Alama Iqbal Poetry

شاعر مشرق، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے تصورات اور عہد حاضر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جے ٹی این آن لائن خصوصی کالم) شاعر مشرق مصورِ پاکستان

علامہ اقبال کا تصور ملّت

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

شاعر مشرق، مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں جو تصور ملت جلوہ افروز نظر آتا ہے، وہ صرف اور صرف اسلامی تصور ہے۔ جس کے مطابق مسلم ملت کی اساس دیگر اقوام کی اساس سے مختلف ہے، قوم رنگ، نسل، زبان یا علاقائی درجہ بندی سے ظہور میں آتی ہے، جبکہ مسلم ملت میں یہ امتیاز نہیں، مسلمان دنیا کے کسی خطے میں کوئی زبان بولتا ہو یا کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو، مسلم ملت یا امت کا حصہ ہے، اور ساری دنیا میں بسنے والے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ بقول علامہ

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

اقبال کا تصور ملت نسل پرستی اور تنگ نظری سے بالاتر ہے۔ وطن پرستی اس حد تک کہ مادہ پرستی ہو جائے، اقبال کے ہاں قابل قبول نہیں کیونکہ آدمی یہ جذبہ لے کر نیچے ہی جاتا ہے۔ جبکہ اقبال ہر مقام پر انسان کیلئے تصور ملت کی بھی بنیاد ہے۔

تصور شاہین

اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے بلند مقام حاصل کیا۔ ان میں شاہین کا تصور خاص اہمیت کا حامل ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں اقبال کی جو شاعری ملتی ہے وہ حب الوطنی اور حسنِ تحریر کی آئینہ دار تھی۔ یورپ کے سفر کے دوران انہوں نے جن فطری اثرات کو قبو ل کیا، ان میں نطشے کا فلسفہ قوت و زندگی اہم ہے۔ گو اقبال کا فلسفہ قوت و زندگی نطشے کے تصور کے برعکس ہے۔ تاہم اقبال کی شاعری اسی طرح فکری منازل طے کرتی ہوئی، ایک ایسے مقام پر آپہنچی جہاں ان کے ذہن میں شاہین کا تصور ابھرا، جس کا حوصلہ اس کی اڑان کی طرح مضبوط اور مستحکم ہے-

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

دراصل علامہ اقبال نے شاہین کوعلامت کے طور پر اپنایا، اور حقیقی طور پر ایک مسلم نوجوان کو شاہین کا درجہ دیا۔ اقبال کا شاہین ایک ایسے نوجوان کی علامت ہے جو مضبوط ارادے، بلند ہمت اورسخت مشقت کا عادی ہے۔ اقبال کا نوجوان شاہین کے روپ میں جن فضاوں میں محوِ پرواز ہے، وہ مغربی تصورات کی پہنچ سے دور ہے۔ بقول اقبال

شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

اقبال نے جب شاہین کا تصور اپنایا، تو شاہین کی فطرت کو درویشی، قلندری، خودداری اور بے نیازی کی اعلیٰ صفات کا رنگ دیا۔

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ

علامہ اقبال شاہین کو جراتمند اور چست و چالاک نوجوان کے روپ میں پیش کرتے ہوئے اس کی ایک خصوصیت بتاتے ہیں۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

تصور خودی

اقبال کے ہاں خودی احساس ذات کا نام ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اور انہیں انسانیت کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے وقف کر دے۔ گویا خودی سے مراد اپنی ذات اور صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے، انھیں اجاگر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فکر جب انقلاب دیکھے گی —– روشنی بے حساب دیکھے گی

علامہ کے نزدیک جذبہ خودی پوری انسانی زندگی میں جاری و ساری ہے، اس کی بدولت زندگی میں حرارت، تڑپ اور حرکت ہے، چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی زندگی، مسلسل حرکت اور عمل پیہم کا محرک خودی ہے، اسی لئے انسان ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے، اور خودی کی تحقیق و تکمیل کی جستجو، کسی مقام پر ختم نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال کے ہاں خودی سمندر کی مانند وسعت رکھتی ہے، وہ فرماتے ہیں،

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

اقبال کے نزدیک خودی کی تکمیل کا راز تین مراحل میں پنہاں ہے، یعنی اطاعت، ضبط نفس اور نیابت الٰہی۔ چنانچہ اقبال فرماتے ہیں کہ وہ ان تین مراحل کو طے کرے، اور خود کو پستیوں سے نکال کر ایسی بلندیوں پر لے جائے، جہاں خدا بھی اپنی مرضی کو اس کے ارادے پر چھوڑ دے فرمایا۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال کہتے ہیں کہ اگر خودی کو مطلق العنان چھو ڑ دیا جائے، تو وہ ایسی قوت بن جاتی ہے، جس کا کام قتل و غارت اور فساد کے سوا کچھ نہیں۔ ہٹلر اور میسولینی کے ہاں ہمیں اس کی مثال ملتی ہے، لیکن اگر خودی کو کسی ضابطے کا پابند کر دیا جائے، اور وہ ضابطہ صرف اور صرف قانون الٰہی ہو، تو علامہ اقبال کا تصور خودی وجود میں آتا ہے، چنانچہ اقبال کی خودی کو جلا بخشنے کیلئے ضروری ہے، کہ وہ قانون الٰہی کی پابند ہو۔ اور اپنے خالق کی یاد سے غافل نہ ہو۔ کیونکہ

خودی کا سر نہاں لاالہ الاللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الاللہ

تصورِ عشق

صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

اقبال کی شاعری میں عشق کا تصور دوسرے قدیم شعراء سے مختلف ہے، اقبال کے ہاں عشق سے مراد عورت اور مرد کی محبت یا وطن کی محبت نہیں، بلکہ ان کے ہاں یہ ایک ایسی لگن اور جذبے کا نا م ہے، جس کے تحت بڑے سے بڑا مشکل کام آسان ہو جاتا ہے۔ وہ کام جو عقل انسانی میں نہیں آتے، یا بظاہر ناممکن نظر آتے ہیں۔ جو کام عقل صدیوں نہیں کر پاتی، اقبال کا جذبہ عشق چند لمحوں میں کر دیتا ہے۔ اقبال کے اس جذبے اور تصور کی مثال، یوں دی جا سکتی ہے کہ قیام پاکستان جیسا مشکل کام اس جذبے کے باعث ظہور پذیر ہوا۔

قارئین : ہماری تحریر پسند آئے تو شیئر ضرور کریں ، شکریہ

نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسین علیہ السلام کا کربلا کے میدان میں، اسلام کی سر بلندی کیلئے جذبہ شہادت، اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کا خداکی مرضی کی خاطر آگ میں کودنا، یا جوان بیٹے کو رضائے الٰہی کیلئے ذبح کرنے کو تیار ہوجانا، شاعر مشرق مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے تصور عشق کی بہترین مثالیں ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ اقبال کا تصورِ عشق، محض رضائے الٰہی اور خوشنودیِ سرکار دو عالم کے جذبے پر مبنی ہے، اور اقبال کے نزدیک یہ تصور یا جذبہ ہر مسلمان کے دل میں موجزن ہونا ضروری ہے۔

ایسی منفرد تحریروں، خبروں سے اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں: (سوشل میڈیا پر)

شاعر مشرق مصورِ پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply