ملک بھر میں سیکنڈری تعلیم کے فروغ کیلئے طلبہ کو وظیفہ دینے کا فیصلہ

ملک بھر میں سیکنڈری تعلیم کے فروغ کیلئے طلبہ کو وظیفہ دینے کا فیصلہ

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن ایجوکیشن نیوز) سیکنڈری تعلیم طلبہ وظیفہ

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر صدارت بورڈ نے اپنے

مستحق گھرانوں کیلئے سیکنڈری ایجوکیشنل کنڈیشنل کیش ٹرانسفر (سی سی ٹی)

پروگرام کی منظوری دیدی۔ یہ سیکنڈری سکول پروگرام جولائی 2021ء میں

ملک بھرکے تمام اضلاع میں نافذ کیا جائیگا۔ نیا ثانوی تعلیم سی سی ٹی احساس

سٹیپینڈس پالیسی کی شکل میں تشکیل دیا گیا ہے جس میں لڑکوں کے مقابلے

لڑکیوں کیلئے زیادہ وظیفہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔

=–= تعلیم سے متعلق مزید ایسی خبریں (=–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق بی آئی ایس پی بورڈ کی جانب سے یہ پالیسی فیصلہ احساس

کے پرائمری ایجوکیشن سی سی ٹی، وسیلہ تعلیم ڈیجیٹل کی توسیع ہے، جو اسے

ثانوی سطح تک بڑھا رہا ہے۔ اس پروگرام کو صوبائی محکمہ تعلیم کیساتھ قریبی

ہم آہنگی کیساتھ نافذ کیا جائیگا تاکہ ڈبل ڈپنگ و نقول نقل سے بچا جا سکے۔ پسماندہ

گھرانوں کے بچوں کو5 لاکھ روپے کی مشروط نقد گرانٹ فراہم کی جائیگی۔ لڑکے

کیلئے 2500 روپے سکول میں 70 فیصد حاضری کی تکمیل پر اور لڑکیوں کے

لئے 3000 روپے فی سہ ماہی کے حساب سے ادا کی جائیگی۔ تمام ادائیگی بائیو

میٹرک کے ذریعہ بچوں کی ماﺅں کو ادا کی جائیگی۔ تعلیم کے حصول میں غربت

سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس وقت 6 سے 16 سال کی عمر کے 18.7 ملین بچے

موجود ہیں جو سکول سے باہر رہتے ہیں اور کو ویڈ-19 کے با عث اس میں اضافہ

ہو سکتا ہے۔

=-= ثانوی تعلیم میں غریب ترین دو کوئینٹل کیلئے شرح سب سے زیادہ
—————————————————————————————-

ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017ء (کپلن اور میئر اندازوں) اس بات کی نشاندہی

کرتا ہے کہ ثانوی تعلیم میں غریب ترین دو کوئینٹل کیلئے شرح سب سے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ، ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کیلئے اندراج

کے رجحانات کی حامل گھریلو آمدنی اور اخراجات کا سروے (2018-2019) سے

یہ پتہ چلتا ہے لڑکیاں غریب ترین کوانٹل کے ابتدائی اندراج کی سطح میں سخت

پسماندگی کا شکار ہیں، اور وہ گریڈ 5-8 میں تیزی سے پیچھے چلی جاتی ہیں۔

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر نشتر نے کہا احساس کا مقصد

پاکستان میں غریب ترین خاندانوں کو غربت سے نکالنا ہے اور ثانوی تعلیم کے

غیر رسائی والے علاقوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار میں مدد دیتا ہے۔ پوسٹ

کوویڈ احساس حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ثانوی تعلیم سی سی ٹی نچلے دطبقے

کو ثانوی تعلیم تک رسائی اور مالی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد دے گی۔ اس بات

کو یقینی بنانا کہ طالب علموں کو سیکنڈری سطح کی تعلیم میں نظر انداز تو نہیں

کیا جا رہا، احساس ثانوی تعلیم کا سی سی ٹی لڑکیوں کیلئے پوری طرح سرگرمی

کا مظاہرہ کررہا ہے، جس کیلئے وہ وظیفے کی زیادہ رقم فراہم کرتے ہیں۔ تخمینے

کے مطابق سکول میں پڑھنے کے اخراجات عمر کیساتھ بڑھتے ہیں اور 10 سال

کی عمر کے بعد یہ کہیں زیادہ ہو جاتے ہیں لہٰذا پروگرام کے تحت نو سال سے 18

سال کی عمر کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے سیکنڈری سکول کے بچے

اب احساس کے وظیفہ کے حقدار ہوں گے۔ یہ پروگرام احساس کی اسٹیئرنگ کمیٹی

برائے تعلیم سی سی ٹی کی براہ راست نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔

سیکنڈری تعلیم طلبہ وظیفہ

Leave a Reply