شامی فورسز نے 200داعشی خواتین کے فرارکی کوشش ناکام بنادی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

داعشی خواتین فرار

دمشق(جے ٹی این آن لائن نیوز) شام کے صوبے الحسکہ کے دیہی علاقے میں

واقع الہول کیمپ سے داعشی جنگجوئوں کی خواتین نے فرار کی کوششیں کیں تاہم

شام کے شمال اور مشرقی حصے میں خود مختار انتظامیہ کی داخلہ سیکورٹی کی

فورسز نے الہول کیمپ سے اجتماعی طور پر فرار کی سب سے بڑی کارروائی کو

ناکام بنا دیا۔ فرار کی کوشش میں شامی اور عراقی شہریت رکھنے والی تقریبا 200

خواتین شامل تھیں۔ ان خواتین کے ساتھ بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی تھی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق الہول کیمپ میں فرار کی کارروائیوں اور کوششوں پر

تبصرہ کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس کی اسٹڈیز کے یورپی

مرکز کے ڈائریکٹر جاسم محمد نے بتایا کہ ہمیں دستیاب معلومات سے تصدیق

ہوتی ہے کہ ترکی اور ادلب شہر سے داعشی خواتین کے پاس مالی رقوم پہنچ رہی

ہیں۔ یہ رقم اسمگلنگ نیٹ ورکس کو ادا کر کے کیمپ سے فرار ہونے کے واسطے

استعمال ہو رہی ہے،مالی رقوم الہول کیمپ میں موجود منی ایکسچینج کے دفاتر

کے ذریعے داعشی خواتین کو پہنچتی ہیں۔ یہ اندازا ماہانہ 300 سے 500 امریکی

ڈالر ہوتی ہے۔جاسم محمد نے انکشاف کیا کہ مذکورہ رقوم کا بنیادی داعشی خواتین

کے بیرون ملک مقیم خاندان ہیں۔ یہ لوگ غیر قانونی اور غیر اجازت یافتہ

ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے اپنی بیٹیوں کو رقوم بھیجتے ہیں۔ بینک اکانٹس کے

ذریعے رقوم منتقل نہ ہونے کے سبب حکومتیں ان کا پتہ نہیں چلا سکتیں۔جاسم کے

مطابق فنڈنگ کا ایک اور ذریعہ بھی ہے اور وہ ہے انٹرنیٹ کے ذریعے چندہ جمع

کرنا ،داعش کے حامی سپورٹرز انٹرینٹ پر مالی عطیات کے لیے مہم چلاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقوم بھی الہول کیمپ میں داعشی خواتین

تک پہنچتی ہیں۔الہول کیمپ میں مقامی ذمے دار نے مالی رقوم پہنچنے کے حوالے

سے کسی بھی تبصرے سے انکار کر دیا۔ تاہم خود مختار انتظامیہ کے قریبی ذرائع

نے تصدیق کی کہ کیمپ میں ان خواتین کو معمولی رقم کا پہنچنا نارمل بات ہے تا

کہ وہ ضروریات پوری کر لیں۔ذرائع کے مطابق بینکنگ نیٹ ورک کیمپ کے اندر

کی سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کرتا ہے لہذا بڑی مالی رقوم موصول نہیں ہوتی

ہیں۔

داعشی خواتین فرار

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply