0

شادی کی عمر18سال مقرر، بل منظور

Spread the love

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بچوں کی شادی پر پابندی کا(ترمیمی )بل 2018 منظور کرلیا،بل کے تحت بچے سے مراد ایسا شخص ہو گا جسکی عمر 18سال سے کم ہو گی۔بدھ کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی سربراہی میں ہوا،اجلاس میں چا ئلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی )بل 2018پر غور کیا گیا،بل کی محرک سینیٹر شیری رحمان نے کہا یہ بل چائلڈ میرج کو روکنے کی کوشش ہے ، بچپن کی عمر کا تعین ہونا چاہیے ،18سال کی عمر نارمل ہے،سینیٹر محمد علی سیف نے کہا پاکستان نے بہت سارے بین الاقوامی کنونشنز پر دستخط کئے ہوئے ہیں جن میں 18سال کی عمر کا تعین ہے ،سینیٹر عائشہ رضا نے بل کی حمایت کی ،سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا ایسے علاقے ہیں جہاں 5 سا ل میں نکاح کر دیا جاتا ہے،بچی 40دن کی ہوتی ہے تو اس کا بھی نکاح پڑھا دیا جاتا ہے،تھر میں 11بارہ سال میں بچی کی شادی ہو جاتی ہے ،شناختی کارڈ اور ووٹ کا حق 18سال پر دیا جاتا ہے،یہ بل ٹھیک ہے اس کو پاس کرنا چاہیے ،سینیٹر ثنا جمالی نے بھی بل کی حمایت کی،سینیٹر کیشو بائی نے کہا میری شادی بھی 14سال کی عمر میں ہوئی ،شادی کےلئے 18سال کی عمر ضروری ہے تھر میں چھوٹی عمر میں شادی ہو جاتی ہے ،سینیٹر ہدایت اللہ نے بھی بل کی حمایت کی اور کہا امید ہے اس بل کی فاٹا تک توسیع ہو گی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں ،یہ بچوں سے متعلق ہے صرف لڑکیوں سے متعلق نہیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا ہم اس بل کو منظور کرتے ہیں ۔ اجلاس کے دوران نیب حکام کی جانب سے بھی بریفنگ دی گئی،نیب حکام نے بتایا میاں جاوید کی وفات جوڈیشل کسٹڈی میں ہوئی جبکہ مجاہد کامران کے الزامات کی ہم تردید کر چکے ہیں،واش رومز میں کوئی کیمرے نہیں ،اجلاس میں سرائیکی نیشنل پارٹی کے رہنما کے لاپتہ ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا ، چیئرمین کمیٹی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کو اس معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کر دی۔

Leave a Reply