شادی ہالز،رہائشی عمارتیں نہیں توڑینگے ،عدالتی کمیشن بنایا جائے،میئرکراچی

Spread the love

سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے نوٹسز دیئے جانے پر آل کراچی شادی ہال ایسوسی ایشن نے اتوار (27 جنوری) سے شہر کے شادی ہال بند کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق ایس بی سی اے پیر کل (28جنوری) سے آپریشن شروع کرے گی۔نوٹس ملنے کے بعد شادی ہال مالکان سوک سینٹر میں واقع ایس بی سی اے کے مرکزی دفتر پہنچ گئے اور احتجاج کیا۔شادی ہال مالکان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں صرف تین دن کا نوٹس دیا گیا ہے، ہم کہاں کام کریں؟‘‘۔شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وفد کے ایس بی سی اے حکام سے مذاکرات ناکام ہونے پر سوک سینٹر میں موجود سیکیورٹی عملے کی مداخلت پر مظاہرین منتشر ہوگئے ،دوسری جانب صدر آل کراچی شادی ہال ایسوسی ایشن نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اتوار سے کراچی کے شادی ہال بند کیے جا رہے ہیں۔دوسری طرف میئر کراچی وسیم اختر نے سپریم کورٹ کی جانب سے عمارتیں گرانے سے متعلق فیصلے پر عمارتیں اور شادی ہال توڑنے سے انکار کردیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر 500 عمارتیں گرانے پر عمل درآمد روکا جائے اور سندھ حکومت عمارتیں گرانے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرے۔میئر کراچی کاکہنا تھا کہ جن عمارتوں کو گرانے کا کہاگیا وہ انکروچمنٹ نہیں بلکہ زمین کے استعمال کی تبدیلی کا معاملہ ہے، جن شادی ہالز میں شادی کی بکنگ ہے وہ بھی گرانے کو کہا گیا ہے۔وسیم اختر نے اعلان کیا کہ بلڈنگ توڑیں گے اور نہ ہی شادی ہال توڑیں گے البتہ غیر قانونی شادی ہالز گرائے جائیں گے جبکہ رہائشی علاقوں میں قائم شادی ہالز کو نہ توڑا جائے۔میئر کراچی نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان سے عمارتیں گرانے کے احکامات پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہیں، یہ ایک انسانی مسئلہ بن چکاہے، جب 525 کچی آبادیاں ریگولائز ہوسکتی ہیں تو ان مسائل پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔اس موقع پر ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کو 40 سال جس طرح لوٹا گیا ہے اس پر عدالتی کمیشن بنایا جائے۔اس حوالے سے وزیر بلدیات سعید غنی نے ہے کہ فوری طورپر کوئی شادی ہال نہیں گرایا جائے گا، معاملے پر غور کیلئے کمیٹی بنادی ہے، جو شادی ہال غیر قانونی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیر سے کارروائی نہیں ہو گی، سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کریں گے،انہوں نے قانونی ہالز کے مالکان کو بے فکر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کرنے والے بکنگ کرانے والوں کا احساس کریں۔سندھ حکومت نے شادی ہالز کے خلاف پیر سے کارروائی روکنے کا فیصلہ کا فیصلہ کیا ہے۔مشیراطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاق جان لے کراچی لاوارث نہیں ہے، اسلام آباد میں بھی رہائشی پلاٹوں کو کمرشل کیا گیا، سندھ والوں کیلئے وفاق کا ہمیشہ دہرا معیار ہوتا ہے، پیپلزپارٹی انسداد تجاوزات کے نام پر شہریوں کو بے گھر کرنے کی حامی نہیں، ایم کیوایم بھی انگلی کٹا کرشہید بننے کی کوشش کر رہی ہے۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کراچی کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے، ایم کیوایم نے پہلے زمینوں پر قبضے کر کے گھر بنائے پھر انہی کو گرایا، کیماڑی سے سرجانی تک پی پی نے کراچی کی تعمیر کی ہے، سندھ کا پانی بند کر کے کراچی کو پیاسا رکھنے کی سازش ہو رہی ہے۔

Leave a Reply