Newark, FM Shah Mehmood Qurashi Talks With Media

سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں،پاک چین فیز ٹو معاہدہ طے پاچکا، شاہ محمود

Spread the love

ملتان(جے ٹی این آن لائن بیورو) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے

بھارتی وزیراعظم ہمیں سفارتی طور پر کمزور اور تنہا کرنا چاہتا ہے، ہمارا

امتحان ابھی ختم نہیں ہوامزید کا سامنا ہے مگر ہم پراعتماد طریقے سے آگے بڑھ

رہے ہیں۔ پڑوسی ممالک بغیرتحقیق پاکستان پر انگلی اٹھا دیتے ہیں ۔ہمارا ایک

پڑوسی افغانستان اپنی ساری قباحتیں اور مشکلات پاکستان پر ڈالتا ہے، عرصے

سے وہاں جنگ جاری ہے، افغانستان کہتا تھا پاکستان سے دہشت گرد وہاں آ کر

دہشت گردی کرتے ہیں، دوسرے پڑوسی ایران کا کہنا ہے جنداللہ تحریک سے

لوگ ایران میں آکر فساد کرتے ہیں، چین کہتا ہے ای ٹی آئی ایم تنظیم چین آ کر

کارروائیاں کرتی ہے۔ ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

شاہ محمود کا مزید کہنا تھا بھارت سارک کو یرغمال بنا چکا ہے۔ہم بھانپ

گئے تھے مودی الیکشن سے پہلے کوئی نہ کوئی حرکت کرے گا، دوستی کا

ہاتھ بڑھاؤ گے تو ہاتھ تھامیں گے جنگ کا مکا دکھاؤ گے تو مکا توڑ دیں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والے جنازوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹا جاتا ہے،

پہلی بار او آئی سی اجلاس میں کشمیر میں مظالم کو ریاستی دہشت گردی کہا گیا،

جو حالات کشمیر میں ہیں اگر میں بھارت کا وزیر خارجہ ہوتا تو مجھے رات کو

نیند نا آتی ،روس اور بھارت کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن آج روس کے

ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آرہی ہے، پلوامہ معاملے پر روس نے پاکستان پر

نکتہ چینی نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ گزشتہ حکومت

میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہوا اور معاشی اعتبار سے پاکستان دیوالیہ

ہونے کے قریب تھا۔ افغانستان میں امن اور استحکام کی کرن نظر آ رہی ہے اور

ناامیدی میں امید کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، پاکستان افغانستان میں امن

چاہتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہوگا۔ عمران خان نے ہمیشہ کہا

افغان مسئلہ مذاکرات سے حل ہوگا جس پر انہیں طالبان خان کا طعنہ دیا گیا تاہم آج

عمران خان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا، آج امریکا، افغانستان دوحا میں مذاکرات

کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور عرب امارات نے سالوں بعد پاکستان پر توجہ دینی

شروع کی اور اربوں ڈالرز کے منصوبوں کے معاہدے کیے جبکہ حالیہ مسائل

میں سعودی عرب نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں

کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، سعودی عرب ہمارا دوست اور محسن ملک ہے،

مشرقی وسطی سے بے شمار پاکستانی روزگار حاصل کرتے ہیں اور ہماری

معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہونا پاکستان کے

مفاد میں ہے، صدر ٹرمپ نے بھی امن میں ہماری کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔

امریکا اب پاکستان کے بجائے بھارت کو اپنا اسڑیٹیجک اتحادی سمجھتا ہے ۔

ایران کے ساتھ تعلقات سنبھالنے کی کوشش جاری ہے عمران خان نے کہا ہم

سعودیہ اور ایران کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں

مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں۔ سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں یہ

اگلے مرحلے میں جا چکا اور پاکستان نے سی پیک فیز ٹو کا معاہدہ کر لیا ہے۔

سی پیک 2 میں غربت مٹانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے

اپنی سیاسی زندگی میں پاکستانی قوم میں پہلی بار 65 والا جذ بہ دیکھ رہا ہوں ۔

Leave a Reply