new zara meri bhi suno2

سی پیک حقیقت، سردیوں میں پاک بھارت جنگ، امریکی محقق

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) سی پیک حقیقت

پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے بارے میں اپنا رد عمل تیار کرتے ہوئے، امریکہ کو خاص طور پر بھارت اور پاکستان، کے درمیان گہری دشمنی کے تناظر میں علاقائی استحکام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

——————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت ایٹمی جنگ ٹالنے کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر، نیویارک ٹائمز
——————————————————————————-

امریکہ کو پاکستان میں چین کیساتھ کس طرح نمٹنا چاہیے، کے عنوان سے جاری کردہ نئی امریکی رپورٹ میں، واشنگٹن سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ، امریکہ سی پیک پر رد عمل دیتے ہوئے خطے میں، چین کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے درپیش طویل المدتی جغرافیائی و سیاسی چیلنجز پر بھی نگاہ رکھے۔

پاکستان کیلئے چین ایک اہم شراکت دار اور لائف لائن

رپورٹ تشکیل دینے والے ڈینیئل مارکی کا کہنا تھا، سی پیک ناکام نہیں ہو سکتا، یہ سیاسی اور سفارتی طور پر ناممکن ہے۔ پاکستان کے لپے چین ایک اہم شراکت دار اور لائف لائن ہے، جبکہ چین کے لیے سی پیک اس کے ترقیاتی ماڈل، ایک اہم منصوبہ دونوں کی برآمد کے لیے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ کارنیگی سنگھوا سینٹر فار گلوبل پالیسی واشنگٹن، کے چین کے ماہر ڈینیئل مارکی نے پاکستان میں چین کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیتے ہوئے، بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر توجہ دینے کی ضرورت کو نمایاں کیا۔

پاک بھارت تناؤ روکنے کیلئے امریکہ بیجنگ کی تعریف کرے

انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران، بھارت اور پاکستان ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، اس موسم سرما میں ہوسکتا ہے بھارت اور پاکستان کا ایک اور فوجی بحران پیدا ہو۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا، کہ وہ بھارت اور پاکستان کو جنگ سے روکنے کے لیے، ایک ممکنہ سفارتی شراکت دار کے طور پر بیجنگ کے کردار کی تعریف کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چین اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ، جنوبی ایشیائی بحران کے درمیان تعاون کو روکتا ہے تو، تمام فریقین کی شکست ہوگی۔

نئی دہلی اسلام آباد کیلئے سفارتی پالیسی کو نیا طرز دنیا ضروری

ڈینیئل مارکی نے نشاندہی کی کہ، اس وقت واشنگٹن پاکستان کیخلاف بھارتی فوجی حملوں کو، جواز انگیز ردعمل کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ بیجنگ اپنے زیادہ بڑے ہمسایہ ملک کی جارحیت، کیلئے پاکستان کی پوری قوت سے ردعمل دینے کی، ذمہ داری پر زور دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی سے خطرناک ہے-

قارئین : خبر اچھی لگے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں

امریکہ، چین دونوں کو مستقبل کی نئی دہلی اور اسلام آباد سے سفارتی مصروفیات کو نئے طرز پر لے جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ، کو امریکی پالیسی سازوں کیلئے، پہلی اور سب سے فوری تشویش ہونا چاہیے، تاہم انہیں افغانستان سے مکمل فوجی انخلا، کے منصوبوں پر چین کے اثرات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

سی پیک حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply