Afzal Tauseef 107

اردو، پنجابی کی نامور شاعرہ اور ادیبہ افضل توصیف کی پانچویں برسی

Spread the love

لاہور(جتن آن لائن ادبی نیوز ) شاعرہ ادیبہ افضل توصیف

اردو اور پنجابی کی نامور شاعرہ اور ادیبہ افضل توصیف کی پانچویں برسی آج 30 دسمبر کو

منائی جارہی ہے- افضل توصیف 18 مئی 1936 کو مشرقی پنجاب ، ہوشیر پور ، سمبل گاؤں میں

پیدا ہوئی تھیں۔ ہجرت کے بعد توصیف کا کنبہ دریا کے خون سے گزرتا ہوا لاہور کے والٹن کیمپ

پہنچا۔ تقسیم کے دوران ان کے بیشتر خاندان کوشہید کردیا گیا تھا۔ مزید پڑھیں

افضل توصیف کے والد چودھری مہدی خان پولیس افسر تھے جنہیں زیارت میں قائداعظم محمد علی

جناح کی خدمت کا موقع ملا۔ توصیف کا کنبہ کوئٹہ میں رہ گیا۔ انہوں نے گورنمنٹ گرلز سکول کوئٹہ

سے میٹرک اور گورنمنٹ گرلز کالج کوئٹہ سے بیچلرز کیا۔ اعلی تعلیم کیلئے وہ لاہور چلی گئیں اور

گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ماسٹر کی۔

انہوں نے اورینٹل کالج میں داخلہ بھی لیا لیکن کچھ ذاتی وجوہات کی بناءپر اسے چھوڑ دیا اور ایم اے

اردو (نجی) کی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ ہوم اکنامکس کالج میں پڑھایا، بعد میں

کالج آف ایجوکیشن میں تدریس کا آغاز کیا اور ریٹائرمنٹ تک وہیں رہیں۔

توصیف نے پنجابی اور اردو میں 30 کتابیں لکھیں اور مختلف اخبارات کیلئے مضامین لکھے۔ ان کا سفر

نامہ ہندوستانی دورے پر مبنی “ والے دے پیچے پھیچے ” پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ، آرٹ اینڈ

کلچر نے شائع کیا تھا۔ انہیں 2010 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

وہ ان اہم ادیبوں میں شامل تھیں جیسے شفقت تنویر مرزا جنہوں نے ملک کے تمام صوبوں کا دورہ کیا

اور سفارشات پیش کیں کہ پنجاب میں بھی زبان و ثقافت کا ایک انسٹی ٹیوٹ ہونا چاہئے۔ اس کے بعد

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ، آرٹ اینڈ کلچر تشکیل دیا گیا۔

وہ ہمیشہ مظلوم اور دبے ہوئے لوگوں کی بات کرتی تھیں۔ ان کی سوانح عمری’دیکھی تیری دنیا‘ سے

بہت شہرت ملی ۔ ان کی مشہور تصانیف میں ”زمیں پر لوٹ آنے کا دن، شہر کے آنسو، سوویت یونین

کی آخری آواز، کڑوا سچ اور پنجیواں گھنٹا کے نام سرفہرست ہیں- آپ 30 دسمبر 2014 کو وفات

پاگئیں-

شاعرہ ادیبہ افضل توصیف

Leave a Reply