شام میں خونی جنگ

شام میں خونی جنگ کے 10 سال مکمل، المیہ بدستور جاری

Spread the love

شام میں خونی جنگ

دمشق (جے ٹی این آن لائن نیوز) شام میں 15 مارچ 2021 کو شروع ہونے والی خونی خانہ جنگی کو

10 سال مکمل ہو گئے۔ دوسری طرف تباہی اور بربادی کی یہ طویل جنگ اب بھی جاری ہے اور المیہ

ختم ہونے کو نام نہیں لے رہا ہے۔ اب تک یہ خونی جنگ 3 لاکھ 88 ہزار افراد کی جانیں لے چکی

ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق دس سال سے جاری شام کے المیے کا ہر پہلو دردناک داستان پر مشتمل

ہے۔ لاکھوں افراد کے لقمہ اجل بننے کے ساتھ لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں۔ بے شمار لوگ جسمانی

اعضا سے محروم ہونے کے بعد اپاہج ہیں۔ کئی ملین لوگ بے گھر ہیں جب کہ ہزاروں کو جبری طور

پر لاپتا کردیا گیا ہے جن کے پیارے ان کے بارے میں کسی اچھی یا بری خبر کے انتظار میں ہیں۔شام

میں 15 مارچ کو شروع ہونے والی خانہ جنگی کے 10 سال کے دوان میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔

خون خرابے کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت کے خلاف اٹھنے والے پرامن احتجاج کو کچلنے کے

لیے طاقت کا استعمال کیا گیا اور نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں۔شام میں انسانی حقوق کی

صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے سیرن آبزر ویٹری کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران

شام میں لڑائی کی حدت کسی حد تک کم ہوئی ہے۔ اب ادلب اور اس کے اطراف کے شہر لڑائی کا

مرکز ہیں۔ روس اور ترکی کی کوششوں سے ادلب میں عارضی جنگ بندی کی گئی ہے اور دوسری

طرف اب کرونا کی وبا نے ملک کو ایک نئی تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔شام میں طویل خون

خرابے کے بعد اب عوام کوقطار میں لگنے کی ایک نئی مصیبت کا سامنا ہے۔ لوگ بنیادی ضرورت

کی اشیا کے حصول میں بھی ناکام ہیں اور پورا پورا دن قطار میں لگ کر اپنی ضرورت کی چیز

حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسد رجیم کے زیرانتظام علاقوں میں شہریوں کی لمبی لمبی لائنیں

دیکھی جاسکتی ہیں۔شہریوں کو روٹی لینا ہو یا ڈیزل یا موبائل فون کے لیے کارڈ لینا ہو۔ انہیں گھنٹوں

لائن میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔پٹرول اسٹیشنوں کے سامنے ایندھن لینے کے

لیے گاڑیوں کی قطاریں۔ بیکریوں کے آگے روٹی حاصل کرنے والوں کا رش اور موبائل فون کی

دکانوں کے سامنے موبائل کارڈ لینے والوں کا ھجوم بتا رہا ہے کہ شام کا یہ بحران کس قدر گھمبیر

ہوچکا ہے۔دوسری طرف مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ شامی لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت نچلی

ترین سطح پر آچکی ہے۔ دمشق میں ایک ڈالر میں 4070 شامی لیرہ فروخت ہو رہے ہیں جب کہ ایک

یورو کے مقابلے میں 4866 لیرہ مل رہا ہے۔

شام میں خونی جنگ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply