ہونیوالی عبادات و ذکرو ازکار کی محافل نہیں ہو رہیں مگر فرزندان و دخترانِ اسلام اپنے گھروں میں ہی شب بیداری، نفلی عبادات، ذکر اور خصوصی عبادات کررہے ہیں جو صبح تک جاری رہیں گی- جبکہ احترام نیمہ شعبان المعظم میں روزہ بھی رکھا جائیگا-

شب بیداری اور بارگاہ الہٰی میں دعائیں

دوران شب بیداری مسلمہ امہ کے تمام مسالک اپنے اپنے عقائد کے مطابق امام زمانہ حضرت محمد مہدی علیہ السلام کے جلد ظہور و ولادت، کرونا وائرس وباء سے چھٹکارے، ملک و قوم کی سلامتی، عالم اسلام کی سر بلندی، ملکی استحکام، امن وبھائی چارے، محبت و اخوت کے فروغ، کشمیر و فلسطین کی آزادی اور اپنے مرحومین کی مغفرت و بلندی درجات کیلئے خصوصی دعائیں مانگ رہے ہیں-

امام مہدی علیہ السلام کون—–؟

مسلمانوں کے نزدیک قیامت سے قبل حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد یقینی ہے۔ حضرت محمد مہدی امتِ مسلمہ میں نجات دہندہ، مجدد کامل و عادل کا درجہ رکھتے ہیں۔

اسم مبارک، لقب، شجرہ نسب، حلیہ اور صفات

نام نامی محمد یا احمد، جبکہ مہدی انکا لقب ہے، جس کے معانی ہدایت یافتہ ہیں- حضرت امام مہدی کا تعلق حسنی سادات سے بتایا گیا ہے۔ علماء اہل سنت کی اکثریت حضرت محمد بن عبد اللہ المہدی کو حضرت علی علیہ السلام کے بڑے فرزند حضرت امام حسن علیہ السلام کی نسل سادات میں سے ظہور ہونے کو مستند مانتی ہے۔ ابو داود اور دیگر کتب احادیث میں تواتر سے انکا ذکرموجود ہے-

حسنی سادات سے تعلق

ابو اسحاق سے روایت ہے، حضرت امام علی مرتضیٰ علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے امام حسن مجتبیٰ کی طرف دیکھ کر فرمایا، میرا بیٹا جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا، سردار ہے۔ عنقریب اسکی پشت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبیْ کے نام پر ہوگا-

ویڈیو دیکھیں : امام زمانہ کی حقیقت اور اقوام عالم

اخلاق و عادات ہی نہیں ظاہری شکل و صورت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہوگا۔ پھر امیر المومنین نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینے کا واقعہ بیان فرمایا، کہ وہ والد کی طرف سے امام حسن مجتبیٰ اور والدہ کی طرف سے سید الشہداء امام حسین کی اولاد میں سے ہونگے۔ ام سلمہ فرماتی ہیں، کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، کہ مہدی میرے خاندان میں سے فاطمۃ الزہرا کی اولاد سے ہونگے۔

روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھرنے والے

ابو سعید خدری فرماتے ہیں، رسول کریم نے فرمایا، حضرت مہدی میری اولاد میں سے ہونگے، روشن و کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے۔ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے جس طرح سے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی، وہ سات برس تک زمین پر برسر اقتدار رہیں گے۔ چند سالوں میں وہ سب کچھ کر لیں گے جو صدیوں سے مسلمانوں سے بن نہ پڑا۔

امام مہدی حسنی سادات کیلئے انعامِ رب ذوالجلال

حسنی سادات کو ظہور مہدی کا انعام ملا ہی اس لیے ہے کہ وہ اپنے جائز دعوے اور حق سے دستبردار ہو گئے تھے، کیونکہ نواسئہ رسول سیدنا حضرت حسن علیہ السلام دین محمد کی سربلندی، امت میں انتشار فساد کو روکنے اور انہیں حق و باطل کا ادراک دلانے کی خاطر معاویہ ابن سفیان (ملعون) کو بے نقاب کرنے کیلئے اس وقت کی ظاہری حکومت سے دستبردار ہو گئے تھے، اور محض مسلمانوں میں صلح اور اتفاق کی خاطر اپنا یہ جائز حق چھوڑ دیا تھا۔

خلافت عالم کا قیام

حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو اس کا اجر دینے کیلئے رب تعالیٰ نے انہی کی اولاد میں سے، عالمی سطح پر قیام خلافت کیلئے مہدی کو منتخب فرما دیا- کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے، کہ جو شخص رضا الٰہی کی خاطر کچھ بھی ترک کر دیتا ہے تو رب کریم اسکو یا اسکی اولاد کو اس سے بہتر چیز عنایت فرماتا ہے۔ چنانچہ محدود خلافت چھوڑنے کے بدلے حضرت امام حسن مجتبیٰ کو خلافتِ کائنات کا انعام ملے گا۔

خاتم الاولیاء

بعین ایسے جس طرح پیغمبر حضرت اسحاقؑ کی اولاد سے بہت سے انبیا کرامؑ آئے اور حضرت اسماعیلؑ کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک نبی بھیجے جو “خاتم الانبیاء” حضرت محمد مصطفیٰ ہیں۔ اس طرح سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی نسل سے بہت سے اولیاء آئے، جبکہ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی نسل سے ایک ہی بہت بڑے ولی آئیں گے جو ” خاتم الاولیاء ” ہونگے۔

علامات ظہورامام زمانہ

امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، مہدی ہم اہل بیت میں سے ہونگے۔ حضرت مہدی کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب امت شدید مشکلات سے دو چار ہوگی اور ہر طرف امہ پر عرصہ حیات تنگ کیا جا چکا ہوگا۔

احادیث پاک اور روایات

وقتِ ظہور کی علامات کے بارے میں حضرت جابربن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ وہ وقت قریب ہے جب عراق والوں کے پاس روپے اور غلہ آنے پر پابندی لگادی جائے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ پابندی کس کی جانب سے ہوگی؟، تو انہوں سے فرمایا عجمیوں (غیر عرب) کی جانب سے۔ پھر فرمایا وہ وقت قریب ہے، کہ جب اہل شام پر بھی یہ پابندی لگادی جائے گی۔ پوچھا گیا کہ یہ روکاوٹ کس کی جانب سے ہوگی؟ تو آپ نے فرمایا اہلِ روم (مغرب والوں) کی جانب سے۔

سرکار دو عالم کا آخری زمانے کے لوگوں کیلئے انتباہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، میرا بارہواں جانشین بیٹا مہدی لوگوں کو مال لپ بھر بھر کے دیگا، اور شمار نہیں کرے گا، نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے، یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا، جس طرح اس کی ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی، حتیٰ کہ ایمان صرف مدینہ میں رہ جائے گا، پھر آپ نے فرمایا کہ مدینہ سے جب بھی کوئی بے رغبتی کی بنا پر نکل جائیگا، تو اللہ اس سے بہتر کو وہاں آباد کر دے گا۔ کچھ لوگ سنیں گے کہ فلاں جگہ پر ارزانی اور باغ و زراعت کی فراوانی ہے، تو مدینہ چھوڑ کر وہاں چلے جائیں گے۔ حالانکہ ان کے واسطے مدینہ ہی بہتر تھا کہ وہ اس بات کو جانتے نہیں۔

دوران حج منیٰ میں قتل عام

عمرو ابن شعیب سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
ذی القعدہ کے مہینے میں قبائل کے درمیان کشمکش اور معاہدہ شکنی ہوگی، چنانچہ حاجیوں کو لوٹا جائیگا اور منیٰ میں جنگ ہوگی۔ بہت زیادہ قتل عام اور خون خرابا ہوگا، یہاں تک کہ عقبہ جمرہ پر بھی خون بہہ رہا ہوگا۔
مستدرک کی دوسری روایت میں ہے، کہ عبد اللہ ابن عمرو فرماتے ہیں کہ جب لوگ بھاگے بھاگے حضرت مہدی کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آئیے ہم آپکے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ عبد اللہ ابن عمرو نے فرمایا ائے لوگو! جب تم انہیں پالو تو تم ان کے ہاتھ پر بیعت کرلینا کیونکہ وہ دنیا ہی نہیں آسمان میں بھی مہدی ہیں۔

نجات دہندہ دین اسلام اورامت مسلمہ

اسلام میں حضرت مہدی کا تصور احادیث کی بنیادوں پر امت ِمسلمہ اور تمام دنیا کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پایا جاتا ہے- اہل سُنت میں ان کے آخرت یا قرب قیامت کے نزدیک نازل ہونے کے بارے میں متعدد روایات پائی جاتی ہیں، جبکہ اہل تشیع کے نزدیک حضرت مہدی، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آخری امام ہیں۔ امام مہدی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً، صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔

وجود امام مہدی، امت مسلمہ اور مذاہب اقوام عالم کی نظر میں

وجود محمد مہدی علیہ السلام کے بارے میں مسلمان متفق ہیں، اگرچہ اس بات میں اہل سنت اور تشیع کا اختلاف ہے، کہ آیا وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک حضرت مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کرکے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

یہ ویڈیو بھی دیکھیں : یاعلیٰ مدد کہنے کی حقیقت

ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں، جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا، اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشن گوئیاں بھی ملتی ہیں، اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی ہونگے، اور ان کیساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا-

زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ

قبل از اسلام قدم کتب میں بھی مہدی علیہ السلام کا تصور ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں ایک انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ یہ تصور مسلمانوں میں اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ امام مہدی کے وجود کے بارے میں اسلامی کتب میں صراحت سے احادیث ملتی ہیں جو حد تواتر تک پہونچتی ہیں۔

ظہور کی نشانیاں

احادیث کی اہل سنت کی کتب روشی میں خداوند متعال نے قرآن کریم میں واضح کر دیا ہے، کہ خدا اور رسول خدا کی اطاعت واجب ہے اور جس طرح کہ خدا کی اطاعت سے سرتابی حرام ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت سے سرتابی بھی حرام ہے۔

قرآن پاک کی روشنی میں

کلام الہٰی کی سورۃ الحشر کی آیت کریمہ ہے، ومَا آَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا۔ ترجمہ ” اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم تمہیں عطا کریں لے لو، اور جن چیزوں سے تمہیں روکتے ہیں ان سے اجتناب کرو-
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ۔ سورۃ التغابن- ترجمہ اور خدا کے فرمانبردار ہو جاؤ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی اطاعت کرو۔

متفقہ علیہ حدیث مبارکہ

قال رسول اللہ من انکر المهدی فقد کفر، یہ حدیث شیعہ و سنی مکاتب کی مشہور و معتبر ترین حدیث ہے کہ قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم “من کذب بالدجال فقد کفر، ومن کذب بالمهدی فقد کفر”۔ (عقد الدرر فی اخبار المنتظر، جلد1، صفحہ36 ) ترجمہ جس نےدجال کے وجود و خروج اور جس نے مہدی ( عج ) کو جهٹلایا وہ کافر ہے۔

قران پاک میں ذکر صفات و خصوصیات امام مہدی

قرآن پاک میں بھی مہدی کو بعض خصوصیات اور صفات کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے، خداوند تعالیٰ کا ارشاد ہے، وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ” ترجمہ اور ہم نے ذکر تورات اور زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ اس آیت میں زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے-

شرح آیہ کریمہ

حافظ سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی حضرت امام باقرعلیہ السلام اور حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ ” اس آیت میں خدا کے صالح بندوں سے مراد مہدی (عج) اور ان کے اصحاب ہیں-

انسانوں کے پیشواء اور وارثان زمین

نجات دہندہ کی آنے کا بیان بہت سی قرآنی آیات میں موجود ہے، مثلا سورہ قصص کی پانچویں آیت میں ارشاد باری تعالی ہے، وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ۔ ترجمہ، اور ہم نے ارادہ کیا کہ ان ضعیف اور ماتحت بنائے جانیوالے انسانوں کو روئے زمین کا پیشوا بنا دیں اور انہیں زمین کے وارث قرار دیں۔

ولادت کے بارے میں امہ میں اختلاف

ولادت کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے مطابق امام مہدی کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اور یہ پیدائش آخری زمانے میں قیامت سے کچھ پہلے ہوگی۔ اہل تشیع کے عقائد کے مطابق وہ 15 شعبان 256 ہجری کو سامراء موجودہ عراق میں پیدا ہوئے اور امام حضرت حسن بن علی عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور والدہ کا نام نرجس یا ملیکہ ہے جو قیصرِ روم کی نسل سے تھیں۔

ولادت مخفی رکھنے کی وجہ

حاکم وقت نے امام مہدی علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے قتل کا حکم دیا تھا، اس لیے ان کی پیدائش کا زیادہ چرچا نہیں کیا گیا۔ حاکم وقت نے ان احادیث کو سن رکھا تھا، کہ اہل بیت سے بارہ امام ہونگے، جن میں سے آخری امام مہدی ہوں گے، جو حکومت قائم کریں گے۔

عقیدہ غیبت

اہل تشیع کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے، مگر اپنے عمال یا نائبین کیساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں۔ غیبتِ صغرٰی کے دوران میں وہ اپنے معاملات اپنے نائبین کے ذریعے چلاتے رہے۔ ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ 260ھ سے 329ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے، جسے غیبت کبرٰی کہتے ہیں اس دوران میں انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا، اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق آخرالزمان یا قیامت کے قریب ہوگا۔ تب تک نیک علماء لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

علامات ظہور

کتب اہل سنت اور اہل تشیع دونوں میں حضرت مہدی کے ظہور کی بے شمار علامات ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض پوری بھی ہو چکی ہیں۔ ان علامات میں سے کچھ حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی۔ حتمی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن کا بروایت پورا ہونا ضروری ہے۔ کچھ ان کے ظہور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہوں گی اور کچھ ظہور کے نزدیک۔

قربِ ظہور کی بڑی بڑی نشانیاں

سب سے مشہور علامت دجال کا خروج ہے۔ جسے مغربی مفکرین ضد مسیح (Antichrist) کہتے ہیں۔ یہ ذکر تورات میں بھی ملتا ہے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق واقع ہونا۔ قواعد علم نجوم و فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن، اور پندرہ کو سورج گرہن لگے گا۔
سفیانی کا خروج۔ یہ ابو سفیان کی اولاد سے ایک شخص ہوگا اور ماں کی طرف سے بنو کلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا۔ اس کا پورا لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔ بیداء مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک جگہ ہے۔

پوری ہو چکی علامات

مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا۔ یہ نشانی صحابہ کے زمانہ میں پوری ہو چکی ہے-
بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا۔ اور عراق پر روپے اور غلہ کی پابندی لگنا۔

بعد از ظہور امام زمانہ

بارہویں جانشین رسول اللہ حضرت مہدی کا ظہور مکہ مکرمہ سے ہوگا اور لوگ رکن و مقام ابراہیم کے درمیان میں ان سے بیعت کریں گے۔
عیسیٰ کا ظہور ہوگا اور وہ حضرت مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
دجال کا قتل ہوگا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔

شبِ برات امام زمانہ
شبِ برات امام زمانہ
شبِ برات امام زمانہ
شبِ برات امام زمانہ
شبِ برات امام زمانہ
شبِ برات امام زمانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply