شاہینوں کی پے در پے شکست اورسینئر کھلاڑیوں کی اہمیت

Spread the love

(تجزیہ:…جے ٹی این آن لائن)
پاکستان کرکٹ ٹیم کوآسٹریلیا کے ہاتھوں پانچ میچوں کی سیریزمیں مسلسل چار

میچزمیں شکست اس بات کا واضح ثبوت ہے ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کی اہمیت

سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور جب تک کسی مضبو ط ٹیم کے خلاف پوری طاقت

سے میدان میں نہ اترا جائے کامیابی کا تصور نہیں کیا جاسکتا بلاشبہ پاکستان کی

ٹیم نے چوتھے ون ڈے میں بہت عمدہ پرفارمنس دی مگر اس کے باوجود بھی

سینئر کھلاڑیوں کی کمی کو بہت محسوس کیا گیا اور اگر اس ٹیم میں سینئر

کھلاڑی موجود ہوتے تو پاکستان کی جیت یقینی تھی جس طرح سے چوتھے ون

ڈے میں پاکستان کی جانب سے پہلا میچ کھیلنے والے بیٹسمین عابد علی نے بیٹنگ

کی وہ بے مثال ہے اور اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے سلیکشن کمیٹی

کی طرف سے ان کو موقع دینا بہت اچھی بات ہے اور انہوں نے جس طرح سے

اپنی شمولیت کے فیصلے کو ثابت کیا امید ہے وہ پاکستان کے لئے اسی طرح سے

مستقبل میں بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کریں گے.

عابد علی کے ساتھ ساتھ محمد رضوان نے بھی بہت اچھی بیٹنگ کی اور اس

سیریز میں آسٹریلیا کے خلاف دوسری سنچری سکور کی مگر اس کے باوجود

بھی قومی ٹیم کامیابی حاصل کرنے سے محروم رہی ایک موقع تو لگ رہا تھا

رضوان اور عابد کی پارٹنر شپ ہی ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف کامیابی دلوائے گی

ٹیم کے دیگر بیٹسمین خاص طور پر مڈل آرڈر ناکام ثابت ہوئے اس کے باوجود

کہا جاسکتا ہے پاکستان کی ٹیم نے اچھا مقابلہ کیا آسٹریلوی ٹیم کے کھلاڑیوں نے

میچ کے دوران کسی بھی موقع پر ہمت نہیں ہاری اور یہ ہی بات ان کی کامیابی

کی وجہ بنی عماد وسیم جو قومی ٹیم کی پہلی مرتبہ ون ڈے میں قیادت کررہے

تھے ان کی قیادت میں بھی فقدان نظر آیا۔

آج پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں پانچویں اور آخری ون ڈے کھیلنے کیلئے میدان

میں اتررہی ہیں پاکستان کو کم از کم آج کا میچ ہر صورت جیتنا ہوگا تاکہ آسٹریلیا

کے ہاتھوں کلین سوئپ شکست کی شرمندگی سے بچ سکے آج ایک بہترین حکمت

عملی اور یک جان ہوکر میدان میں اترنے جبکہ کپتان عماد وسیم کو بھی بہترین

فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی ٹیم نے آج تک آسٹریلیا کے خلاف

یو اے ای میں کلین سوئپ شکست نہیں کھائی اور آج کے میچ میں عمدہ پرفارمنس

کی ضرورت ہے عابد علی کو ٹیم میں ضرور شامل کیا جانا چاہئیے تاکہ ان کی

بہترین بیٹنگ کا تسلسل جاری رہے آج کے میچ میں کامیابی کے لئے بہت ہمت

کی ضرورت ہے اور میچ کے دوران کسی بھی موقع پر پریشر میں نہ آیا جائے

قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح چوتھے ون ڈے میں فائٹ کی اسی فائٹ کی ہی آج

ضرورت ہے، آسٹریلوی ٹیم کی سب سے اچھی بات یہ ہے وہ کسی بھی موقع پر

گھبراتے نہیں اور ہر گیند پر بھرپور مقابلہ کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ میچ پر

حاوی ہوجاتے ہیں جبکہ پاکستان کی ٹیم اچھا کھیلتے کھیلتے بھی جب پریشر میں

آتی ہے توبس پھر کوئی بھی کھلاڑی اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا اور آئوٹ

ہوتا چلا جاتا ہے لیکن آج کے میچ میں بہت سوچ سمجھ کر صرف اور صرف

جیت کا جذبہ اور سوچ لیکر میدان میں اترنے جبکہ ٹیم مینجمنٹ کو اپنی ذمہ داری

پوری کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply